آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ3؍ جمادی الثانی 1441ھ 29؍ جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ہانگ کانگ میں جمہوریت پسندوں کی فتح

چین کے خصوصی انتظامی علاقے، ہانگ کانگ میں ہونے والےڈسٹرکٹ کائونسلز کے انتخابات میں جمہوریت پسندوں کو بھاری اکثریت حاصل ہوئی۔ انتخابی نتائج کے مطابق، 18میں سے 17کائونسلز میں انہیں کام یابی ملی۔ نومبر کے آخری اتوار کو ہونے والے ضلعی کائونسلز کے انتخابات میں ریکارڈ 71فی صد شہریوں نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا، جب کہ رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 41لاکھ تھی۔ ہانگ کانگ میں ضلعی کائونسلز ہی تمام بلدیاتی امور چلاتی ہیں۔ 

یاد رہے کہ ہانگ کانگ میں گزشتہ 6ماہ سے احتجاجی مظاہرے جاری تھے اور مظاہرین اختیارات میں اضافے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس موقعے پر جزیرے کی چیف ایگزیکٹیو، کیری لیم کا کہنا تھا کہ حکومت، شہریوں کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے گی۔ دُنیا کے دیگر ممالک میں جاری مظاہروں کی طرح ہانگ کانگ میں بھی مرکزی قیادت کے بغیر ہی چینی حکومت کے خلاف احتجاج کیا گیا اور مظاہرین واٹس ایپ سمیت دیگر اسمارٹ فون ایپلی کیشنز کے ذریعے کسی مخصوص مقام پر جمع ہوتے رہے۔ مظاہرین میں جامعات کے طلبہ نمایاں تھے، جن کی پولیس اور دیگر فورسز سے جھڑپیں بھی ہوئیں اور انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا گیا۔ 

احتجاج کے دوران مظاہرین نے سرکاری عمارتوں کو بھی نقصان پہنچایا۔ اس موقعے پر چین نے امریکا پر مظاہرین کی حوصلہ افزائی کا الزام عاید کرتے ہوئے اسے اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا۔ البتہ ہانگ کانگ میں ہونے والے حالیہ انتخابات سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہری اپنے مطالبات پُر امن انداز میں حکومت تک پہنچانے کو ترجیح دیتے ہیں اور چینی قیادت بھی مدبّرانہ و مفاہمت پسندانہ پالیسی کو اوّلیت دیتی ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ چینی حکومت اس مسئلے کی حسّاسیت کو سمجھتی ہے اور جلد ہی اس کے حل کی جانب پیش رفت کی جائے گی۔

ہانگ کانگ، جنوب مشرقی ایشیا میں واقع ایک جزیرہ ہے، جو سرکاری طور پر چین کا خصوصی انتظامی علاقہ کہلاتا ہے۔ 74لاکھ کی آبادی پر مشتمل اس علاقے کا شمار دُنیا کے گنجان ترین خطّوں میں ہوتا ہے۔ 426مربّع کلومیٹرز پر محیط ہانگ کانگ میں مختلف قومیّتوں کے لوگ آباد ہیں، لیکن غالب اکثریت چینی نسل سے تعلق رہتی ہے۔ اس کی مقامی زبان، کنٹونیز کہلاتی ہے۔ 1842ء میں پہلی افیون جنگ کے خاتمے پر چین نے ہانگ کانگ کو ایک سو سالہ لیز پر برطانیہ کے حوالے کر دیا۔ دوسری افیون جنگ میں فتح حاصل کرنے کے بعد ارد گرد کے علاقے بھی برطانیہ کے زیرِ تسلّط آ گئے۔ 

بعد ازاں، 1898ء چین اور برطانیہ کے درمیان ایک سو سالہ لیز کا ایک اور معاہدہ ہوا اور یہ لیز ختم ہونے پر 1997ء میں ہانگ کانگ، چین کو واپس مل گیا۔ اب یہاں ’’ایک مُلک، دو نظام‘‘ کے سیاسی فلسفے کے تحت چین کی عمل داری ہے۔ واضح رہے کہ ایک عالمی طاقت کی حیثیت سے برطانیہ کو جنوب مشرقی ایشیا میں ایک مضبوط نیول بَیس کی اشد ضرورت تھی، جس کے ذریعے وہ مطلوبہ علاقوں میں تیزی سے اپنا اثر و رسوخ بڑھا سکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا میں آبنائے ملاکا اور ہانگ کانگ پر قبضہ برطانیہ کی بحری فوج کے لیے نہایت مفید ثابت ہوا اور یوں برطانیہ ان دونوں اسٹرٹیجک آبی گزر گاہوں اور بندر گاہوں کے ذریعے بحر الکاہل اور بحرِ ہند کے درمیان ہونے والی آمد و رفت کو کنٹرول کرتا تھا۔ آبی گزرگاہوں کی اسی اہمیت کے پیشِ نظر ہی ہانگ کانگ میں ایک جدید بندر گاہ تعمیر کی گئی اور آج ہانگ کانگ کو دُنیا کی اہم ترین تجارتی بندر گاہ اور مالیاتی مرکز تسلیم کیا جاتا ہے۔ نیز، ہانگ کانگ اسٹاک ایکسچینج کا اُتار چڑھائو خطّے ہی نہیں، بلکہ پوری دُنیا کی معیشت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ 

ہانگ کانگ میں جمہوریت پسندوں کی فتح
کیری لیم

ہانگ کانگ اپنی اقتصادی قوت کی وجہ سے جاپان، چین، تائیوان، سنگاپور اور جنوبی کوریا جیسے ایشین ٹائیگرز کے لیے رول ماڈل بنا۔ پھر اس کے ذریعے ہی مغربی ٹیکنالوجی اور اقتصادی، تجارتی و مالیاتی طریقۂ کار جنوب مشرقی ایشیا منتقل ہوئے اور پورے خطّے کی غیر معمولی ترقّی کا سبب بنے۔ اسے اپنی خدمات کے اعتبار سے ’’جنوب مشرقی ایشیا کا لندن‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ ہانگ کانگ ڈالر دُنیا کی نویں مضبوط ترین کرنسی ہے۔ برآمدات کے لحاظ سے یہ دُنیا میں نویں نمبر پر ہے، جب کہ درآمدات میں اس کا دسواں نمبر ہے۔ نیز، ہانگ کانگ کا شمار دُنیا کے سب سے زیادہ فی کس آمدنی والے علاقوں میں ہوتا ہے اور سب سے زیادہ امیر ترین افراد بھی یہیں رہتے ہیں۔ تاہم، یہاں سماجی ناہم واری بھی کم نہیں اور گنجان آبادی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ شہریوں کو رہائش فراہم کرنے کے لیے بلند و بالا عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں اور دُنیا میں سب سے زیادہ اسکائی اسکریپرز بھی یہیں ہیں۔ اس جزیرے پر دُنیا کا بہترین ٹرانسپورٹ سسٹم موجود ہے، جس کی وجہ سے سو فی صد آبادی کو سفر کی سہولتیں میسّر ہیں۔

ہانگ کانگ میں جمہوریت پسندوں کی فتح
شی جِن پِنگ

1997ء میں جب برطانیہ نے ہانگ کانگ چین کے حوالے کیا، تو چین ترقّی کی سیڑھی پر قدم رکھ چکا تھا اور پھر اس نے ہانگ کانگ کی جدید ٹیکنالوجی اور دیگر مہارتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ 1997ء سے قبل یہاں گورنر جنرل برطانوی مفادات کی نگہبانی کرتا تھا، جو ملکۂ برطانیہ کا نمایندہ ہوتا تھا ۔ تب یہاں دولتِ مشترکہ کے دیگر ممالک کی طرح جمہوری نظام رائج تھا۔ 1984ء میں چینی رہنما، تنگ شیائو پھنگ کے دَور میں ہونے والے معاہدے میں یہ طے ہوا کہ لیز ختم ہونے کے بعد 50برس تک ہانگ کانگ میں موجودہ سیاسی نظام ہی برقرار رہے گا۔ 

ہانگ کانگ میں جمہوریت پسندوں کی فتح
ہانگ کانگ کے شہریوں کی بڑی تعدادمتنازع بل کے نفاذ کے خلاف مظاہرہ کررہی ہے

یہی وجہ ہے کہ اس وقت چین میں دو نظام رائج ہیں، جب کہ تائیوان اور چین کے درمیان بھی اسی قسم کا ایک غیر تحریری معاہدہ موجود ہے، مگر تائیوان کا الگ صدر اور خود مختار اسمبلی ہے، جس کے معاملات میں چین مداخلت نہیں کرتا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ چین، جنگ سمیت کسی بھی قسم کے محاذ آرائی سے دُور رہتے ہوئے ہی تمام تنازعات حل کرنا چاہتا ہے۔ ہانگ کانگ کے حوالے سے چین کی پالیسی کو مثالی کام یابی حاصل ہوئی، البتہ دو مختلف نظام ہونے کی وجہ سے مین لینڈ چائنا اور ہانگ کانگ کے درمیان تنائو پایا جاتا ہے اور یہ مظاہرے ے اسی کا شاخسانہ ہیں۔ نیز، اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ کسی ایک مُلک میں دو نظام برقرار رکھنے کے لیے کس قدر صبر اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہانگ کانگ کا انتظامی بندوبست ایک چیف ایگزیکٹیو سنبھالتا ہے، جسے چینی وزیرِ اعظم ایک مشاورتی کائونسل کی سفارش پر 5برس کے لیے تعینات کرتا ہے۔ اس وقت کیری لیم ہانگ کانگ کی چیف ایگزیکٹیو ہیں۔ 

ہانگ کانگ میں جمہوریت پسندوں کی فتح
ڈسٹرکٹ کائونسلز کے انتخابات میں کام یابی پر جمہوریت نواز جَشن منا رہے ہیں

ہانگ کانگ کا سیاسی نظام خاصا پیچیدہ ہے۔ گرچہ وہاں مختلف سیاسی جماعتیں فعال ہیں، تاہم قومی کائونسل میں رُکنیت حکومت کے نام زد اراکین اور مختلف گروپس کی نمایندگی کی بنیاد پر ہوتی ہے ۔نیز، اسمبلی اور چیف ایگزیکٹیو کے براہِ راست انتخاب کا کوئی تصوّر نہیں۔ عمومی طور پر ہانگ کانگ میں چین کا قانون لاگو نہیں ہوتا۔ وہاں برطانوی عدالتی نظام رائج ہے اور اسی کے تحت ہی عدلیہ مقدّمات نمٹاتی ہے، ماسوائے قومی سالمیت سے متعلق مقدّمات کے۔ اس ضمن میں چین کی قومی کائونسل کو فیصلہ کُن اختیارات حاصل ہیں۔ اسی طرح ہانگ کانگ کے باشندوں کا اپنا الگ پاسپورٹ ہے، مین لینڈ چائنا کے باشندوں کو یہاں کی شہریت اختیار کرنے کی اجازت نہیں اور انہیں غیر ملکی تارکینِ وطن سمجھا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں، ہانگ کانگ کسی بھی مُلک کے ساتھ اقتصادی و ثقافتی روابط قائم کرنے میں بھی آزاد ہے۔

ہانگ کانگ میں حالیہ مظاہرے اُس وقت شروع ہوئے ، جب جون میں’’2019 Hong Kong extradition bill‘‘ نافذ کیا گیا۔ اس متنازع بل کی رُو سے ہانگ کانگ میں پناہ لینے والے باشندوں کو مین لینڈ چائنا منتقل کیا جاسکتا تھا۔ گرچہ احتجاج اور ہنگاموں کے بعد اس بل کو واپس لے لیا گیا، لیکن بے چینی اب بھی برقرار ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مقامی انتخابات میں جمہوریت پسندوں کی فتح کے باوجود ہانگ کانگ کے سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتّب ہونے کی توقّع نہیں۔ البتہ ان انتخابات کے ذریعے شہریوں نے اپنے جمہوریت پسند ہونے کا کُھل کر اظہار کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں ماہرین یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ ضلعی کائونسلز کا کردار اور اختیار صرف شہر کے بلدیاتی معاملات تک محدود ہے، جس میں صفائی ستھرائی سمیت شہر کے دیگر روزمرّہ کے معاملات شامل ہیں اور ان کا سیاسی یا قومی نوعیت کے فیصلوں سے کوئی لینا دینا نہیں۔ 

ہانگ کانگ میں مظاہروں کے دوران چینی قیادت نے بار بار یہ دعویٰ کیا کہ امریکا مظاہرین کو شہہ دے رہا ہے ، لہٰذا وہ اس عمل سے باز رہے۔ دوسری جانب امریکا بھی جمہوریت پسندوں سے کھلے عام ہم دردی کا اظہار کرتا ہے اور تمام مغربی ممالک بھی ہانگ کانگ میں ہونے والے مظاہروں اور احتجاج کی کھل کر حمایت کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چین ہمیشہ اپنے اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ ہر صورت ہانگ کانگ پر اپنی حاکمیت برقرار رکھے گا۔ ماہرین کے مطابق، ہانگ کانگ کی جمہوریت نواز سیاسی جماعتوں اور مین لینڈ چائنا کے درمیان پائے جانے والے تنائو کا بنیادی سبب وہ سیاسی نظام ہے، جو ہانگ کانگ کی چین کو واپسی کے بعد یہاں نافذ کیا گیا۔ البتہ چینی رہنمائوں کو اس بات پر داد دینا پڑے گی کہ انہوں نے ہمیشہ صبر و تحمل اور بُرد باری کا مظاہرہ کیا۔ہر قسم کے تنازعات سے بالاتر ہو کر اقتصادی ترقّی ہی کو ترجیح دی۔ اتنی بڑی آبادی اور اقتصادی طاقت کا حامل مُلک چین کے بجائے کوئی اور ہوتا، تو یقیناً آپے سے باہر ہو جاتا ۔ 

اس کے رہنما ہمہ وقت اپنے حریف ممالک کو اپنی سب سے بڑی فوج، ایٹمی طاقت، اقتصادی قوت اور جنگ کی دھمکیوں سے خوف زدہ کرتے رہتے۔ چین کی اس غیر معمولی فراست و تدبّر میں اُن ممالک کی قیادت، سیاسی جماعتوں اور اداروں کے لیے یہ سبق پوشیدہ ہے کہ معاشی و فوجی طور پر طاقت وَر ہونے کے باوجود متنازع علاقوں پر قبضے کے لیے جلد بازی یا تشدّد سے گریز کیا جائے، چاہے اس کے لیے ایک صدی کا فاصلہ ہی کیوں نہ طے کرنا پڑے، جیسا کہ چین نے ہانگ کانگ واپس لینے کے لیے کیا۔ ہانگ کانگ کے حوالے سے چین کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ وہ معاہدے کی رُو سے اپنے خصوصی انتظامی علاقے میں ایک مختلف سیاسی نظام قائم رکھنے کے حق میں ہے اور جب شہری از خود تبدیلی پر آمادہ ہوں گے، تو اُسی وقت کوئی متبادل راستہ اختیار کیا جائے گا۔ اگر کوئی واضح حل تلاش نہ کیا جا سکا، تو پھر ایک ایسے نظام پر اتفاق کیا جائے گا کہ جو فریقین کے لیے قابلِ قبول ہو، تاکہ ترقّی کی رفتار متاثر نہ ہو۔

یاد رہے کہ ہانگ کانگ پہلے چار ایشین ٹائیگرز میں سے ایک تھا اور اس نے ہمیشہ اپنا معاشی استحکام برقرار رکھا۔ چین، ہانگ کانگ کی غیر معمولی تزویراتی اہمیت سے بہ خوبی واقف ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اس جزیرے کو اپنی بندرگاہ کی وجہ سے ایک تجارتی مرکز کی حیثیت حاصل ہے۔ لہٰذا، ہانگ کانگ میں حالات بگڑنے سے اسے نہ صرف معاشی طور پر نقصان ہو گا، بلکہ اس کی وجہ سے ایک ایسا تنازع جنم لے گا کہ جو چین کے لیے مشکلات اور مخالفین کے لیے مواقع پیدا کر دے گا۔ یہ کوئی ڈھکی چُھپی بات نہیں کہ اس وقت جنوب مشرقی ایشیا دُنیا کا سب سے زیادہ تیز رفتاری سے ترقّی کرنے والا خطّہ ہے۔ اس کی اُٹھان میں جاپان اور چین کی اقتصادی طاقت نے بڑا حصّہ ڈالا اور اب اس خطّے کی قیادت چین کے پاس آ گئی ہے۔ گرچہ ہانگ کانگ اور تائیوان جیسے معاملات خاصی اہمیت کے حامل ہیں، لیکن دُنیا چین کو ایک بڑی طاقت تسلیم کر چکی ہے اور یہ اقوامِ متّحدہ کی سلامتی کائونسل کا مستقل رُکن بھی ہے۔ 

اب چین ہر عالمی فیصلے میں اپنی رائے دیتا ہے، جسے نظر انداز کرنا کسی کے بس کی بات نہیں۔ پھر چینی صدر، شی جِن پِنگ نے گزشتہ برس یہ اعلان بھی کیا کہ اب چین دُنیا کے مرکزی اسٹیج پر اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔ گرچہ مین لینڈ چائنا میں یک جماعتی کمیونسٹ نظام رائج ہے، لیکن چینی قیادت ہانگ کانگ کے نیم جمہوری نظام کو ناکام نہیں بنانا چاہتی۔ دوسری جانب اس وقت چین کے علاوہ جنوب مشرقی ایشیا میں شاید ہی کوئی ایسا مُلک ہو ، جہاں کثیر الجماعتی سیاسی نظام رائج نہ ہو۔ حتیٰ کہ ویت نام جیسے مُلک نے بھی یہی نظام اپنا لیا ہے، جو ایک زمانے میں کمیونسٹ سسٹم کا پُر زور داعی تھا اور اس کی ساری جدوجہد بھی اس نظام کی بقا پر مبنی تھی۔ نیز، یہ تمام ممالک خوش حال بھی ہیں۔ 

چینی رہنمائوں نے خطّے کی موجودہ صورتِ حال کے پیشِ نظر ہی ہانگ کانگ میں ہونے والے انتخابات کے نتائج فراخ دلی سے قبول کیے۔ دریں اثنا، یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ ہانگ کانگ کی موجودہ چیف ایگزیکٹیو، کیری لیم کو، جو مظاہروں کے دوران انتہائی غیر مقبول ہو گئی تھیں، تبدیل بھی کیا جا سکتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اب قومی کائونسل کے ارکان کی نام زدگی میں بھی جمہوریت پسندوں کا کردار بڑھ گیا ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید