آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار17؍ ربیع الثانی 1441ھ 15؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

3 نومبر کو ایمرجنسی لگی، آئین معطل نہیں ہوا، غداری کا کیس کیسے؟ لاہور ہائیکورٹ

3 نومبر کو ایمرجنسی لگی، آئین معطل نہیں ہوا، غداری کا کیس کیسے؟ لاہور ہائیکورٹ


لاہور(نمائندہ جنگ)لاہور ہائیکورٹ نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کیخلاف غداری کے الزام میں مقدمے کا ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ ایمرجنسی نافذ کرنا اور چیز ہے اور آئین معطل کرنا مختلف ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ مارشل لا 12 ؍اکتوبر کو لگا اسکا ذکر ہی نہیں۔ 

جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی درخواست کی سماعت شروع ہوئی تو وفاقی حکومت کے وکیل نے جواب داخل کرایا اور نشاندہی کی کہ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں ٹرائل کورٹ کا نوٹیفکیشن جاری ہوا۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے باور کرایا کہ درخواست گزار کے مطابق یہ تو وزیراعظم کا اختیار تھا۔ 

پرویز مشرف کے وکیل اظہر صدیق نے نکتہ اٹھایا کہ فیصلے کے مطابق بھی وزیراعظم اور وفاقی حکومت نے یہ مقدمہ بنانا تھا۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ غداری کا مقدمہ آئین معطل کرنے پر ہوتا ہے، کیا 3نومبر 2007 میں ایسا ہوا؟ فاضل جج نے باور کرایا کہ مارشل لا تو 12 اکتوبر کو لگا جس کا اس مقدمہ میں ذکر ہی نہیں۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ ایمرجنسی نافذ کرنا اور چیز ہے اور آئین معطل کرنا مختلف ہے۔ 

عدالتی استفسار پر وفاقی حکومت کے وکیل نے بتایا کہ مقدمہ کا ریکارڈ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہونے کی وجہ سے پیش نہیں کیا جاسکا جب ریکارڈ پیش ہوگا تو اٹارنی جنرل پاکستان بھی پیش ہوں گے. درخواست پر مزید کارروائی 10 دسمبر کو ہو گی۔

اہم خبریں سے مزید