آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ26؍ جمادی الاوّل 1441ھ 22؍ جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی ملک کی معیشت صحیح معنوں میں اسی وقت پنپتی ہے جب حکومتی سطح پر ایسی جز وقتی اور طویل المدت اقتصادی پالیسیاں وضع کی جائیں جو مقامی صنعتوں کو فروغ دینے کے ساتھ نئی صنعتیں لگانے کیلئے ساز گار ماحول پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکیں۔ بدقسمتی سے وطن عزیز میں اس کلیے کو اہمیت نہ دینے کی انتظامی روش نے اقتصادی شعبے کو پائیدار بنیادوں پر استوار نہ ہونے دیا بلکہ حالات تو اس نہج پر پہنچ گئے کہ وہ صنعتی شعبے جو کل تک معاشی نمو کی بڑھوتری میں مثبت کردار ادا کررہے تھے، انحطاط کا شکار ہو گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ سیمنٹ، سرامکس، آٹو اور تعمیراتی انڈسٹری میں پیداواری صلاحیت کم ہوتی جارہی ہے، تشویشناک امر یہ ہےکہ ملک بھر میں تقریباً 80فیصد لوہے کے کارخانے بند ہو چکے، جبکہ سیمنٹ کے کارخانے صرف 30فیصد پیداواری صلاحیت پر چل رہے ہیں۔ کم و بیش یہی صورتحال آٹو موبائل، ٹیکسٹائل و دیگر شعبوں کی بھی ہے چونکہ صنعتیں مکمل پیداواری صلاحیت پر چلنے سے قاصر ہیں اسی لئے بجلی اور گیس کی طلب رسد سے کم ہو گئی ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ پہلے بجلی کی کمی تھی جس سے صنعتیں بند ہورہی تھیں اب بجلی کی پیداوار 25ہزار میگا واٹ لیکن کھپت 16ہزار سے بھی کم ہے اور کوئلے و آر ایل این جی کے نئے پاور پلانٹ بجلی کی پیداوار کم یا

بند کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اس بڑھتے صنعتی انحطاط کی بنیادی وجہ معاشی ماہرین کے مطابق نئی اقتصادی و مالیاتی پالیسیاں ہیں جن کے باعث نہ صرف تجارتی صارفین کم ہو رہے ہیں بلکہ نئی صنعتیں بھی نہیں لگ رہیں۔ ضروری ہو گیا ہے کہ معیشت کی درستی کیلئےحکومتی ٹیم فوری طور پر اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے۔ اس باب میں غیر ملکی ٹیم پر انحصار کرنے کے بجائے ایسے ملکی اقتصادی ماہرین سے رجوع کیا جائے جو اپنے شعبوں میں قابلِ ذکر خدمات رکھتے ہیں اور مقامی معیشت کے اسرار و رموز سے بہتر طور پر آشنا ہیں۔