آپ آف لائن ہیں
منگل11؍صفر المظفّر 1442ھ 29؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

نظر نہ آنے والی ترقی

کہتے ہیں ایک جولاہے نے بادشاہ کو نظر نہ آنے والا لباس تیار کر کے پورے شہر میں بےلباس پھرایا تھا، تاریخ کہیں خود کو دہرا تو نہیں رہی کہ خبریں دیکھ سن کر، پڑھ کر ترقیوں کے انباروں کا گمان تو گزرتا ہے۔ زمین پر کوئی ’’وَل گل‘‘ دکھائی ہی نہیں دیتی، البتہ یہ اعتراف ضرور مشاہدے میں آ چکا کہ حکومت مان گئی کہ اس نے ڈیزل پر 45، پٹرول پر 35روپے لٹر ٹیکس کا ثواب کمایا اور بجلی کی قیمت کو بھی مزید چڑھایا۔ چالاک جولاہوں کو اگر ان کی کھڈیوں سمیت اٹھا دیا جائے تو بےلباسی کو اوپر سے نیچے تک پہنچنے سے روکا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم نے خود کہا ہے کہ کرپشن اوپر سے نیچے آتی ہے، حکمرانوں سے ترجمانوں تک ترقی کی سونامی چلتی سنائی دیتی ہے مگر تلخ ترین حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کے امیر بھی غریب ہو رہے ہیں، تو غریب عوام کو تو بازار کا نام سن کر غشی کے دورے پڑتے ہیں۔ کرنے لائق پہلا کام تو یہ تھا کہ پاکستان کو ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں کھڑا کرنے کے بجائے پہلی ترجیح ہوتی کہ قرضے اور شہزاد اکبر کے واپس لائے گئے پیسے مہنگائی کم کرنے پر خرچ کئے جاتے، اب اس طرح زبانی جمع خرچ سے کام نہیں چلے گا کہ ؎

دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا

میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں نہیں

حالات کا بگاڑ اگر اسی طرح جاری رہا تو ہم تو غالبؔ کا پورا دیوان بگاڑ بیٹھیں گے۔ حاکمِ پنجاب اپنی کارکردگی کے اشتہار دیں کہ ؎

گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے

اشتہار تو دو کہ میڈیا کا کاروبار چلے

٭ ٭ ٭ ٭ ٭

ہوائی فائرنگ بند کرائیں

ہمیں پوش علاقوں کا اس لئے علم نہیں کہ ہمیں وہاں رہنے کا شرف حاصل نہیں، البتہ یہ ہر روز معلوم ہوتا ہے کہ فتح گڑھ سے ہربنس پورہ تک ہر موسم میں ایسی فائرنگ ہوتی ہے کہ چیونٹی بھی دبک جاتی ہے، ممنوعہ بور کا یہ اسلحہ اس غریب علاقے میں کہاں سے آتا ہے، ڈر کے مارے کوئی رپورٹ نہیں کرتا کہ اسے کوئی گولی نہ مار دے۔ اس علاقے میں تھانے بھی ہیں، شاید ان کے پاس وافر دانے ہیں اس لئے ان کے کملے بھی سیانے ہیں۔ مجال ہے کہ وہ کبھی ہولناک ہوائی فائرنگ کی کان پھاڑ آواز سن کر سوموٹو نوٹس ہی لے لیں۔ ایس ایس پی سٹی سے گزارش ہے کہ اپنی اس مذکورہ بالا علاقے کی امت کو درست کریں، معلوم کیا جائے کہ یہ کون لوگ ہیں جو غریبوں کی بستی میں ہر شام ہر رات کو انتہائی مہنگے اسلحے سے فائرنگ کرتے ہیں اور مائوں کی گود میں بچے ڈر جاتے ہیں۔ سلامت پورہ میں اسموگ تیار کی جاتی ہے۔ کوئی آٹھ بھٹیاں ہیں جن میں رات کو کوڑا جلایا جاتا ہے اور کوئی کھڑکی بھی نہیں کھول سکتا۔ ہم ان مسائل پر وزیراعلیٰ سے براہِ راست مخاطب ہو کر بھی بارہا لکھ چکے ہیں مگر ’’زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد‘‘ کیا ہی اچھا ہوتا کہ 20سال پہلے کا لاہور ہوتا اور ہم فنِ کالم نگاری کے جوہر دکھاتے، کوئی علمی ادبی کاوش تحریر کرتے، کچھ معلومات فراہم کرتے، اب غمِ دوراں ہے اور ہم ہیں دوستو، جو پڑھا وہ مہنگائی لے گئی، یہ کچھ جرائم پیشہ بدمعاش ہیں جو نہر کے اس پار خود کو محفوظ سمجھتے اور غریب بستیوں کو اپنا وجود محسوس کراتے ہیں۔ اس علاقے میں کبھی پولیس پٹرولنگ نہیں کرتی، ناجائز اسلحہ اگر برآمد کیا جائے اور گرفتاریاں، سزا کا عمل جاری ہو تو پی ٹی آئی لاہور کا سر بلند اور وزیراعلیٰ کی عزت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

٭ ٭ ٭ ٭ ٭

ہم کشمیر کو بھول ہی گئے

مقبوضہ کشمیر پر مودی کی سفاکانہ گرفت کو 3ماہ ہو گئے، اب تو کشمیریوں کی نسل کشی بھی شروع ہو گئی بلکہ وادی کی شناخت بھی گم ہوتی جا رہی ہے، جو فلسطین میں مسلمانوں کے قتلِ عام کے سرپرست ہیں وہ بھلا کشمیر کا کیا نوٹس لیں گے۔ وزیراعظم نے ہر جمعہ کو کشمیریوں سے یکجہتی کیلئے مختص کیا مگر شاید وہ نام نہاد ترقی کی دھول میں گم ہو گئے، ہمارے سفارتخانے کیا کر رہے ہیں۔ کوئی شیڈو سفارتخانے بھی کھولے جائیں، کیونکہ ہمارا مزاج ہے کہ ایک ضامن چاہئے ضامن کیلئے۔ مسلم امہ کا کوئی سمٹ، بھٹو مرحوم کے انداز کا بلایا جائے۔ 67اسلامی ملکوں کے سربراہ یکجا ہو کر کشمیر پر بات کریں گے تو مظلومان کشمیر کی آواز فریاد پوری دنیا میں گونجے گی، کیا کشمیری مسلمانوں کی خاطر اسلامی ممالک قربانی نہیں دے سکتے۔ کیا وہ اپنے تجارتی مفادات کی خاطر اسی طرح کشمیری مسلمانوں پر ظلم و ستم برداشت کرتے رہیں گے، کیا مقبوضہ کشمیر پر مسلم امہ کوئی ایسی سفارتی و تجارتی کارروائی نہیں کر سکتی جو مودی سرکار کو مجبور کر دے اور وہ حقِ خود ارادیت دینے پر تیار ہو جائے۔ آر ایس ایس کا فلسفہ چانکیائی نظریات پر کھڑا ہے، بہرحال اگر پاکستان کے علاوہ مسلم ریاستیں اپنا فرض ادا نہیں کرتیں تو ہمارے ہاں کشمیریوں کے ساتھ لفظی تعاون بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ان تمام این جی اوز کو بین کر دیا جائے جو کشمیر کیلئے کچھ نہیں کرتیں۔ وزیراعظم ای گورننس میں مسئلہ کشمیر کو بھی شامل کر لیں۔

٭ ٭ ٭ ٭ ٭

دو عمران

٭شہباز شریف: عمران کے دل میں اپوزیشن کیخلاف بغض ہے۔

ماہرین سے اس کی وجہ معلوم کرائی جائے، ہمارا خیال ہے کہ محبت کے بجائے یہ مان لیا جائے کہ مہنگائی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، کچھ اس کا بھی علاج ہے کہ نہیں؟

٭پاکستان میں حکومت ’’نائزپلوشن‘‘ ختم کرنے کا بھی کچھ کرے، ورنہ یہاں بصیرت کے بعد قوتِ سماعت بھی رخصت ہو جائے گی۔

٭فردوس عاشق اعوان: اپوزیشن کا مائنس وزیراعظم کا ارمان پورا نہیں ہوگا۔

انسان اپنے ارمانوں کیلئے کیا کچھ نہیں کرتا، بات صرف انفرادی ارمانوں کی ہے اجتماعی ارمان تو ہاتھیوں کے پائوں تلے کچلے جا رہے ہیں، اس عمل کو مائنس کرنے کا چارا کرنا چاہئے۔

٭تجزیہ کار: خطرہ ہے شہباز کہیں عمران کے متبادل نہ بن جائیں۔

جہاں دو دو عمران ہوں گے وہاں سورج کیسے اور کہاں سے نکلے گا۔

٭ ٭ ٭ ٭ ٭