آپ آف لائن ہیں
بدھ5؍ صفر المظفّر 1442ھ23؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بھارتی شہریت کا متنازع قابل مذمت، مسترد کرتے ہیں، وزیراعظم

بھارتی شہریت کا متنازع قابل مذمت، مسترد کرتے ہیں، وزیراعظم


وزیراعظم عمران خان نے بھارت کے متنازع شہریت بل کو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس ) کے توسیع پسندانہ عزائم کی کڑی قرار دیدیا ہے۔

وزیراعظم نے ایک بیان میں بھارتی حکومت کے بل کی مذمت کی اور اسے مسترد کیا اور کہا کہ فاشسٹ مودی حکومت حکومت آر ایس ایس کے عزائم کی تکمیل کررہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی شہریت کا قانون عالمی انسانی حقوق کے قوانین اور پاکستان اور بھارت کے درمیان دو طرفہ معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارتی شہریت دینے کی قانون سازی تعصب پر مبنی ہے، بھارتی فیصلے سے بھارت میں اقلیتوں کے حقوق اور سیکیورٹی پر سوالات اٹھے ہیں۔

بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے تارکین وطن کی شہریت سے متعلق بھارت کے متنازع بل کی منظوری کو بھارتی آئین پر حملہ قرار دے دیا ہے۔

بی جے پی حکومت کے پیش کردہ بل کا مقصد سٹیزن شپ بل 1955میں تبدیلی کرنا ہے، جس کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے ان غیرقانونی، غیرمسلم شہریوں کو بھارتی شہریت دینا ہے جو 31دسمبر 2014 یا اس سے قبل بھارت آگئے تھے۔

گزشتہ روز حیدرآباد دکن سے تعلق رکھنے والے بھارتی پارلیمنٹ کے شعلہ بیان مقرر اسد الدین اویسی نے سٹیزن شپ ترمیمی بل کی مذمت کرتے ہوئے مسودے کی کاپیاں پارلیمنٹ میں پھاڑ ڈالیں۔

کانگریسی رہنما اور سابق مرکزی وزیر ششی تھرور نے بھی لوک سبھا میں متنازع بل کی مذمت کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سٹیزن شپ ترمیمی بل کی منظوری محمد علی جناح کی گاندھی کے مقابلے میں فتح ہے۔

بھارتی پارلیمنٹ میں تارکینِ وطن کی شہریت سے متعلق متنازع ترمیمی بل کی منظوری کے خلاف بھارت کے اندر سے ہی آوازیں اٹھنے لگیں، شمال مشرقی ریاستوں میں آج 12 گھنٹے تک ہڑتال رہی۔

قومی خبریں سے مزید