آپ آف لائن ہیں
ہفتہ یکم صفرالمظفر 1442ھ19؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

برج خلیفہ کی چوٹی پر’ ایک پاکستانی ‘

برج خلیفہ کی چوٹی پر’ ایک پاکستانی ‘
اسلام آباد میں اماراتی سفیر حماد عبید ابراہیم الزابی

تحریر: حماد عبید ابراہیم الزابی (اسلام آباد میں اماراتی سفیر)

برج خلیفہ کو تعمیر کرنے والی کمپنی ایمار پراپرٹیز میں موجود میرے ایک قریبی دوست نے انکشاف کیا کہ 2009 میں منصوبے کی تکمیل کے بعد جب وہ برج خلیفہ کی چھت پر پہنچا تو وہاں ایک پاکستانی مزدور کو دیکھا جو دنیا کی طویل ترین عمارت پر اپنا کام مکمل ہونے کے بعد خوشی سے جھوم رہا تھا۔

یہ کہانی ہمارے ہنرمند پاکستانی بھائیوں کے اہم ترین کردار کی عکاس ہے جو انہوں نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی ساخت اور اقتصادی ترقی میں ادا کیا جسے امارات نے گزشتہ 5 دہائیوں کے دوران دیکھا۔

یہ مجھے اپنے بچپن کے پہلے دورے کی یاد دلاتا ہے جب میں اپنی والدہ کے ہمراہ اپنے فیملی ڈاکٹر جو ایک ماہر پاکستانی فزیشن تھے، کے پاس گیا۔

انہوں نے مجھے اپنے دوستانہ سلوک اور بہترین علاج معالجے کے ذریعے متاثر کیا تھا، اُس وقت سے اب تک میں نے کئی پاکستانی بھائیوں سے ملاقاتیں کیں جو یو اے ای کی ترقی و کامیابی میں اپنی قیمتی مہارت دکھا رہے ہیں۔

رواں برس جنوری میں ابو ظبی کے ولی عہد اور یو اے ای فورسز کے کمانڈر شیخ محمد بن زید النہیان نے وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں وزیراعظم پاکستان عمران خان سے ملاقات کے دوران ان سے کہا تھا کہ جب وہ 5 برس کے تھے (1966ء) تو اپنے والد شیخ زید بن سلطان النہیان کے ہمراہ نجی دورے پر پاکستان آئے تھے اور انہیں یقین تھا کہ دو ہی ملک ہیں دنیا میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات۔

تاہم اس سے یہ ظاہر ہوا کہ مرحوم شیخ زید بن سلطان النہیان کے لیے پاکستان بطور فیملی وزٹ اسٹیشن پسندیدہ جگہ ہے، اور صاف بات یہ ہے کہ یہ حادثاتی طور پر نہیں ہوا، اس کی وجوہات موجود ہیں۔

متحدہ عرب امارات اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے لوگوں کے درمیان طویل تاریخی اور ثقافتی رشتہ ہے۔ بحیرہ عرب میں دونوں ممالک کے ساحل، اس کے ریگستان، ریت کےٹیلے، موسمی حالات دونوں قوموں کے لیے یکساں ثقافت اور تقدیر کو تشکیل دیتے ہیں۔

قدیم تاریخ دونوں خطوں کے درمیان بین الثقافتی، تجارتی اور سفر کے انکشافات کرتا ہے جبکہ جدید تاریخ میں یو اے ای کے بانی مرحوم شیخ زید بن سلطان النہیان ہمیشہ پاکستان کو اپنے دوسرے گھر کے طور پر ترجیح دیتے تھے اور حتیٰ کے یو اے ای کے وجود میں آنے سے قبل بھی شیخ زید بن سلطان نے متعدد مرتبہ دیگر عرب شیوخ اور اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پاکستان کا دورہ کیا۔

اس تعلق کے نتیجے میں پاکستان دنیا کا وہ پہلا ملک بنا جس نے 1971 میں یو اے ای کو تسلیم کیا، بالآخر بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں نے یو اے ای کے متعدد اداروں کی تعمیر میں اپنا اہم کردار ادا کیا۔

ایمریٹس جو اب دنیا کی سب سے بڑی فضائی کمپنیوں میں سے ایک ہے وہ پاکستانیوں کی طرف سے تعمیر کرنے والے اداروں میں سے ایک ہے، جسے

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) نے تکنیکی اور انتظامی مدد فراہم کی اور اسے بوئنگ 300-737 اور ایک ایئربس A300B4-200 لیز پر دی۔

گزشتہ ماہ اپنے دفتر میں مجھے کیپٹن (ر) فضل غنی میاں کا استقبال کرنے کا موقع ملا جنہوں نے 25 اکتوبر 1985 کو دبئی سے کراچی تک ایمریٹس کی پہلی اور تاریخی پرواز کی سربراہی کی تھی۔

باصلاحیت لوگ فوجی تربیت، بینک کاری سیکٹر، انفرا اسٹرکچر کی تعمیر، ٹرانسپورٹ اور دیگر کئی اہم شعبوں میں میرے پیارے وطن کی خوبصورت اور خوشحال تصویر میں نمایاں لکیریں کھینچ رہے ہیں۔

پاکستانی یو اے ای کی ترقی میں ہمیشہ ہی اہم حصہ دار رہے ہیں، 16 لاکھ پاکستانی امن اور عزت کے ساتھ امارات میں رہائش پذیر ہیں جو اس ملک میں دوسری سب سے بڑی غیر ملکی برادری ہے، جو وہاں کاروبار، سرمایہ کاری اور سروسز سیکٹرز کا حصہ ہیں جبکہ مالی ذرائع کے مطابق پاکستانی معیشت میں تعاون کرنے کے ساتھ ساتھ یو اے ای پاکستان میں ترسیلات پہنچانے والا دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔

یہ شراکتیں متحدہ عرب امارات اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی گہری دوستی میں مدد گار رہی ہیں، نتیجتاً یو اے ای پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کرنے والا سب سے ملک بن گیا جس کی آئل ریفائنری، ٹیلی کمیونیکیشن، بینک کاری، ہوا بازی اور پراپرٹی ڈیولپمنٹ میں بڑی سرماریہ کاری ہے۔

دریں اثناء یو اے ای پاکستان کے معاشی استحکام اور انسانی ترقی میں مدد کرنے کے عزم پر قائم ہے۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کو مالی معاونت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ یو اے ای نے پاکستان میں کئی انسان دوست اور ترقیاتی پروگرامز شروع کیے، جن میں پاکستان کے مختلف صوبوں میں اسپتال، کالجز، اسکول، سڑکیں، پل، ہوائی اڈے، ہاؤسنگ منصوبے، پانی فراہمی کی اسکیم، اور قدرتی آفات پر قابو پانے کیلئے ایمرجنسی ریلیف جیسے پروگرامز شامل ہیں۔

خاص رپورٹ سے مزید