آپ آف لائن ہیں
اتوار2؍صفر المظفّر 1442ھ 20؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

نیا سوشل کنٹریکٹ ۔ اب یا کبھی نہیں

ہمیں بتایا جاتا ہے کہ پاکستان کو اِس وقت مشرقی اور مغربی سرحدوں پر شدید خطرات کا سامنا ہے اور یقیناً ایسا ہی ہے۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ امریکہ جیسی طاقتوں کو ایٹمی پاکستان ایک آنکھ نہیں بھاتا اور وہ دوست ہوکر بھی انڈیا کے ساتھ مل کر پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کی کوشش کررہی ہیں اور ہم یقین کر لیتے ہیں کہ ایسا ہی ہے۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ ففتھ جنریشن وار یا ہائبرڈ وار کا دور ہے۔

پاکستان اِس کی زد میں ہے اور دشمن کوشش کررہا ہے کہ پاکستان کے اندر شہریوں کو ریاست اور ریاستی اداروں سے بدظن کیا جائے اور ہم مان لیتے ہیں کہ ایسا ہی ہوگا۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ اِس وقت جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑی جاتیں بلکہ معیشت ہی اصل ہتھیار ہے۔

پاکستان معاشی طور پر کمزور ہوگا تو دشمن کا مقابلہ ممکن نہیں رہے گا جبکہ معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے سیاسی استحکام کی ضرورت ہے اور چونکہ یہ ایک مبنی بر عقل بات ہے اس لئے ہم کہتے ہیں کہ بلاشبہ ایسا ہی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ پاکستان کو غیرمستحکم کون کررہا ہے؟ ریاست اور ریاستی اداروں سے شہری کیوں بدظن ہورہے ہیں اور کون ہے جن کا رویہ ان کو بدظن کررہا ہے؟

سیاسی عدم استحکام کون پیدا کررہا ہے اور ایک مخصوص بیانیے سے اتفاق نہ کرنے والے سیاستدانوں، دانشوروں اور میڈیا پرسنز کو دیوار سے لگا کر ریاست سے بدظن کون کررہا ہے؟

ہمیں کہا گیا کہ ولی خان، عطااللّٰہ مینگل، جی ایم سید اور عبدالصمد خان اور پھر بھٹو کو غدار کہو، ہم نے کہہ دیا۔

یہ بھی دیکھئے: 22دسمبر، سلیم صافی کا پروگرام جرگہ( نیا پاکستان اور سفارتی بلنڈرز)


ہمیں کہا گیا کہ افغانستان کا جہاد فرضِ عین ہے، ہم نے کہا فرضِ عین ہے۔ پھر ہمیں کہا گیا افغانستان میں طالبان اسلام اور پاکستان کی جنگ لڑرہے ہیں، ہم نے اُنہیں عظیم مجاہدین ثابت کروا دیا۔ پھر ہمیں کہا گیا کہ طالبان کو اسلام اور پاکستان کا دشمن کہو، سو ہم نے کہہ دیا اور بھاری قیمت بھی چکادی۔

ہمیں کہا گیا کہ بےنظیر بھٹو انڈیا کی ایجنٹ اور میاں نواز شریف کو میڈ ان پاکستان ثابت کرو، سو ہم نے کردیا۔ پھر ہمیں کہا گیا کہ زرداری کو چور کہو، سو ہم نے انہیں چور مشہور کردیا۔ پھر ہمیں حکم ملا کہ اب نواز شریف کو انڈیا کا یار باور کرائو، سو ہم نے کرا دیا۔ پھر ہمیں کہا گیا کہ اب اُنہیں چور کہو سو ہم نے کہہ دیا۔

پھر ہمیں کہا گیا کہ اب عمران خان کو مسیحا مان لو، سو ہم نے مان لیا۔ پھر ہمیں کہا گیا کہ ہم مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی وغیرہ کے پائوں باندھ کر عمران خان کے لئے میدان خالی کررہے ہیں لیکن تم لوگ اسے احتساب کہو، سو ہم اسے احتساب باور کراتے رہے۔

پھر ہمیں کہا گیا کہ چھ ماہ تک نئی حکومت سے متعلق مثبت صحافت کرو، سو ہم نے چھ نہیں پندرہ ماہ تک مثبت صحافت کرلی۔

اس سب کچھ کے باوجود بات بنی نہیں بلکہ مزید بگڑ گئی۔ معیشت کا مزید ستیاناس ہوگیا۔ سرمایہ اور ذہانتیں مزید تیزی کے ساتھ ملک سے ہجرت کرنے لگیں۔

ریاست اورریاستی اداروں سے بدظنی کے رجحان میں مزید اضافہ ہو گیا۔ خارجہ پالیسی کے ضمن میں ایسے بلنڈرز کا ارتکاب ہورہا ہے کہ پاکستان کے چند ایک دوست بھی مخالف بننے جارہے ہیں لیکن سب سے تشویشناک امر یہ ہے کہ پہلے صرف شہری عدم تحفظ کا شکار تھے جبکہ اب نئے پاکستان میں ادارے اور مختلف طبقات بھی عدم تحفظ کا شکار ہو گئے ہیں۔

عدلیہ سمجھتی ہے کہ اِس پر حملہ ہوا ہے اور اسے کمزور کرنے کی سازش ہورہی ہے۔ سیاستدان سمجھتے ہیں کہ وہ زیرِ عتاب ہیں اور ریاست کے دیگر ادارے اُن کو رسوا اور بےدست و پاکررہے ہیں۔ میڈیا سمجھتا ہے کہ اُس پر حملہ ہوا ہے۔

اب تو نوبت یہاں تک آگئی کہ ملکی سلامتی اور تحفظ کے ذمہ دار ادارے بھی کہہ رہے ہیں کہ اس پر بیک وقت اندر اور باہر سے حملہ ہوا ہے۔ گویا ریاست کا ہر ادارہ اپنے آپ کو خطرے سے دوچار سمجھ رہا ہے اور ہر ادارہ اپنی اپنی بقا کی جنگ میں مصروف نظر آرہا ہے۔

دیگر اداروں کا تو رویہ یہ نظر آتا ہے کہ وہ اپنے ایک بندے پر حملہ پورے ادارے پر حملہ تصور کرتے ہیں لیکن سیاستدانوں اور میڈیا کا معاملہ یوں اندوہناک ہے کہ بیرونی حملے کے ساتھ ساتھ وہ ایک دوسرے کے خلاف بھی حملہ آور ہیں۔لیکن بات یہاں ختم نہیں ہورہی۔

مذہبی طبقہ اس خوف میں مبتلا ہے کہ وہ اور اس کا مذہب حملے کی زد میں ہے۔ لبرل اور سیکولر طبقہ سمجھ رہا ہے کہ اس کی زبان بندی ہوگئی ہے۔

ریاست تو ایک گھرانے کی مانند ہوتی ہے۔ ہر ادارہ اور طبقہ اپنی اپنی جگہ گھرانے کے ایک ایک فرد کی حیثیت رکھتا ہے۔

ہونا تو یہ چاہئے کہ ایک ادارے پر حملہ ریاست کے دیگر ادارے بھی اسی طرح اپنے اوپر حملہ تصور کریں جس طرح کہ ایک گھرانے کے افراد اپنے کسی بھی فرد پر حملہ پورے گھرانے پر حملہ تصور کرتے ہیں لیکن پاکستان میں المیہ یہ ہے کہ ہر ادارے کو صرف اپنے یا اپنے کسی فرد پر حملہ اپنے اوپر حملہ دکھائی دیتا ہے۔

اب تو نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ ایک ادارے پر حملہ ہو اور وہ کمزور ہورہا ہو تو دوسرا خوشی مناتا ہے اور دوسرے پر حملہ ہو تو تیسرا اور پہلا ادارہ جشن میں مصروف رہتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ جس ریاست کا ہر فرد اور ہر ادارہ اندرونی طور پر خطرے سے دوچار ہو تو وہ بیرونی خطرات سے کیوں کر نمٹ سکے گا۔ اسی لئے پاکستان کی سلامتی اور مکمل خانہ جنگی سے بچنے کا واحد راستہ اب یہی ہے کہ تمام اداروں کے مابین کھلا مکالمہ ہو، جس میں سب ادارے بیٹھ کر دوسرے اداروں کے سامنے اپنے خدشات اور تحفظات سامنے رکھیں۔

ڈائیلاگ کے ذریعے اس بات کا تعین ہو کہ کونسا ادارہ اپنی حد سے تجاوز اور دوسرے ادارے کی حدود میں مداخلت کررہا ہے اور کس طرح ایسا انتظام کیا جائے کہ جس میں ایک ادارہ دوسرے ادارے کی کمزوری سے فائدہ اٹھانے کی بجائے کمزوری دور کرنے میں اس کی مدد کرے اور ایک نئے معاہدہ عمرانی (سوشل کنٹریکٹ) تشکیل دے کر آگے بڑھا جائے۔

اس ڈائیلاگ کے نتیجے میں ایک ٹروتھ اینڈ ری کنسلیشن کمیشن بھی تشکیل دیا جائے جو ماضی کے قومی بلنڈرز کے ذمہ داروں کے تعین کے ساتھ ساتھ آگے کے لئے ہم آہنگی کے ساتھ راستہ بھی بنالے۔

نہیں تو وہ وقت دور نہیں کہ اس ملک میں سب اپنے اپنے جھتے بنا کر روانڈا کی طرح ایک دوسرے سے لڑرہے ہوں گے۔