آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ26؍ جمادی الاوّل 1441ھ 22؍ جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

نرجس مختار، خیرپور میرس، سندھ

گزشتہ ہفتے ایک تقریب میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں پہنچے تو ایک میز کے اردگرد بیٹھی چند خواتین محوِ گفتگو نظر آئیں۔ وہیں ایک خالی کرسی پر ہم بھی براجمان ہو گئے۔ جب ان کی آوازیں سماعت سے ٹکرائیں ،تو معلوم ہوا کہ زیرِبحث موضوع’’ بہوئیں ‘‘ہیں۔ دفعتاً خیال آیا کہ وہ تو بے چاریاں ہر جگہ ہی عتاب کا شکار رہتی ہیں۔ بہرحال، موضوع دِل چسپ لگا، تو ہم بھی وقت گزاری کی غرض سے متوجہ ہوگئے۔ 

تو لیجیے، ذرا ہونے والی گفتگو آپ بھی سُنتے جائیں۔ ایک خاتون کچھ یوں گویا ہوئیں، ’’اُف آج کل کی بہوئیں…‘‘ پھرکانوں کو ہاتھ لگا کر بولیں۔’’توبہ بھئی توبہ، کسی کو خاطر ہی میں نہیں لاتیں، نہ بڑوں کا ادب، نہ چھوٹوں کا لحاظ۔‘‘ایک خاتون نے فوراً لقمہ دیا،’’ایک ہمارا زمانہ تھا کہ سُسرال والوں کے نام ہی سے دَم نکلتا تھا اور سُسرال والے پھر بھی تنقید کرتے نہیں تھکتے تھے۔ اور یہ تو گویا سارے جہاں کی عقل ساتھ لے کر آئی ہیں۔ 

اپنے آپ کو عقلِ کُل سمجھتی ہیں۔ گویا سقراط ہیں، سقراط…۔‘‘ساتھ بیٹھی ایک اور خاتون گویا ہوئیں،’’ اگر غلطی سے ساس، نند کوئی مشورہ دے ہی دیں، تو بہو صاحبہ کا مزاج ہی برہم، بلکہ درہم برہم ہوجاتا ہے،آنکھیں ناگواری سے پھیل جائیں گی، ماتھے کی سلوٹیں اور بھی گہری ہوکرچہرے کے زاویے تیزی سے بدلنے لگتی ہیں۔ ایسے میں مشورے پر عمل تو درکنار، اُلٹا ہم ہی شرمندہ ہوکر وہاں سے روانہ ہونے میں عافیت سمجھتے ہیں۔‘‘ ایک اور بولیں،’’وہ ہے ناں، ؎’’کہا تھا کس نے تجھے آبرو گنوانے جا، تو حالات تو کم و بیش ایسے ہی ہیں۔ اب کیا کہیں؟ادب آداب، تہذیب شائستگی کا کوئی دَور ہی نہیں رہ گیا ہے۔‘‘

ایسی ہی کئی اور باتیں ہورہی تھیں،جو کسی حد تک درست بھی تھیں ۔بقول پروین شاکر؎’’بات تو سچ ہے، مگر بات ہے رسوائی کی‘‘، لیکن قصوروار صرف بہوئیں نہیں۔ کمی تو کہیں نہ کہیں اُن کی تربیت میں ہے۔جو یقیناًوالدین، خاص طور پر مائوںکی ذمّے داری تھی۔کیوں کہ اگر بچّیوں کو بچپن ہی سے صحیح تربیت دی جائے، بڑے، چھوٹوں کا ادب لحاظ سکھایا جائے، تحمّل و برداشت کا تھوڑا درس دیا جائے، تو ظاہر سی بات ہے کہ اس اچھی تعلیم و تربیت کےاثرات شادی کے بعد کی زندگی پر بھی اچھے ہی مرتّب ہوں گے۔یعنی اگربچّیوں کی تربیت ابتدا ہی سے اس ڈھب، اس انداز سے کی جائے کہ انہیں اگلے گھر بھی جانا ہے،تو اس میں ہرگز کوئی مضائقہ نہیں۔ بیٹیوں کو اچھی تعلیم کے ساتھ گھر داری، ادب لحاظ بھی سکھائیں۔ صبر و برداشت کی تعلیم دیں۔

انہیں بتائیں اورسمجھائیں کہ جب وہ اگلے گھر جائیں گی، تووہاںاُنھیں خوش دِلی، خوش مزاجی سے شوہر اور اس کے گھر والوں کے ساتھ زندگی گزارنی ہے۔سب کے ساتھ عزّت و محبّت، نرمی و شائستگی سے پیش آنا ہے۔ عجز و انکساری کو ملحوظِ خاطر رکھنا ہے ،تو سلیقہ مندی ،کفایت شعاری سے زندگی گزارنی ہے۔وہ بڑےبوڑھے کہتے ہیں ناںکہ ’’لڑکی سلیقہ مندہو،تو جھونپڑی کو محل اور پھوہڑ ہو،تو محل کوجھونپڑی بنا دیتی ہے۔‘‘تو سو فی صد درست کہتے ہیں۔ معروف ناول نگار، ڈپٹی نذیر احمد بھی اپنی تحریروں کے ذریعے بیٹوں ، بیٹیوں کو یہی سمجھاتے رہے کہ اچھی زندگی، اچھی تعلیم وتربیت ہی کی مرہونِ منت ہے۔

توخدارا! اپنی اس ذمّے داری سے غفلت نہ برتیں۔ ورنہ آپ اور آپ کی پھول جیسی بیٹیاں تمام زندگی گرم ہوائوں کے تھپیڑوں ہی سے نبردآزما رہیں گی۔سو،آج ہی سے اپنی پریوں، راج دُلاریوں کی تربیت پر خاص توجّہ دینا شروع کریں،تاکہ جب وہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوں،تو ایک نئی خوش گوار زندگی کی شروعات درست طریقے سے کرسکیں۔

سنڈے میگزین سے مزید