آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ3؍ جمادی الثانی 1441ھ 29؍ جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ایغور مسلمانوں کے مسئلے پر امریکا کی سیاست

مغربی ذرائع ابلاغ کی طرف سے آج کل ایسی خبریں آ رہی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ چین میں ہزاروں ایغور مسلمانوں کو زبردستی اپنے خیالات بدلنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ یہ بھی الزام ہے کہ چین میں کچھ ایسی سخت جیلیں بنائی گئی ہیں جہاں نہ صرف چینی مسلمان بلکہ دیگر قیدی بھی زیرحراست ہیں۔ان مغربی ذرائع ابلاغ کے الزامات کے جواب میں چین کا موقف ہے کہ وہ چین کے مغربی علاقے سنک یانگ میں ایسے مراکز چلا رہی ہے جہاں مسلمانوں کو رضاکارانہ طور پر تعلیم و تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ آیئے دیکھتے ہیں یہ مسئلہ کیا ہے۔

سنگ یانگ جس کو Xingjiangلکھا جاتا ہے اور عربی میں شنجاک کہا جاتا ہے، چین کے شمال مغربی علاقے میں ایک دریا ہے جسے چین کی سرکاری دستاویزات میں خودمختار کہا جاتا ہے۔ چین کے کل تینتیس صوبوں میں سنک یانگ رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا ہے ،اس کا علاقہ ڈیڑھ لاکھ مربع کلو میٹر سے زیادہ ہے، جس کے بعد تبت اور اندرون منگولیا کے نمبر ہیں۔ اس طرح صرف یہ تین صوبے چین کے مجموعی رقبے کا بیالیس فیصد ہیں۔

سنگ کی آبادی صرف دو کروڑ ہے،جب کہ تبت کی آبادی صرف تیس لاکھ اور اندرونی منگولیا کی ڈھائی کروڑہے۔ اس طرح ان تین سب سے بڑے صوبوں کی آبادی مجموعی طور پر پانچ کروڑ سے بھی کم ہے یعنی چین کے بیالیس فیصد رقبے پر اس کی صرف تین، ساڑھے تین فیصد آبادی مقیم ہے لیکن سنک یانگ کا مسئلہ یہ ہے کہ کبھی یہاں صرف ایغور مسلمان ہی بستے تھے مگر بتدریج پچھلے ستر سال میں چین کے دیگر علاقوں سے چینیوں کو لا کر یہاں آباد کیا گیا ہے، جس کے باعث اب سنک یانگ کی دو کرڑو آبادی میں آدھے سے بھی کم رہ گئے ہیں یعنی بہ مشکل ایک کروڑ۔

چین کا سرکاری موقف یہ ہے کہ گزشتہ تین برسوں میں سنک یانگ میں مسلم آبادی میں انتہاپسندانہ رجحانات کے خاتمے کے لئے رضاکارانہ طور پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ کا یہ دعویٰ کہ حراستی مراکز میں دس لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کو قید رکھا گیا ہے، بڑا مضحکہ خیز معلوم ہوتا ہے، کوئی ملک کسی علاقے کی اتنی بڑی تعداد کو قید نہیں رکھ سکتا۔ یہ تو ممکن ہے کہ دس، بیس ہزار یا حتیٰ کہ لاکھ ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو زیر حراست رکھ لیا جائے ،مگر دس لاکھ کی تعداد میں بہت مبالغہ آرائی معلوم ہوتی ہے۔

مغربی ذرائع ابلاغ یہ بھی الزام لگاتے ہیں کہ ان مراکز میں قید ہر فرد کی زندگی کے ہر پہلو کی نگرانی کی جاتی ہے۔ اب اگر سوچا جائے تو آج کل کے سماجی میڈیا کے ذریعے دنیا کے ہر خطے میں کسی بھی شخص کی زندگی کے تقریباً ہر پہلو کی نگرانی کی جا سکتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان حراستی مراکز میں زیر تربیت افراد کو بستر کی ایک مقررہ جگہ فراہم کی جاتی ہے اور قطاریں بنانے اور مقررہ نشستوں پر بیٹھنے کا کہا جاتا ہے۔ ہنر سکھانے کے دوران بھی انہیں مقررہ جگہوں پر ہی ہونا ہوتا ہے اس طرح انہیں نظم و ضبط کا پابند کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں بھی فاٹا اور سوات وغیرہ میں طالبان کے خلاف کارروائی کی گئی تو ایسے تربیتی مراکز بنائے گئے جن میں سابقہ انتہاپسندوں کو پیشہ ورانہ تربیت دی گئی اور انہیں ہنر سکھائے گئے۔ اس عمل میں بظاہر ایسی کوئی برائی نظر نہیں آتی کہ اس کی مذمت کی جائے، ہاں دہشت گردوں کی سرپرستی کی ضرور مذمت کی جانی چاہئے۔

ایک الزام کے مطابق2017ء میں صرف ایک ہفتے کے دوران پندرہ ہزار باشندوں کو ان حراستی مراکز میں بھیجا گیا تھا اور اب کہا جا رہا ہے کہ انہیں صرف اس وقت رہا کیا جائے گا جب وہ ظاہر کر سکیں کہ انہوں نے اپنی حرکتیں ٹھیک کر لی ہیں اور وہ ماضی کی انتہاپسندانہ سرگرمیوں کو غیرقانونی سمجھنے کا اعلان کریں۔ 

اس کے بعد بھی کمیونسٹ پارٹی کی کمیٹیاں اس بات کا جائزہ لیتی ہیں کہ کس کو چھوڑا جائے اور کس کو نہیں۔چین کا سرکاری موقف یہ ہے کہ ان اقدامات سے مقامی لوگوں کی حفاظت ہوتی ہے اور سنک یانگ میں گزشتہ تین سال سے کوئی دہشت گرد حملہ نہیں ہوا ہے۔ چین کے مطابق دہشت گردوں پر نظر رکھنا اور ان سے متاثر ہونے والے لوگوں کو ٹھیک راستے پر لانا ضروری ہے۔

مسلم آبادی کے غائب ہونے والے لوگوں میں ایک بڑا نام جغرافیہ کے پروفیسر تاشیولات طیب کا ہے جو دو سال قبل تک سنک یانگ یونیورسٹی کے سربراہ تھے،پھر اچانک2017ء میں وہ غائب ہو گئے اور چینی حکام نے بھی اس بارے میں کچھ نہیں بتایا پھر یہ افواہیں اڑنے لگیں کہ پروفیسر طیب چونکہ علیحدگی پسندوں سے ہمدردی رکھتے تھے اس لئے انہیں چینی حکام نے جبری طور پر گمشدہ کر دیا ہے۔یہ بھی الزام لگایا گیا کہ پروفیسر طیب پر خفیہ مقدمہ چلا کر انہیں سزائے موت دے دی گئی ہے۔ 

اسی طرح کئی دیگر ادیبوں اور اساتذہ اور وکلاء وغیرہ کے خلاف بھی کارروائیاں کرنے کی خبریں آتی رہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پروفیسر طیب2010ء سے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے رکن بھی تھے۔ان تمام الزامات کو استعمال کرتے ہوئے پچھلے مہینے امریکا نے28چینی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ مسلمانوں سے بدسلوکی برداشت نہیں کی جائے گی اور اس میں ملوث چینی اہلکاروں پر ویزے کی پابندیاں لگائی جائیں گی جن کا اطلاق چینی حکومت، کمیونسٹ پارٹی اور دیگر متعلقہ افراد پر ہو گا۔

امریکا مسلسل یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ چینی حکومت نہ صرف مسلم آبادی بلکہ قزاق اور کرغیز مسلم باشندوں سے بھی بدسلوکی کرتی ہے۔ اس طرح امریکا، چین کو انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں کا مرتکب قرار دیتا ہے اور چین اسے اندرونی معاملات میں مداخلت گردانتا ہے۔

چین کو چاہئے کہ وہ سنک یانگ اور تبت وغیرہ کے علاقوں میں مقامی لوگوں کی ثقافت، مذہب اور زبان کا تحفظ اور ترویج کرے۔ چین بھی پاکستان کی طرح ایک کثیرالقومیتی ملک ہے جہاں کئی قومیتیں بستی ہیں جنہیں زبردستی اپنی شناخت بدلنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

سوویت یونین نے ستر سال لوگوں کے ذہنوں سے زبردستی مذہب نکالنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ چین بھی ایسا نہیں کر سکتا۔ انتہاپسندی، بنیاد پرستی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ان سب کو ایک لاٹھی سے نہیں ہانکا جا سکتا۔ ہر ایک کو اپنے عقیدے پر قائم رہنے کا حق ہے بشرط یہ کہ وہ اپنا عقیدہ دوسروں پر مسلط نہ کرے اور نہ ہی تشدد کا راستہ اپنائے۔ یہی راستہ بہتر ہے۔

عالمی منظر نامہ سے مزید