آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار17؍ ربیع الثانی 1441ھ 15؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

لائن آف کنٹرول پر رکھ چکری راولا کوٹ سیکٹر میں بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ سے پاک فوج کے دو افسروں اور پاک افغان سرحد کے قریب شمالی وزیرستان کے علاقے میرانشاہ میں چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایف سی کے پانچ اہلکاروں کے زخمی اور جمرود کے اکتیس سالہ محمد عمران نامی اہلکار کے شہید ہو جانے کے اتوار کو پیش آنے والے واقعات سرحدوں کے حوالے سے وطنِ عزیز کو درپیش سنجیدہ صورتحال کی واضح طور پر عکاسی کرتے ہیں۔ پاک فوج کے ترجمان کے مطابق بھارت کی جانب سے پاکستانی چوکیوں پر مارٹر گولے داغے گئے جس کے نتیجے میں دو بہادر افسر زخمی ہو گئے جبکہ پاک فوج نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن کی بندوقوں کو خاموش کرا دیا۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ شمالی وزیرستان میں ایف سی اہلکاروں کی جوابی فائرنگ کے نتیجے میں دو دہشت گرد بھی مارے گئے۔ ایک اور خبر کے مطابق ہندی خیل جانی خیل لاری اڈہ میں دینی مدرسہ کے قریب سے بارودی مواد کی برآمدگی کے بعد سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کیا جس نے بارودی مواد کو ناکارہ بنا دیا اور راستے کو ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا۔ ان واقعات سے یہ حقیقت پوری طرح عیاں ہے کہ ملک کی مشرقی اور مغربی سرحدوں کی صورتحال مسلسل توجہ طلب ہے۔ مودی حکومت نے پاکستان

دشمنی ہی کو اپنی خارجہ پالیسی کی اساس بنا رکھا ہے ۔ لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت کے باعث سالِ رواں میں آزاد کشمیر کے پچاس سے زائد افراد شہید اور ڈھائی سو کے قریب زخمی ہو چکے ہیں جبکہ مقبوضہ کشمیر کو متنازع علاقے کے بجائے بھارت کا حصہ قرار دے کر نئی دہلی نے پوری عالمی برادری کے موقف کو مسترد کردیا ہے۔ سرحدوں پر درپیش ان حالات سے نمٹنے کے لیے نفرت کی سیاست کے بجائے قومی اتحاد اور یکجہتی ہماری ناگزیر ضرورت ہے اور اس سمت میں بلاتاخیر پیش رفت حب الوطنی کا لازمی تقاضا ہے۔