آپ آف لائن ہیں
پیر10؍صفر المظفّر 1442ھ 28؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آج صبح یاسر بیٹے کو فون کیا تو اس کی درد میں ڈوبی آواز آئی ’’ابو طارق احمد وفات پا گئے ہیں‘‘۔ مجھے اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا، مجھے چند روز قبل ان کے ایک صاحبزادے کا پیغام فیس بک پہ نظر آیا تھا کہ ان کے ابو کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے، اس لئے وہ فیس بک پر فعال نظر نہیں آ رہے، ان کی صحت کے لئے دعا کریں۔ میں نے ان کے لئے دعائیں بھیجیں مگر میرے دل میں تھا کہ بعض اوقات طبیعت نرم گرم ہو جاتی ہے مگر تشویش کی کوئی بات نہیں ہوتی، لیکن یہاں تو طبیعت کی خرابی اور وفات دونوں خبریں تقریباً ایک ساتھ ملیں۔ مجھے ابھی تک یقین نہیں آ رہا کہ طارق اب ہم میں نہیں ہے، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم سب دوست بیٹھے گپ شپ کر رہے ہوں، ان میں سے جس کی آواز اور قہقہے سب سے بلند ہوں، اچانک وہ آواز اور قہقہے سنائی دینا بند ہو جائیں، محفل جاری رہے مگر سب سے خوبصورت آواز اور سب سے زیادہ زندگی آمیز اور زندگی آموز‘ دوستوں سے اجازت لئے بغیر اٹھ کر چلا گیا ہو اور اس نے پھر کبھی واپس بھی نہ آنا ہو۔ طارق احمد نے ہمارے ساتھ یہی کیا!

طارق سے میری ملاقاتیں بہت پرانی تھیں، اس وقت سے جب وہ لاہور کے دیال سنگھ کالج میں انگریزی کا لیکچرر تھا، وہ میرا باقاعدہ قاری تھا اور میرا کوئی کالم پڑھ کر خواہ مخواہ مجھے بانس پر چڑھا دیا کرتا تھا، وہ ایک اخبار میں کالم لکھتا تھا اور بہت اچھا لکھتا تھا مگر برطانیہ چلے جانے کے بعد سے کالم نگاری کے علاوہ اس نے فیس بک پر بھی مورچہ سنبھال لیا تھا اور جمہوری قدروں کے لئے سربکف ہوگیا۔ آمریت یا آمریت آمیز جمہوریت سے اس کی نہیں بنتی تھی، چنانچہ اس کی تمام پوسٹیں اسی حوالے سے ہوتیں اور اس کے مداحین کا حلقہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا۔ اس کے نظریات کو ناپسند کرنے والے بھی کچھ لوگ موجود تھے مگر اس کی شخصیت میں بھی اس کے نظریات پوری طرح راسخ تھے، چنانچہ وہ سمجھتا تھا کہ ہر شخص کو اختلاف کا حق حاصل ہے اور یوں اس کے ناقدین بھی اس سے پیار کرتے تھے اور یہ اختلاف چھیڑ چھاڑ کی حد سے آگے نہیں جاتا تھا۔ وہ سچا اور کھرا پاکستانی تھا، اس کا اختلاف اور اتفاق پاکستان سے محبت کے حوالے سے تھا۔ اس کی تدقین کے وقت میں اگر نیو کاسل میں ہوتا تو اپنی بھابی اور بھتیجوں سے کہتا کہ پاکستان کے اس عاشق کو پاکستان کے پرچم میں لپیٹ کر دفن کیا جائے۔

طارق احمد اور ہماری بھابی دونوں جہاں بہت پڑھے لکھے تھے وہیں دونوں بہت ہنس مکھ اور بے پناہ مہمان نواز واقع ہوئے تھے، اللہ تعالیٰ ہماری بھابی اور ہمارے بھتیجوں کو صبر جمیل عطا کرے، یہ دعا عموماً محض رسمی نوعیت کی ہوتی ہے، صبر کہاں آتا ہے، اگر میری آنکھیں اور میرا قلم آنسوئوں سے نم ہے تو ان کی کیفیت سے میں کیسے غافل ہو سکتا ہوں۔ پاکستان سے برطانیہ جانے والے کسی بھی شہر میں ہوتے، طارق کا فون آتا کہ نیو کاسل آئے بغیر واپس پاکستان نہیں جانا اور نیو کاسل لندن شہر سے کوسوں دور تھا مگر جانے والے پھر بھی جاتے تھے، گزشتہ برس یاسر بیٹا اپنے دوستوں کے ساتھ برطانیہ گیا تو طارق کے اصرار پر یاسر، اجمل شاہ دین اور قمر راٹھور تینوں نیو کاسل گئے اور طارق کے ہاں ٹھہرے۔ میاں، بیوی، بیٹے سب نے ان کا سواگت اپنے قریبی عزیزوں ایسا کیا۔ میں اور عزیر احمد بھی ان دنوں لندن تھے، طارق کے فون پر فون آئے کہ آپ لوگ بھی آئیں، میں نے کہا، یار پہلے ہی آپ کے ہاں ایک ’’ہجوم‘‘ لنگر ڈالے ہوئے ہے، ہم پھر کبھی آئیں گے، طارق کا جواب تھا کہ پہلے تم جس گھر میں آئے تھے وہ چھوٹا تھا، اب ہم نے اللہ کے فضل سے بہت بڑا گھر لیا ہے، لہٰذا فکر کی کوئی ضرورت نہیں، آپ کو علیحدہ کمرے میں ’’منجی بسترا‘‘ ملے گا، مگر میں نے ہنس کر ٹال دیا۔ میں ایک بار ایک کانفرنس میں لندن گیا تو طارق میرے سمیت اپنے دوسرے دوستوں کو ملنے کے لئے لندن چلا آیا اور جب میں اس کی طرف گیا تھا، تین دن اس کے گھر ٹھہرا اور تینوں دن اس نے شہر کی ’’کریم‘‘ کو اپنے ہاں ڈنر پر مدعو کیا اور اس کے علاوہ ایک محفل مشاعرہ کا اہتمام بھی کیا۔

ایک عجیب بات جس سے شاید ہی کسی کو اتفاق ہو، کہ مغربی ممالک میں بھی علاج معالجے میں مجرمانہ غفلت کی مثالیں ملتی ہیں۔ 1970ء میں مَیں جب امریکہ گیا تو میری جیب میں صرف سو ڈالر تھے چنانچہ مجھے کسی ایسی نوکری کی تلاش تھی جس کے عوض مجھے سر چھپانے کو جگہ اور کھانا مل سکے، چنانچہ سینٹ لوئیس اسپتال میں بلڈ ٹیکنیشن کی ضرورت تھی، میرے فرشتوں کو بھی اس ہنر سے آگاہی نہیں تھی، مگر ایک ’’نام نہاد‘‘ سے انٹرویو کے بعد مجھے یہ پارٹ ٹائم ملازمت مل گئی، سات دنوں میں صرف ہفتہ اور اتوار کو ڈیوٹی پر آنا تھا اور ایمرجنسی میں اسپتال لے جانے والے مریضوں میں سے جن کو فوری خون کی ضرورت ہوتی تھی، ان کے خون کا گروپ میچ کرکے انہیں خون کی بوتلیں فراہم کرنا ہوتی تھیں۔ اندازہ لگائیں یہ کام مجھ سے لیا جا رہا تھا، یہ تو میری اور مریضوں کی قسمت اچھی تھی کہ میرے ہاتھوں کوئی مرا نہیں، طارق احمد کو پانچ سال قبل کینسر کی تشخیص ہوئی تھی، مغرب میں باقاعدگی سے ہر شہری کا سالانہ طبی معائنہ ہوتا ہے۔ درمیان میں طارق کئی دفعہ پاکستان آیا، میں اسے یہاں اور وہاں ملتا رہا مگر اچانک پتا چلا کہ کینسر سارے جسم میں پھیل گیا ہے اور چند دنوں میں دوستوں کی جانِ محفل طارق کی وفات کی خبر آگئی۔ ایسے تین چار اور کیسز بھی میرے علم میں ہیں، مگر یہاں تو قلم لرز رہا ہے، لگتا ہے کہ کسی نحیف شخص کے خون کی طرح میرے قلم کی سیاہی بھی سوکھ گئی ہے۔ طارق یار! تم نے ہمارے ساتھ اچھا نہیں کیا۔