آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ26؍ جمادی الاوّل 1441ھ 22؍ جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

لاہور میں تین چار دن بہت مصروف رہا، اس مصروفیت کی وجہ میرے پیارے دوست ہیں، ان دوستوں کی وجہ سے زندگی میں دم ہے، زندگی کی سب رونقیں اُنہی کے دم سے ہیں، میرے لاہوری دوست تو اِسی تاڑ میں رہتے ہیں کہ کب یہ لاہور آئے۔ یہاں سب دوستوں کا تذکرہ مشکل ہے ویسے بھی یہ دعوتیں مردانہ تھیں کسی کا ذکر نہ بھی ہوا تو تعلقات کے خراب ہونے کا کوئی امکان نہیں مگر میں پھر بھی تبرک کے طور پر پانچ چھ دوستوں کا ذکر کردیتا ہوں تاکہ آپ کو یقین آجائے کہ واقعی یہ مردانہ محفلیں تھیں۔ پہلے روز میرے پیارے بابر چٹھہ نے بہت سے لوگوں کو دعوت پر بلا رکھا تھا یہاں خاص طور پر میاں سیف الرحمٰن اور آصف عفان نے شہنشاہِ ظرافت کی کمی محسوس نہیں ہونے دی، پھر اپنے حضرت بلال غوری اور پروفیسر عابد فاروق مسلسل تڑکہ لگاتے رہے، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بھی ایک کھانے کا اہتمام کیا۔ یہاں کئی پُرانے دوستوں سے ملاقات ہوئی، اگلے دن پی ٹی آئی کی ایم این اے عندلیب عباس کی اینکر بیٹی زینب عباس کی شادی تھی۔ اس موقع پر مختلف قسم کے سیاستدانوں سے گپ شپ ہوئی۔ غالباً یہ لاہور میں دوسری دوپہر تھی، ہمارے پیارے خوشیاں بانٹنے والے عطا الحق قاسمی نے لاہور کے لکھاریوں کو جمع کر رکھا تھا، سب سے زیادہ خوشی اس بات کی تھی کہ یاسر پیرزادہ بھی یہاں تشریف فرما تھے، حیرت ہے کہ اس پیرزادے میں روایتی پیروں کے لڑکوں والے نخرے نہیں ہیں۔ خیر یہاں مجیب الرحمٰن شامی، سردیوں کی شاموں میں لوگوں کو اداس پھرانے والے شعیب بن عزیز، رئیس انصاری اور گل نوخیز اختر اور سیاست پر جاندار تبصرہ کرنے والے جن کے کئی کالم عالمِ ارواح سے آتے ہیں یعنی سہیل وڑائچ۔ ویسے انہیں نکے دا ابا بھی لکھا جا سکتا ہے کیونکہ اُن کے فرزند کا نام رحمت ہے۔ یہاں رؤف طاہر اور علامہ فاروق عالم انصاری سے بھی ملاقات ہوئی۔ اِسی شام ایک محفل طاہر خلیق نے سجا رکھی تھی یہاں منیر احمد خان سے سیاسی گفتگو ہوئی۔ اب میں کچھ ملاقاتوں کو گول کرتا ہوں اور سیدھا الوداعی دعوت کا رُخ کرتا ہوں۔ پیپلز پارٹی میں جوانی گزارنے والے اور ابھی تک جوانی قائم رکھنے والے دوستوں کے دوست نوید چوہدری نے تو سب چنیدہ صحافیوں سے ملاقات کا بہانہ بنا دیا۔ ایاز خان، لطیف چوہدری، کاظم خان اور میاں حبیب سمیت کئی دوستوں سے ملاقات ہوئی، بھا خالد قیوم اور سہیل وڑائچ کو آمنے سامنے بٹھا کر جاٹوں کی بات شروع کی گئی جسے زیادہ سمجھدار جاٹ نے یہ کہہ کر ختم کر دیا کہ جاٹوں میں باجوے سب سے آگے ہیں، سب سے زیادہ ذہین ہیں اور ترقی پسند بھی، اُن کے بقول سیالکوٹ اور نارووال کے جاٹ آگے ہیں، اس کی بڑی وجہ تعلیم ہے۔ اس محفل کے آخری دموں میں وصی شاہ بھی شریک ہوئے۔ 

خواتین و حضرات، مجھے دو سیاستدانوں کے بیانات پر حیرت اور ایک کے بیان پر خوشی ہوئی ہے۔ جن دونوں پر حیرت ہوئی ہے کہ اُن کا پسِ منظر روالپنڈی سے ہے۔ مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنما مشاہد اللہ خان نے فرمایا ہے کہ پی آئی اے سے جعلی ڈگری والوں کو نہ نکالا جائے، یہ معاشی قتل ہے۔ کوئی ان صاحب سے یہ پوچھے کہ حضور ایک تو ان لوگوں نے جرم کیا، غلط بیانی کی، انہیں اس کی سزا ملنی چاہئے، دوسرا جعلی ڈگری والوں نے حقداروں کا راستہ روکا، اس کی بھی سزا ملنی چاہئے۔ قوم تو چاہتی ہے کہ جن لوگوں نے جعلی ڈگری والوں کو بھرتی کیا تھا انہیں بھی سزا ملنی چاہئے اور اب جو لوگ جعلی ڈگری والوں کا تحفظ کررہے ہیں انہیں بھی سزا ملنی چاہئے۔ قوم اچھی طرح جانتی ہے کہ اِن لوگوں نے اِن جعلی ڈگری والوں کو بھرتی کیا اور اِس ملک کے مستحق لوگوں کا حق چھینا۔ کوئی مشاہداللہ خان سے یہ پوچھے کہ کسی کا حق مارنا انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے؟ دراصل اب وہی لوگ جعلی ڈگری والوں کو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جنہوں نے اِس گورکھ دھندے میں کھیل رچایا تھا۔

ریڈیو، ٹی وی، واپڈا، ریلوے، اسٹیل مل اور تمام شہروں کی کارپوریشنوں سمیت دوسرے محکموں سے بھی جعلی ڈگری والوں کو نکالنا چاہئے تاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہو سکے۔ مثال کے طور پر ریڈیو پاکستان میں جعلی ڈگری کے حامل کئی افراد بھرتی ہوئے ہیں، کئی افراد نے اپنے شناختی کارڈوں میں تبدیلیاں کی ہیں۔ لیکن ایک اہم عہدیدار ایسے مقدمات کو ہاتھ لگانے کیلئے تیار نہیں کیونکہ وہ خود اِن جعل سازیوں میں ملوث ہے۔ بہت سے محکموں کے افسران یہ کھاتے اِس لئے نہیں کھول رہے کیونکہ اُن کی زیرِ نگرانی بہت کچھ ہوا ہے۔ اگر پورا سچ قوم کے سامنے آ جائے تو پتا نہیں کتنے محکمے خالی ہو جائیں۔ آپ کو حیرت ہو گی کہ پرائیویٹ اسٹیل ملیں ترقی کر ہی ہیں اور سرکاری اسٹیل مل مسلسل خسارے میں ہے۔ دوسری حیرت فیاض الحسن چوہان پر ہے انہوں نے کس شاندار کارکردگی پر کسی کو شیر شاہ سوری بنا دیا ہے۔ پتا نہیں اُنہوں نے عثمان بزدار میں جنگی مہارت دیکھی ہے یا تعمیراتی فن کا جنون۔ پچھلے ڈیڑھ سال سے تو پنجاب میں کوئی ترقی نہیں ہو سکی۔ ممکن ہے چوہان صاحب نے کوئی خواب دیکھا ہو اور اُس خواب میں مستقبل کا شیر شاہ سوری بھی دیکھا ہو۔ صبح اُٹھتے ہی وہ شکل بھول گئے ہوں اور وہ شکل عثمان بزدار سے ملا دی ہو۔ خوشی اس بات کی ہے کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے باقی زندگی معذور افراد کے نام کردی ہے بقول غالب:

بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے

ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے