آپ آف لائن ہیں
اتوار13؍ذیقعد 1441ھ 5؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پنجاب سے تعلق رکھنے والے نابغہ روزگار ماہر اقتصادیات اور علوم و فنون ممتاز حسن مرحوم کا کہنا ہے ’’شیر شاہ دنیا کے ایسے عظیم بادشاہ تھے، جنہیں اُن کے دشمن شہنشاہ ہمایوں نے بھی بادشاہوں کا بادشاہ قرار دیا‘‘۔ یاد رہے کہ جب 1545ء میں شیر شاہ سوری کا انتقال ہوا تو یہ خبر سن کر ہمایوں کے منہ سے بے اختیار نکلا، شاہِ شاہان مرگ (بادشاہوں کا بادشاہ فوت ہوا) پنجاب ہی کے ایک وزیر فیاض چوہان کا البتہ کہنا ہے کہ لوگ آج تک شیر شاہ کو تو (گویا خواہ مخواہ) یاد کرتے ہیں مگر کارناموں پر بھی عثمان بزدار کا ذکر نہیں کرتے۔ ہم مانتے ہیں ہر وزیر و مشیر ہر بات کہنے میں آزاد ہے لیکن ہم یہاں سچ کہیں گے اور سچ کے سوا کچھ نہ کہیں گے۔ تاریخ کا سچ یہ ہے کہ شیر شاہ صاحبِ علم تھے۔ تین برسوں میں فارسی پر عبور حاصل کر لیا تھا، وہ جنگجو تو تھے ہی، ادب، تاریخ اور مذہب پر بھی اُن کی دسترس تھی۔ اس زمانے میں پختونوں میں لکھنے پڑھنے کا شوق نہیں پایا جاتا تھا، اس لیے فرید خان المعروف شیر شاہ کا اس طرح لکھ پڑھ جانا بڑی بات تھی۔

شیر شاہ سوری نے ملکی نظم و نسق بہتر بنانے کیلئے سلطنت کو 47اضلاع اور ایک لاکھ سولہ ہزار تحصیلوں میں تقسیم کیا۔ سب سے اہم کام پورے ہندوستان میں سڑکوں کی تعمیر ہے۔ سیسرام سے آگرہ تک سڑک بچھائی، بہار اور اتر پردیش کا رابطہ بحال کیا۔ آگرہ سے جونپور اور چیتور تک سڑک کیلئے راستہ ہموار کیا۔ آگرہ سے برہان پور، دکن اور گجرات تک سڑک بچھائی۔ ملتان تا لاہور نئی سڑکیں بچھائی گئیں، اس سے پہلے چھوٹی چھوٹی کچی سڑکیں تھیں جو پکی اینٹوں کے ذریعے پختہ کی گئیں۔ پچیس سو کلومیٹر لمبی مرکزی شاہراہ شیر شاہ کی بنائی ہوئی ہے، جس نے ہندوستان کے بڑے شہروں کلکتہ، بنارس، علی آباد، امرتسر اور لاہور کو جوڑے رکھا۔ پشاور سے کلکتہ تک سڑک اعظم (جی ٹی روڈ) ہے جو پاک و ہند میں اپنی مثال آپ ہے، سونے پہ سہاگا یہ کہ شیر شاہ نے ان سڑکوں پر ایک ہزار سات سو سرائے تعمیر کروائیں، ہر سرائے میں ہندوؤں اور مسلمانوں کیلئے رہائش اور خوراک کا علیحدہ انتظام ہوتا تھا، ہر سرائے کے ساتھ مسجد اور کنواں تھا۔ سامان کی حفاظت کے لیے چوکیدار متعین ہوتے اور دروازے پر پانی کے ٹھنڈے مٹکے رکھے جاتے تھے۔ سڑک کے کنارے باولیاں (کنویں) تعمیر کیے گیے جس سے مسافر پینے کا پانی حاصل کرتے۔ ان باولیوں میں نیچے اُتر کر پانی حاصل کرنے کے لیے سیڑھیاں بنائی گئی تھیں۔ سڑک کے دونوں کناروں پر پھلدار درخت لگائے گئے۔ راہگیروں کی حفاظت پر ہر ایک کوس (تقریباً ساڑھے تین کلومیٹر) پر ایک فوجی چھائونی ہوتی۔ قلعہ روہتاس جو فنِ تعمیر کا شاہکار ہے، میں دیو ہیکل پتھر لگائے گئے۔ ان بڑے بڑے پتھروں کو بلندیوں پر نصب دیکھ کر عقل حیران رہ جاتی ہے۔ خداداد صلاحیتوں کے حامل اس حکمران نے 1543ء میں ایک تولے سونے کا سکہ جاری کیا اور اس کا نام روپیہ رکھا۔ آج پاکستان، بھارت ہی نہیں انڈونیشیا کی کرنسی بھی روپیہ ہے، جو شیر شاہ کی یادگار ہے۔ برق رفتار ڈاک کا نظام قائم کیا۔ تجارتی مال پر کسٹم ڈیوٹی حاصل کرنے کا آغاز کیا۔ اس سے قبل محصول کا نظام تھا مگر ایسا کہ ایک علاقہ میں ہوتا تو دوسرے میں نہ ہوتا۔ اسی آمدن کے بل بوتے پر شیر شاہ نے خزانہ قائم کیا۔ ظاہر ہے جب سرکاری خزانہ قائم ہو جائے تو حکومت مستحکم ہو جاتی ہے، اسی بنیاد پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہندوستان کی یہ پہلی حکومت تھی جس نے انسانی زندگی میں آسانی لانے کیلئے لاجواب کام کئے۔ انہوں نے فوجیوں کو باقاعدہ تنخواہ دینے کا عمل شروع کیا، قبل ازیں لشکری مالِ غنیمت پر اکتفا کرتے تھے۔

ہندوؤں کی رسم ستی، جس میں شوہر کے مرنے پر بیوہ کو زندہ جلا دیا جاتا تھا، کا خاتمہ بھی شیر شاہ ہی کا کارنامہ ہے۔ اُنہوں نے ملک بھر میں زمین کی پیمائش کے لیے ایک پیمانہ مقرر کیا اور اسی مناسبت سے فصلوں پر ٹیکس کی شرح عائد کی، اگر کسی سال فصل اچھی نہ ہوتی یا نقصان ہوتا تو ٹیکس معاف اور سرکاری خزانے سے کسانوں کو معاوضہ دیا جاتا۔ اس طرح مثالی امن، عدل و انصاف سمیت دیگر حیران کن کارنامے ہیں۔ تمام مورخین حیران ہیں کہ محض پونے 5سالہ دور میں اتنے سارے کام وہ کیسے کر گیا اور پھر خود ہی جواب دے جاتے ہیں کہ اتنے سارے کام صرف فرید خان ہی کر سکتا تھا۔ ہاں مگر پنجاب کے وزیر جو کچھ کہہ رہے ہیں، اُس کی بھی کوئی ’منطق‘ ہو گی، راقم  چونکہ عہدِ موجود کے کسی شیر شاہ کے کسی کارنامے سے شومئی قسمت آگاہ نہیں، اس لئے کچھ لکھنے سے قاصر ہے، پھر اِس حقیر فقیر کو اپنا یہ قول بھی نبھانا ہے کہ سچ کہوں گا سچ کے سوا کچھ نہ کہوں گا...