آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار17؍ ربیع الثانی 1441ھ 15؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

سنیے  اعزاز سید کا کالم ’حکمرانوں کی لیاقت‘ انہی کی زبانی


یہ ماضی کی بات ہے، آج سے 7سال قبل مجھے اچانک فون کال آئی ’’مجھ پر کچھ نامعلوم افراد نے تشدد کیا ہے‘‘۔ کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم ایڈووکیٹ کی فون پر دی جانے والی اطلاع چونکا دینے والی تھی۔ اس وقت میں اپنے قریبی دوست اورسینئرصحافی سلمان مسعود کے ساتھ بلیو ایریا اسلام آباد میں گھوم رہا تھا۔ 

کرنل انعام الرحیم ایڈووکیٹ پر 10نومبر 2012ء کی رات کیا گیا حملہ اس لیے بڑا غیرمعمولی تھا کہ انہوں نے اس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویزکیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف عدالت سے رجوع کررکھا تھا۔

فون سنتے ہی میں اور سلمان مسعود جائے وقوعہ کیلئے روانہ ہوگئے۔ راستے میں میری توجہ جیو نیوز پر خبر چلانے پر بھی مرکوزتھی کیونکہ اس وقت خبرنامے کا وقت نہیں تھا۔ اس لیے اسکرین پہ نیچے چلنے والے ٹکرز پر ہی انحصار تھا ۔ ان دنوں جیو نیوز پر جناب نجم سیٹھی کا پروگرام ’’آپس کی بات‘‘ بڑا مقبول تھا۔ 

سیٹھی صاحب ایک انگریزی روزنامے میں میرے ایڈیٹررہے ہیں اسلئے خیال آیا کہ کیوں نہ انہیں فون پر مطلع کیا جائے۔ ان کا پروگرام براہ راست نشرہورہا تھا۔ پروگرام کے وقفے کے دوران سیٹھی صاحب نے میری کال کا جواب دیا توانہیں تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کر دیا۔ 

سیٹھی صاحب نے فون رکھا اور اگلے ہی لمحے براہ راست پروگرام میں خبر ناظرین کو سنا ڈالی۔ تھوڑی دیر میں جیو نیوز اور باقی ٹی وی چینلز پر بھی یہ خبر ایک سرخی بن چکی تھی۔ ہم دونوں اڈیالہ روڈ پرپہنچے تو کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم ہمیں نظرآگئے۔ ان کے سرسے خون بہہ رہا تھا مگرحیرت انگیز طورپر ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ 

ان سے خیرخیریت دریافت کی۔ ان کے ساتھ ہم ایک نجی اسپتال گئے اور انکی مرہم پٹی کے بعد واپس آگئے۔ اگلے روزکرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کے ساتھ یکجہتی کے لیے راولپنڈی کی وکلا برادری نے ہڑتال کی مگرآج تک اس بوڑھے وکیل کے حملہ آور گرفتار نہیںہوئے۔

دراصل جنرل اشفاق پرویزکیانی کی مدت ملازمت میں اضافہ تو اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے جولائی2010 میں کیا تھا مگر اس وقت جنرل کیانی کی عمر ساٹھ سال نہیں تھی۔ 

وہ 12 اپریل 2012ءکو ساٹھ سال کے ہوئے تو کسی زمانے میں پاک فوج کی جج ایڈووکیٹ جنرل برانچ میں خدمات سرانجام دینے والے انعام الرحیم نے ان کی ملازمت میں توسیع کے فیصلے کو اس بنا پر عدالت میں چیلنج کردیا کہ اس سے پاک فوج کے کم و بیش28 سینئر افسران متاثر ہوئے ہیں۔ اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار چوہدری تھے۔ 

عدالت کے رجسٹرار نے یہ کہہ کر درخواست واپس کردی کہ اسے مناسب فورم پر دائرکیا جائے۔ ہائیکورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا تو وہاں بھی درخواست مسترد ہوگئی مگر اب اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس انورکاسی اور جسٹس شوکت عزیز صدیقی اس کیس کی انٹراکورٹ اپیل کی سماعت کرنے جارہے تھے۔ شوکت عزیز صدیقی سناتے ہیں کہ جب جسٹس انورکاسی نے انعام الرحیم کی درخواست ان سے مشورہ کیے بغیر معمول کے مطابق سماعت کے لیے مقررکی۔ 

اس وقت انٹراکورٹ اپیل میں بھی انعام الرحیم کی درخواست کی شنوائی نہ ہوئی مگرتاریخ میں پہلی بار توسیع کے حوالے سے عدالتی دروازہ کھٹکھٹانے کی مثال ضروربن گئی۔ جمعرات کے روز28 نومبر کو سپریم کورٹ میں جب چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے ایڈووکیٹ حنیف راہی کی درخواست کی سماعت کررہے تھے تو عدالت میں کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم بھی موجود تھے۔ انہوں نے ہی عدالت کو پاکستان آرمی ایکٹ کی کتاب بھی فراہم کی۔

اس باردرخواست گزار ایڈووکیٹ حنیف راہی نے غالباً کچھ لوگوں کے کہنے پر انعام الرحیم سے رابطہ کیا مگر کرنل انعام الرحیم نے فریق بننے سے انکار کر دیا۔ شاید کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہی ملک میں موجود سیاسی جماعتیں سامنے آکھڑی ہونگی اور حکومت کو پیچھے ہٹنا پڑے گا۔

 مگر ایسا کچھ بھی نہ ہوا الٹا سوشل میڈیا پر عدلیہ کے خلاف مہم چلائی گئی۔ جس پر چیف جسٹس کو بھی ریمارکس دینا پڑے۔ سپریم کورٹ کی تین روزہ سماعت میں دو باتیں واضح ہوگئیں، اول یہ کہ آرمی چیف کے عہدے کی دوبارہ تعیناتی یا توسیع کے لیے ملک میں عملی طورپرکوئی قانون موجود نہیں ہے۔ دوئم یہ کہ فوج کے سربراہ کی ریٹائرمنٹ کے بارے میں بھی کافی ابہام پایا جاتا ہے۔

عدالت نے توسیع پر قانون سازی کا عملی فیصلہ پارلیمنٹ کے سپرد کردیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس سارے معاملے میں سیاسی جماعتوں نے آج تک ایک واضح سمت اختیار کیوں نہیں کی ؟

اگر سابق چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کے دورمیں ہی انعام الرحیم ایڈووکیٹ کے سوالات کو عدالت میں سماعت کی پذیرائی مل جاتی اور معاملات کوئی منطقی شکل اختیار کرلیتے تو شاید آج صورتحال بہت مختلف ہوتی اور ایوان اقتدارمیں بیٹھے لوگوں کی لیاقت کا بھانڈا نہ پھوٹتا۔