آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مصباح اورمکی آرتھر، دو منفرد شخصیات کے مالک

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے موجودہ ہیڈ کوچ مصباح الحق اور سابق ہیڈ کوچ مکی آرتھر دو الگ الگ انداز اور دو منفرد شخصیات کے مالک ہیں، مصباح الحق کا تعلق بھی عمران خان کے آبائی شہر میاں والی سے ہے، عمران خان کی طرح وہ بھی نیازی اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔

مکی آرتھر جنوبی افریقا سے تعلق رکھتے لیکن اس وقت ان کے پاس آسٹریلوی شہریت ہے اور پرتھ میں رہتے ہیں، سوا تین سال پاکستان ٹیم کے ساتھ رہتے ہوئے انہیں اپنی شریک حیات سے بھی علیحدہ ہونا پڑا۔

مکی آرتھر کی اہلیہ نے ڈیڑھ سال پہلے ان سے علحیدگی اختیار کرلی تھی ، اہلیہ سے علیحدگی کے باوجود ان سے ملیں تو وہ زندہ دل دکھائی دیتے ہیں۔

مصباح الحق پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ بننے کے بعد زیادہ سنجیدہ ہوگئے ہیں، مصباح اور مکی آرتھر جمعرات سے کراچی میں اپنی اپنی ٹیموں کو فتح دلانے کے لیے میدان میں اتریں گے۔مکی اس وقت سری لنکا کے ہیڈ کوچ ہیں۔

نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں پریس کانفرنس میں مصباح اور مکی کی شخصیت کے دو روپ دکھائی دیئے، تین سال سے زائد عرصہ پاکستان کے ہیڈ کوچ رہنے والے مکی آرتھر مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ پاکستانی میڈیا کے سامنے آئے، کئی پرانے صحافی دوستوں سے الگ الگ مصافحہ کیا اور ان کی خیریت دریافت کی۔

اسی دوران ایک بے تکلف دوست نے ازرہ مذاق کہہ دیا کہ مکی لگ رہا ہے کہ آپ غلط رنگ کی ٹریننگ شرٹ پہن کر آگئے ہیں۔مکی آرتھر جنہیں وسیم اکرم اور مصباح کی سفارش پرکوچنگ سے ہٹا یا گیا تھا انہوں پریس کانفرنس میں بر ملا کہہ دیا کہ پاکستان میرے دل کے قریب ہے۔میرا ا س ٹیم کے لڑکوں سے تعلق رہا ہے اور آج بھی کئی لڑکے مجھ سے رابطے میں ہیں۔پاکستان واپس آکر میں خوش ہوں۔

انہوں کہا کہ میرے مصباح سے بھی اچھے تعلقات ہیں او ر پھر اردو میں کہہ دیا کہ سب ٹھیک ہے۔

مصباح الحق سے دریافت کیا گیا کہ پاکستان ٹیم ہار رہی ہے اور مسلسل شکستوں سے آپ دباو کا شکار ہیں ؟ مصباح الحق نے کہا کہ پتہ نہیں دباؤ کیا ہوتا ہے دباؤ صرف یہی ہے کہ آپ کی زندگی عارضی ہے، مجھ پر یہی پریشر ہے کہ زندگی عارضی ہے، میری کوشش ہے کہ اپنی پوری قوت پاکستانی ٹیم کی بہتری اور ترقی پر لگاوں، ٹیم کو بہتر کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔

مصباح الحق نے کہا کہ ٹیم میں بہتری ایک دو میچوں کے لیے نہیں ،طویل المعیاد بنیادوں کے لیے ہونی چاہیے، ایسا نہ ہو کہ میرے جانے کے بعد نئے آنے والوں کو وہی مسائل ہوں مکی آرتھر نے کہا کہ نیشنل اسٹیڈیم میں میرا سو فیصد ریکارڈ ہے۔2007ءمیں میری کوچنگ میں جنوبی افریقا نے پاکستان کو کراچی ٹیسٹ میں شکست دی تھی اور مجھے پتہ ہے کہ پاکستانی ٹیم کو کس طرح زیر کرنا ہے۔

مکی آرتھر نے کہا کہ مجھے سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ پاکستان میں دس سال بعد ٹیسٹ کرکٹ واپس آئی ہے۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر مکی آرتھر نے ہنستے ہوئے اردو میں شکریہ کہا اور دوستوں سے ملتے ہوئے چلے گئے۔

انہوں نے کہا کہ پنڈی ٹیسٹ کی بنیاد پر یہ کہنا مشکل ہے کہ کس ٹیم کو نفسیاتی برتری حاصل رہی، دونوں ٹیموں کو نفسیاتی برتری کے بجائے نئے میچ میں نئے سرے سے اپنی ٹیم کو آزمانا ہوگا۔

جمعرات سے شروع ہونے والے دوسرے ٹیسٹ کے لئے دونوں ٹیموں نے نیشنل اسٹیڈیم میں پاکستانی کرکٹ ٹیم اپنے فاسٹ بولروں کی مدد سے سری لنکا کو شکست دے کر ٹیسٹ سیریز اور ٹیسٹ میچ جیتنا چاہتی ہے۔

ایسے میں پاکستان کو ٹیسٹ سے دو دن پہلے اس وقت بڑا دھچکا لگا ہے جب ان کے فاسٹ بولرعثمان خان شنواری کو تیز بخار، انفکشن اور گیسٹرو کی وجہ سے مقامی اسپتال داخل کردیا گیا ہے اور وہ میچ میں حصہ نہیں لے سکیں گے، پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق کہتے ہیں کہ جیت کے لیے بیس وکٹوں کی ضرورت ہے اور کیوریٹر کو یہی کہا ہے کہ ہمیں اسپورٹنگ پچ پر میچ کھیلنا ہے اسپورٹنگ کا مطلب یہ ہے کہ ہم فاسٹ بولروں سے میچ جیتنا چاہتے ہیں۔

عثمان شنواری کے ان فٹ ہونے کے بعد پاکستان تین فاسٹ بولروں شاہین شاہ آفریدی،محمد عباس اور نسیم شاہ اور واحد لیگ اسپنر یاسر شاہ کے ساتھ میدان میں اترے گا۔

مصباح نے اشارہ دیا کہ کراچی کے میچ میں فواد عالم کی شرکت کے امکانات نہیں ہیں اس لیے فواد عالم کو ٹیسٹ کھیلنے کے لیے مزید انتظار کرنا ہوگا، عثمان شنواری انفیکشن اور بخارمیں مبتلا ہیں۔

سندھ حکومت کے محکمہ صحت کی جانب سے مقامی ہوٹل میں قائم اسپتال میں داخل عثمان شنواری کا معائنہ کرنے کے بعد ان کو ضروری ادویات تجویز کی گئیں اورمکمل آرام کا مشورہ دیا گیاہے۔

مصباح الحق سے جب پلیئنگ الیون میں فواد عالم کی شمولیت کے حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ فواد عالم پچھلے 10 سال سے ٹیسٹ ٹیم میں نہیں آیا، فواد عالم کی ضروت پڑی تو کھلائیں گے۔

واضح رہے کہ فواد عالم کو شدید دباؤ کے باعث 10 برس بعد ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کیا گیا لیکن اس کے باوجود انہیں راولپنڈی ٹیسٹ میں موقع نہیں دیا گیا۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید