آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر یکم جمادی الثانی 1441ھ 27؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

محمد وسیم کی شکایات کا ازالہ کرنا ہوگا

دنیائے باکسنگ کے پروفیشنل ایرینا میں پاکستانی باکسر محمد وسیم کی کامیابیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ محمد وسیم نےیک بار پھر خود کو ناقابل شکست ثابت کیا اور دبئی میں ہونے والی پروفیشنل باکسنگ میں تین مرتبہ کے ڈبلیو بی سی لائٹ فلائی ویٹ چیمپئن میکسیکو کے گانیگان لوپیز کو ہرا کر پاکستانی پرچم رنگ میں لہرایا۔

مقابلے سے قبل محمد وسیم حریف کا سامنا کرتے ہوئے بہت پرجوش دکھائی دیئے اور تقریباً پوری بائوٹ میں مخالف پر تابڑ توڑ حملے کرکے اسے اپنے دفاع پر مجبور کئے رکھا وہ آٹھویں اور آخری رائونڈ تک مسلسل مخالف پر حملے کرتے رہے۔ لوپیز اگرچہ وسیم سے کہیں زیادہ تجربہ کار باکسر تھے۔ انہوں نے اپنے باکسنگ کیریئر کے دوران36 فائٹس جیتنے کا اعزاز حاصل کیا ہوا تھا لیکن اس کے باوجود جیت کا عزم لئے ہوئے رنگ میں اترنے والے وسیم کا مقابلہ نہ کرسکے اور شکست کھا گئے۔ 

لوپیز اور محمد وسیم کے درمیان سپر فلائی ویٹ کیٹیگری کا مقابلہ8 رائؤنڈز پر مشتمل تھا جہاں ججز نے محمد وسیم کو75کے مقابلے میں 77 پوائنٹس سے فاتح قرار دیا۔ محمد وسیم نے رواں سال13 ستمبر کو دبئی کے میرینہ باکسنگ ہال میں فلائی ویٹ باٹ باکسنگ چیمپیئن شپ میں فلپائنی باکسر کونراڈوسور کو صرف82 سیکنڈ میں ناک آؤٹ کرکے فاتح ہونے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ مقابلے سے قبل پاکستانی باکسر کا کہنا تھا کہ لوپیز اگرچہ ان سے زیادہ تجربہ کار ہیں اور کئی اہم فائٹس انہوں نے جیتی ہیں لیکن میں نے بھی بھرپور تیاری کی ہے اور امید ہے کہ میں ان کے خلاف کامیابی حاصل کروں گا۔ 

عالمی مقابلوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرکے ٹائٹل کا حصول ممکن بنانے کے بعد جب وسیم پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھتے تو کبھی بھی ان کی حکومتی یا کسی اور دوسرے حلقوں میں پذیرائی نہیں ہوتی اور وہ عام کھلاڑی نہیں آدمی کی طرح اپنے عزیز و رشتہ داروں اور دوستوں کے ہمراہ آبائی شہر کوئٹہ روانہ ہوجاتے۔ 

ان سب باتوں نے محمد وسیم کے دل پر گہرا نقش چھوڑا ، جس کی وجہ سے انہوں نے گزشتہ سال مالی مشکلات کے باعث پاکستانی شہریت چھوڑنے پر غور شروع کردیا تھا۔ ان کا کہنا تھاکہ مالی مشکلات کا شکار ہوں، اپنے ملک پاکستان کے لیے کھیلنا چاہتا ہوں، تاہم مالی مشکلات کی وجہ سے شہریت ترک کرنے پر غور کررہا ہوں اور کوریا یا امریکا کی شہریت کے لیے درخواست دے سکتا ہوں۔ محمد وسیم نے کہا کہ اسپانسر نہ ہونے کے باعث بہت مسائل کا شکار ہوں، عالمی ٹائٹل کے لیے جلد ایک انٹرنیشنل فائٹ میں حصہ لوں گا جو شاید پاکستان کےلیے میری آخری فائٹ ہو۔ 

میں پاکستان کی شہریت ترک کرنا اور ملک کی نمائندگی کو چھوڑنا نہیں چاہتا لیکن مالی مشکلات کی وجہ سے مجبور ہوں۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ پاکستانی پرچم دنیا بھر میں لہرانے والے اس ہونہار کھلاڑی کی ہر ہر سطح پر حوصلہ افزائی ہونی چاہئے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان تو خود اسپورٹس مین رہ چکے ہیں ان سے زیادہ کون جانتا ہے کہ اگر کامیاب کھلاڑی کا اپنے ملک میں واپس آنے پر شاندار استقبال نہ ہو تو کھلاڑی کے کیا جذبات ہوتے ہیں؟ 

بہرحال محمد وسیم کی عالمی اور پاکستانی باکسنگ میں گرانقدر خدمات پر اس کی شان کے شایان انعام و اکرام سے نوازا جانا چاہئے اور ان کی تمام شکایتوں کا ازالہ کیا جانا چاہئے تاکہ وہ مستقبل میں باکسنگ کے عالمی مقابلوں میں مزید پرجوش اور پرعزم ہوکر پاکستان کا نام بلند کرسکیں۔ 

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید