آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار17؍ ربیع الثانی 1441ھ 15؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

قومی احتساب بیورو (نیب) قومی دولت کی لوٹ کھسوٹ، کرپشن اور دیگر مالی بدعنوانیوں کے خاتمے کے لئے طویل عرصہ سے سرگرم عمل ہے جس میں پی ٹی آئی حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد غیر معمولی تیزی آئی ہے اور اب تک بدعنوان عناصر سے اربوں روپے کی لوٹی ہوئی دولت وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کرائی جا چکی ہے۔ نیب کی اس کارروائی کو جہاں بے پناہ سراہا گیا وہاں کرپشن کے کیسز میں اس کے انویسٹی گیشن کے طریق کار، ٹھوس ثبوتوں کے بغیر سمنوں کے اجرا، گرفتاریوں، ریفرنس دائر کرنے میں غیر معمولی تاخیر، بغیر مقدمہ کے ملزموں کو لمبے عرصے تک جیلوں میں بند رکھنے اور اس نوعیت کی دوسری شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ یہ شکایات سیاستدانوں کو بھی ہیں اور بیورو کریسی اور دوسرے طبقوں کو بھی۔ بیورو کریسی کو جو شکایات تھیں انہیں دور کرنے کے لئے سفارشات تیار کرنے کی غرض سے سیکرٹریوں کی سطح پر ایک کمیٹی بنائی گئی تھی جس نے نیب قوانین میں ترمیم کا مسودہ تیار کر لیا ہے جسے منظوری کے لئے وزیراعظم کو پیش کیا جائے گا۔ کمیٹی کی جانب سے نیب کو گڈ گورننس اور سروس ڈیلیوری میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ نیب کے اقدامات سے مالی کرپشن کے خلاف پی ٹی آئی حکومت اپنے ایجنڈے پر عملدرآمد کے قابل نہیں رہے گی۔ یہ شکایت بھی کی گئی کہ سرکاری افسروں کو کسی

ٹھوس ثبوت کے بغیر بلایا جاتا اور ہراساں کیا جاتا ہے۔ سول سرونٹس کی تضحیک گڈ گورننس کے اصولوں کے منافی اور ناقابل قبول ہے۔ اس سے بیورو کریسی کا فیصلہ سازی کا عمل متاثر ہوگا اور حکومتی عمل اور منصوبے سست روی کا شکار ہو جائیں گے۔ اس صورت حال کے تدارک کے لئے نیب قانون میں ترمیم کو ضروری قرار دیا گیا، وفاقی سیکرٹریز کمیٹی نے اس سلسلے میں جو تجاویز پیش کی ہیں ان میں کہا گیا ہے کہ کرپشن کیسز کا اطلاق 50کروڑ روپے سے زیادہ پر کیا جائے۔ پراسیکیوٹر جنرل نیب کی تعیناتی میں صدرِ مملکت اور چیئرمین نیب کا کردار ختم کرکے اس کا اختیار وفاقی حکومت کو دیا جائے۔ سرکاری افسروں کو طلب کرنے سے متعلق نیب کا اختیار ختم کیا جائے، نیب کی تحویل میں افسروں کو 90روز کے بجائے 14روز رکھا جائے۔ نیب کا کوئی افسر ریفرنس دائر ہونے تک تحقیقات سے متعلق بیان نہ دے۔ وفاقی سیکریٹریز کمیٹی نے 6رکنی اعلیٰ سطحی اسکروٹنی کمیٹی قائم کرنے کی تجویز دی جس کے تحت نیب اس کمیٹی کی منظوری کے بغیر بیورو کریٹس کے خلاف کارروائی نہیں کرے گا۔ بغیر منظوری کسی بیورو کریٹ کو گرفتار کیا جائے گا نہ اس کے خلاف انکوائری ہو گی۔ وفاقی سیکریٹریز کمیٹی کی تجاویز بادی النظر میں نیب کے خلاف بیورو کریسی کی شکایات کے ازالے کا موثر ذریعہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ احتساب کے عمل پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں مگر یہ سب کا، یکساں اور انصاف اور قانون کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہئے۔ احتساب سے سیاست دان مستثنیٰ ہو سکتے ہیں نہ تاجر، بیورو کریٹس یا دوسرے طبقات مگر اس حوالے سے آئین اور قانون پر سختی سے عمل ضروری ہے۔ کسی بھی شخص کے خلاف اس وقت تک کارروائی نہیں ہونی چاہئے جب تک اس کے خلاف ٹھوس ثبوت اور شواہد حاصل نہ کر لئے جائیں۔ اس وقت کئی لوگ جیلوں میں بند ہیں جن کے متعلق کہا جاتا ہےکہ نیب کے پاس ان کے خلاف عدالتوں میں مقدمات دائر کرنے کے لئے ٹھوس ثبوت نہیں، یہی وجہ ہے کہ آئے روز ان کا ریمانڈ لیا جاتا ہے جس سے ایک طرف زیر حراست افراد کی حق تلفی ہوتی ہے تو دوسری طرف نیب کی ساکھ پر انگلیاں اٹھتی ہیں۔ احتساب کا عمل ہر طرح کے ابہامات اور شکوک و شبہات سے پاک ہونا چاہئے۔ بیورو کریسی کی طرح سیاستدانوں کے احتساب کا طریق کار بھی اصلاح طلب ہے۔