آپ آف لائن ہیں
جمعہ29؍محرم الحرام 1442ھ 18؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سمندروں میں تیزی سے آکسیجن کم ہونے کا انکشاف

لندن( جنگ نیوز) موسمیاتی تغیراتی تبدیلیوں کے حوالے سے ہونے والی تحقیق کے پریشان کن نتائج سامنے آئے ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات زمین کے ساتھ سمندر پر بھی مرتب ہورہے ہیں۔برطانوی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں درجہ حرارت بڑھنے اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سمندر کی سطح میں تیزی سے آکسیجن کی کمی ہورہی ہے۔تحقیق کے مطابق اب تک چالیس ہزار سے زائد ایسے سمندروں کی نشاندہی ہوئی جن میں آکسیجن تیزی سے کم ہورہی ہے۔ ماہرین کے مطابق آکسیجن کی کمی بڑی مچھلیوں کے لیے خطرہ ہیں۔ماحولیاتی تبدیلی پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ صنعتوں سے نکل کر سمندر میں گرنے والا کیمیکل زدہ پانی میں فاسفورس اور نائیٹروجن کی بڑی مقدار شامل ہے، یہ پانی سمندری ماحولیات کو تباہ کررہا ہے۔تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ فضا میں تیزی سے بڑھتی ہوئی کاربن ڈائی آکسائیڈ بھی سمندر کو نقصان پہنچا رہی ہے جس کی وجہ سے سمندری پانی اپنے اندر زیادہ درجہ حرارت کو جذب کررہا ہے۔ماہرین نے انکشاف کیا کہ آکسیجن کی کمی سے آبی حیات کو خطرہ ہے اور امکان ہے کہ چالیس فیصد سمندری مخلوق اس وجہ سے مردار ہوجائے گی۔محققین کا کہنا ہے کہاگر یہی صورتحال رہی تو دو سال بعد دنیا بھر کے سمندروں میں تین سے چار

فیصد آکسیجن باقی بچے گی جبکہ بڑی مچھلیوں کا سطح آب کے قریب آنا بھی اسی بات کی واضح علامت ہے۔

یورپ سے سے مزید