آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ27؍جمادی الثانی 1441ھ 22؍ فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

صحت بخش ناشتہ ٹائپ 2 ذیابطیس سے محفوظ رکھے

عام طور پر یہ بات کہی جاتی ہے کہ ناشتہ آپ کے دن کی سب سے اہم خوراک ہوتی ہے اور نئی تحقیق اب یہ بتا رہی ہے کہ صحت مند ناشتہ کرنا کیوں اہم ہے۔ جرمنی سے تعلق رکھنے والے محققین پہلے سے موجود مطالعات کا جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ناشتہ نہ کرنا، چاہے ایسا کبھی کبھار ہی کیوں نہ کیا جاتا ہو، ذیابطیس ٹائپ2 کے خطرات بڑھا دیتا ہے۔

ٹائپ 2ذیابطیس کیا ہے؟

ذیابطیس اس بیماری کا نام ہے، جس کے باعث خون میں شوگر کی سطح معمول کے مقابلے میں زیادہ ہوجاتی ہے۔ ٹائپ 2، ذیابطیس کی سب سے عام قسم ہے اور 90فیصد افراد کو اسی کا سامنا ہوتا ہے۔ اس مرض کے لاحق ہونے کے نتیجے میں جسم انسولین کے اثرات پر ردعمل کی صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے۔ انسولین بنانے والے لبلبے کے خلیات اسے بنانے کی کوشش تو کرتے ہیں مگر جسم کو درکار مقدار کی فراہمی سے قاصر رہتے ہیں۔ 

ذیابطیس ٹائپ 2 لاحق ہونے کی صورت میں کچھ عرصے بعد انسولین بنانے والے نظام پر دباؤ بڑھ جاتا ہے اور خلیات تباہ ہونے لگتے ہیں، جس کے نتیجے میں جسم کی انسولین بنانے کی صلاحیت مزید کم ہوجاتی ہے۔ ٹائپ ٹو کا مرض عام طور پر 40سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کو لاحق ہوتا ہے، جس کے علاج کے لیے غذا اور ورزش وغیرہ پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔ تاہم موجودہ عہد کے ناقص طرزِ زندگی کے نتیجے میں یہ بیماری نوجوانوں کو بھی اپنا شکار بنانے لگی ہے۔

جرمن تحقیق کیا کہتی ہے؟

’دی جرنل آف نیوٹریشن‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، جرمن محققین نے چھ مختلف مطالعات میں 96ہزار سے زائد افراد کے اعدادوشمار کا جائزہ لیا۔ محققین کو معلوم ہوا کہ ہفتے میں ایک بار ناشتہ نہ کرنا ٹائپ 2ذیابطیس کے خطرات میں 6فی صد اضافہ کرتا ہے۔ مزید برآں، جو لوگ ناشتہ کرنا جتنا زیادہ ترک کرتے ہیں، ان میں ٹائپ2ذیابطیس ہونے کے خطرات اتنے ہی زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ اس رجحان کے مطابق، جو لوگ ہفتے میں 4سے 5دن ناشتہ نہیں کرتے، ان میں ٹائپ 2ذیابطیس ہونے کے خطرات 55فی صد بڑھ جاتے ہیں۔

ایک غذائی ماہر کے مطابق، جرمن تحقیق کے نتائج قطعی حیران کن نہیں ہیں۔ ’سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن‘ کے مطابق، امریکا میں ذیابطیس میں مبتلا 3کروڑ افراد میں سے 90تا 95فی صد افراد ٹائپ 2کا شکار ہیں۔ ٹائپ 1ذیابطیس اتنی عام نہیں اور عمومی طور پر ابتدائی عمر میں ہی اس کی تشخیص ہوجاتی ہے جبکہ ٹائپ 2 ذیابطیس کی بیماری زیادہ تر 40سال کی عمر کے بعد ہوتی ہے۔ 

وزن کا زیادہ ہونا، جسمانی طور پر غیر متحرک رہنا بشمول جینیات، اس کے بڑے رِسک فیکٹرز ہیں۔ ڈاکٹرز عمومی طور پر ٹائپ 2ذیابطیس سے محفوظ رہنے کے لیے لائف اسٹائل میں تبدیلیاں تجویز کرتے ہیں اور جو افراد پہلے ہی اس میں مبتلا ہوچکے ہیں، وہ بھی ایک مخصوص لائحہ عمل اختیار کرکے اسے قابو میں رکھ سکتے ہیں۔

ناشتہ کیسے فائدہ مند ہے؟

بلڈ شوگر، ٹائپ2ذیابطیس اور انسولین میں براہِ راست تعلق کے پیشِ نظر، غذائی ماہرین کے لیے یہ بات قطعی طور پر حیران کن نہیں کہ ناشتہ نہ کرنے سے ٹائپ 2ذیابطیس کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی ویکسنر میڈیکل سینٹر کی غذائی ماہر جینا فریمین اسکڈرکہتی ہیں، ’’چھوٹے پیمانے پر کیے گئے کچھ مطالعات میں کہا گیا ہے کہ ناشتہ نہ کرنے سے درحقیقت انسولین کے خلاف زیادہ مدافعت پیدا ہوتی ہے۔ 

انسولین کے خلاف مدافعت وہ صورتِ حال ہے، جہاں بلڈ شوگر کو عام معمول کی سطح پر لانے کے لیے مزید انسولین کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور جب یہ صورتِ حال دائمی شکل اختیار کرلے تو ٹائپ2ذیابطیس ہونے کا ایک بڑا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے‘‘۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ ناشتہ نہ کرنے والے افراد میں دوپہر اور رات کا کھانا کھانے کے بعد بلڈ شوگر کی سطح عام معمول سے بلندہونے کا تعلق بھی ناشتہ نہ کرنے کی عادت سے جڑا ہوتا ہے۔ ’’رات بھر بھوکا رہنے کے بعد کچھ نہ کھانا آپ کے جسم اور میٹابولزم پر دباؤ بڑھاتا ہے، جس کے نتیجے میں آپ بعد میں ضرورت سے زیادہ کھانا کھالیتے ہیں یعنی اوور-اِیٹنگ۔ یہ صورتِ حال آپ کو غیر صحت مند اور زیادہ کیلوریز والی غذاؤں کو آپ کے لیے پُرکشش بناتی ہے‘‘۔

کس کے پاس وقت ہے؟

2015ء میں کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق، 53فی صد امریکی ہفتے میں کم از کم ایک بار ناشتہ چھوڑ دیتے ہیں، جبکہ 12فی صد امریکی ناشتہ کرتے ہی نہیں ہیں۔ ہرچندکہ، سروے میں شامل زیادہ تر لوگوں کا کہنا تھا کہ انھیں صبح کے وقت بھوک نہیں لگتی یا ناشتے کی طلب محسوس نہیں ہوتی، تاہم ناشتے کے لیے وقت کا نہ ہونا ایک اور بڑی وجہ بتائی گئی ہے۔

غذائی ماہر جینا فریمین اسکڈر کہتی ہیں کہ دن کا آغاز غیر صحت بخش غذا سے کرنا کوئی اچھا عمل نہیں ہے۔ ’’ڈونٹ، پیسٹری، پین کیک اور میٹھے سیریلز، ناشتے میں امریکیوں کی مرغوب غذائیں ہیں، جو کہ سب سیچوریٹڈ فیٹ سے بھرپور غذائیں ہیں، جبکہ ان میں پروٹین اور فائبر بہت کم موجود ہوتا ہے۔ یہ وہ چیزیں نہیں ہیں جن کا انتخاب آپ کو ناشتے کے لیے کرنا چاہیے‘‘۔

ناشتہ کیسا ہونا چاہیے؟

صبح ناشتے میں جؤ کا سادہ دلیہ کھانا بہترین ہوتا ہے۔ تاہم، فلیورڈ دلیہ کھانے سے اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ اس میں اضافی شوگر شامل ہوتی ہے۔ سادہ دلیے کا ذائقہ بڑھانے کے لیے چاہیں تو اس میں شہد، تازہ پھل یا گری دار میوے شامل کرلیں۔ ناشتے کے لیے دوسرا آپشن انڈہ ہے۔ اس کے علاوہ براؤن بریڈ اور پھلوں کے ساتھ سادہ دہی ایک متناسب ناشتہ ہے، جسے تیار کرنے میں زیادہ وقت بھی نہیں لگتا۔ ناشتے میں ہائی فائبر، کامپلیکس کاربوہائڈریٹس اور پروٹین لینا سب سے بہترین ہے۔

صحت سے مزید