آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل30؍ جمادی الثانی 1441ھ 25؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

تخت اُلٹے، خانہ جنگیاں جاری رہیں، صلح کی بھی کوشش ہوئیں

نفرت کے سوداگروں نے2019 ء میں بھی بے گناہ انسانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے کا سفر جاری رکھا۔ نیوزی لینڈ کے شہر، کرائسٹ چرچ میں واقع مسجد پر ایک جنونی حملہ آور نے اچانک فائرنگ کرتے ہوئے 49 نمازی شہید اور 50 زخمی کردیے، تو اسلام دشمنی پر مبنی ان واقعات کی شدّت پوری دنیا میں نمایاں طور پر محسوس کی گئی۔ نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم اور وہاں کے عوام نے ان قیامت خیز لمحات میں اُمّتِ مسلمہ کے ساتھ بھرپور اظہارِ یک جہتی کیا۔ وہ کئی ہفتے مختلف شہروں میں واقع مساجد کے باہر جمع ہو کر اس قتلِ عام کی مذّمت اور جنونی قاتل سے برأت کا اعلان کرتے رہے۔ 

پارلیمنٹ میں تلاوتِ قرآن کرتے ہوئے اظہارِ عقیدت کیا گیا، جس سے ثابت ہوا کہ دنیا میں زندہ ضمیر لوگ اب بھی باقی ہیں۔ اسلاموفوبیا کے شکار چند گروہ اپنے پاگل پن سے پوری دنیا کو خاکستر کردینا چاہتے ہیں، وگرنہ ادیان و مذاہب کے مابین مشترک انسانی اقدار کی آب یاری کرتے ہوئے دنیا کو امن کا گہوارہ بنایا جاسکتا ہے۔ جنونیوں نے نیوزی لینڈ ہی نہیں، دیگر ممالک میں بھی اہلِ اسلام، اُن کے اسلامی شعائر اور مساجد و مراکز کو اپنے تعصّب کا نشانہ بنایا۔ بھارت میں ایسے کئی واقعات ہوئے، جہاں مسلمانوں کو جھوٹے الزامات کا شکار کرتے ہوئے قتل، زخمی، گرفتار یا ہراساں کیا گیا۔

چوں کہ 2019 ء انتخابات کا سال تھا، اس لیے بھی وہاں مسلمانوں کے خلاف تعصّب کی لہر عروج پر رہی۔ حکم ران پارٹی نے اپنی انتخابی کام یابیوں کا آغاز ہی ہندو بالادستی پر مبنی نظریے’’ہندوتوا‘‘ کی آگ بھڑکا کر کیا۔بھارتی مسلمانوں سمیت وہاں مقیم اقلیتوں کی بے کسی اُس وقت مزید واضح ہوگئی، جب بھارتی سپریم کورٹ نے 9 اکتوبر کی صبح صدیوں پہلے(1528 عیسوی) میں تعمیر ہونے اور 27 سال قبل شہید کی گئی تاریخی بابری مسجد کا فیصلہ سُناتے وہاں ہندو مندر تعمیر کرنے کا شرم ناک فیصلہ دیا۔پھر اسلام اور مسلمانوں سے اپنی نفرت کا ایک اور تباہ کُن اظہار 9 دسمبر کو بھارتی پارلیمنٹ میں شہریت کے ایک شرم ناک قانون میں کیا گیا۔ بھارتی شہریت حاصل کرنے کے خواہش مند سابق پاکستانی، بنگلا دیشی اور افغان شہریوں کے لیے اساسی شرط یہ رکھی گئی کہ وہ مسلمان نہ ہوں۔

اسلاموفوبیا پر مشتمل اس لہر کے نتیجے میں دیگر کئی ممالک میں بھی مساجد پر حملے کیے گئے یا اُن کی بے حرمتی کی کوشش کی گئی۔ حجاب پر پابندیاں لگائی گئیں اور باحجاب خواتین پر حملے کیے گئے۔ آسٹریلیا کے ایک ریسٹورنٹ میں کھانا لیے اپنے دھیان میں بیٹھی ایک باحجاب خاتون پر حملہ تو وائرل ہوگیا، جسے باہر سے آنے والے ایک شخص نے اچانک اور بلا اشتعال زدوکوب کرنا شروع کردیا تھا۔ یہ سلسلہ آگے بڑھتے ہوئے ناروے کے شہر، کرسٹین سینڈ میں قرآنِ کریم کو نذرِ آتش کرنے کے سنگین سانحے تک جاپہنچا۔ موقعے پر موجود ایک شامی مہاجر نوجوان، عُمر دابا (ضبعہ) بے اختیار آگے بڑھا اور شرپسند کو روکنے کی کوشش کی۔ قانون نافذ کرنے والے حرکت میں آئے، نارویجین ذمّے داران نے اس واقعے پر اظہارِ افسوس کیا، لیکن ساتھ ہی اظہارِ رائے کی آزادی کی بات بھی دُہرائی گئی۔ 

ضرورت اس اَمر کی ہے کہ تمام انبیائے کرامؑ، تمام آسمانی کُتب اور مقدّسات کا تحفّظ یقینی بنانے کے لیے عالمی سطح پر مؤثر مساعی کی جائیں۔21 اپریل کو سری لنکا کے کئی چرچز اور فائیو اسٹار ہوٹلز پر بیک وقت کئی حملوں نے بھی ساری دنیا کو دہلا کر رکھ دیا۔ ان حملوں میں359 افراد مارے گئے اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔ بدقسمتی سے ان حملوں میں چند مسلمان نوجوان بھی ملوّث تھے۔ پورے عالمِ اسلام نے ان حملوں کی بھرپور مذمّت کی۔ جس طرح قرآن سوزی کی قبیح حرکت اور نیوزی لینڈ میں فائرنگ کا الزام پوری مسیحی برادری پر نہیں لگایا جاسکتا، اسی طرح سری لنکا کے سانحے کو بھی اُمّتِ مسلمہ سے منسوب نہیں کیا جاسکتا۔

2019 ء میں عالمِ اسلام کے بعض مزید ممالک میں بڑی عوامی تحریکوں کا آغاز ہوا۔ الجزائر اور سوڈان میں ان تحریکوں نے کئی عشروں سے مسندِ اقتدار پر بیٹھے حکم رانوں کو رخصت کیا۔ الجزائری صدر، عبدالعزیز بوتفلیقہ کے خلاف تحریک کا آغاز اُس وقت ہوا، جب اُنہوں نے مسلسل پانچویں بار صدارتی اُمیدوار ہونے کا اعلان کیا۔ بوتفلیقہ گزشتہ کئی سال سے مفلوج ہیں۔ کئی بار کئی کئی ماہ منظرِ عام سے غائب رہے، لیکن حکومت اُنہی کے نام پر چلتی رہی۔ پانچویں بار پھر صدارتی اُمیدوار ہونے کے اعلان نے پوری قوم کو یک آواز کردیا۔ ایسے میں فوج کے سربراہ نے بھی عوام کے مطالبے کی تائید کی اور2 اپریل کو بوتفلیقہ مستعفی ہونے پر مجبور ہوگئے۔ 

اسپیکر عبدالقادر بن صالح 90 دن کے لیے عبوری صدر بنائے گئے اور پھر اس مدّت میں نئی حکومت منتخب ہونے تک کا اضافہ کرتے ہوئے 12 دسمبر کو عام انتخابات کا اعلان کردیا گیا۔ عوام کی اکثریت نے یہ اعلان یک سَر مسترد کردیا، لیکن فوج کی مکمل تائید کے سائے میں انتخابی عمل بھی جاری رہا۔ پانچ صدارتی اُمیدواروں میں سے دو سابق وزرائے اعظم بھی تھے۔تاہم، 74 سالہ عبدالمجید تبون 58 فی صد ووٹ لے کر صدر منتخب ہوگئے۔ 

الجزائر کی یہ عوامی تحریک عروج پر تھی کہ سوڈان میں بھی عوامی تحریک شروع ہوگئی۔ اس عوامی دھرنے کا مرکز دارالحکومت، خرطوم کے قلب میں واقع، عسکری ہیڈ کوارٹر اور صدارتی محل تھا۔ 1989 ء میں ایک فوجی انقلاب کے ذریعے برسرِ اقتدار آنے والے صدر عُمر البشیر کو اپنے30 سالہ دورِ اقتدار میں مسلسل بحرانوں کا سامنا رہا۔ 

جنوبی سوڈان میں طویل خانہ جنگی کے بعد اُسے علیٰحدہ کردیا گیا، سوڈان پر کڑی اقتصادی پابندیاں عائد کی گئیں۔امریکی میزائل حملے ہوئے، جنوبی سوڈان کے بعد مغربی علاقے، دارفور میں بغاوت کی سرپرستی کی گئی۔ دارفور میں جنگی جرائم کے ارتکاب کا الزام لگاتے ہوئے 2008ء میں عالمی عدالت سے صدر البشیر کے وارنٹ گرفتاری جاری کروائے گئے۔ صرف دو بینکس کے علاوہ دنیا کے کسی بینک کو سوڈان کے ساتھ مالی معاملات کرنے سے روک دیا گیا۔لیکن اسی دوران سوڈان، چین کی مدد سے تیل برآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہوگیا۔ کچھ نہ کچھ خوش حالی کے آثار نظر آنا شروع ہوئے، مگر جنوب کی علیٰحدگی کے بعد سے وہ سفر بھی رُک گیا۔ 

اسی کش مکش کے دوران حالیہ عوامی تحریک شروع ہوئی، جو بالآخر 11 اپریل کو ایک اور فوجی انقلاب پر منتج ہوئی۔ آغاز میں جنرل احمد عوض نے اقتدار سنبھالنے کا اعلان کیا، جسے عوام نے قبول نہ کیا، تو دو ہی دن بعد اُنہوں نے خود اعلان کرتے ہوئے اقتدار، جنرل عبدالفتاح البرھان کے سپرد کردیا۔ ان کے ساتھ مظاہرین کے نمائندے اور کئی ٹیکنو کریٹس بھی حکومت کا حصّہ ہیں۔ صدر البشیر اور اُن کے ساتھیوں کے علاوہ دیگر کئی جماعتوں کے ذمّے داران اب جیل میں ہیں۔ عالمی برادری نے انتظامیہ سے تعاون کی نئی راہیں کھولنا شروع کردی ہیں۔

2019 ء دو مزید عرب ممالک، عراق اور لبنان میں بھی انتہائی پُرتشدّد مظاہروں کا سال تھا۔ لبنان کے وزیرِ اعظم، سعد الحریری اور عراقی وزیرِ اعظم، عادل عبدالمہدی بالآخر مستعفی ہونے پر مجبور ہوئے۔ عراقی حکومت نے مظاہرین کو کچلنے کے لیے بڑے پیمانے پر قوّت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں چارسو سے زائد افراد مارے گئے اور اٹھارہ ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔ ایران میں بھی ایک بار پھر منہگائی کے خلاف مظاہروں کی مُلک گیر لہر اُٹھی۔ رپورٹس کے مطابق اس کے مقابل بھی قوّت استعمال کی گئی، لیکن اس ضمن میں دونوں طرف مبالغہ آمیزی پر مشتمل اطلاعات ہیں۔

حقوقِ انسانی کی متعدّد عالمی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق مِصری جیلوں میں بند سیاسی قیدیوں کو اب بھی بدترین حالات کا سامنا ہے۔17 جون کو مِصر کے منتخب صدر، ڈاکٹر محمّد مرسی عین اُس وقت انتقال کرگئے، جب وہ عدالت کے کٹہرے میں جیل کی ناگفتہ بہ صُورتِ حال بیان کررہے تھے۔ وہ گزشتہ 6 برس سے قیدِ تنہائی میں رکھے گئے تھے اور کئی بیماریوں کا شکار ہونے کے باوجود اُنہیں علاج کی کوئی سہولت نہیں دی جارہی تھی۔ 

صدر محمّد مرسی کی نمازِ جنازہ ادا کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی اور رات گئے صرف اہلِ خانہ کو ساتھ لے جاکر تدفین کردی گئی۔ دنیا بھر میں اُن کی وفات پر احتجاج ہوا اور وسیع پیمانے پر غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی گئیں۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق، مِصر میں سیاسی قیدیوں کی تعداد 60 ہزار سے زائد ہے۔

عالمِ اسلام کے عوام اور حکومتوں کے مابین وسیع تر ہوتی خلیج کے علاوہ، مسلم ممالک کے مابین اختلافات، تنازعات، جنگوں اور خانہ جنگی میں کمی کے بجائے، سالِ گزشتہ اُن میں اضافے اور مزید شدّت ہی کا سال تھا۔ شام تباہی اور ہلاکتوں کی نذر رہا۔ لیبیا کی خانہ جنگی میں بھی کوئی کمی نہیں آئی۔ یمن میں جاری خانہ جنگی کے شعلے یمنی سرحدوں پر واقع سعودی آبادیوں اور شہروں سے آگے تیل کی عالمی تجارت میں انتہائی اہم حیثیت رکھنے والی سعودی تیل کی حسّاس ترین تنصیبات تک جا پہنچے۔ 14 ستمبر کی صبح بیک وقت دس ڈرون طیاروں کے ذریعے ارامکو کی دو مرکزی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ دارالحکومت ریاض سے 150 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع، بقیق میں آئل ریفائنری دنیا کی سب سے بڑی ریفائری ہے۔ ان حملوں سے سعودی عرب کی تیل کی 50 فی صد پیداوار رُک گئی۔ 

اقتصادی، دفاعی اور نفسیاتی اعتبار سے ان حملوں کی سنگینی کے علاوہ یہ اہم سوالات بھی دنیا میں زیرِ بحث رہے کہ علاقے میں بڑی تعداد میں عالمی افواج کے باوجود آخر ان حملوں کو ناکام کیوں نہیں بنایا جاسکا؟ کیا یہ واقعی ایک کم تر ٹیکنالوجی کے مقابلے میں جدید ترین ٹیکنالوجی کی ناکامی ہے یا کچھ عالمی و علاقائی طاقتیں بھی ایسا ہی چاہتی تھیں؟ ان دونوں مقامات پر حملوں کے بعد دنیا بھر نے ان کی مذمت کی، بیانات جاری ہوئے، اقوام متحدہ سے بھی قراردادیں منظور ہوئیں، لیکن صدر ٹرمپ کے بیان میں اس صدمہ خیز مرحلے میں بھی سودے بازی کی واضح جھلک تھی۔اگرچہ ارامکو اور دیگر تنصیبات پر حملے گزشتہ چار سال سے یمن میں جاری خانہ جنگی سے جُڑے ہوئے ہیں، یمن کے حوثی باغیوں نے ان کی ذمّے داری بھی قبول کرلی، لیکن یہ حقیقت بھی واضح رہنی چاہیے کہ سعودی عرب ہو یا کوئی اور مُلک، کسی مسلمان مُلک کو پہنچنے والا نقصان پورے عالم اسلام اور پوری اُمّتِ مسلمہ کا نقصان ہے۔

2019 ء تیونس میں پُرامن تبدیلیٔ اقتدار کا سال تھا۔ سب جیتنے اور ہارنے والوں نے انتخابات کی شفّافیت پر اظہارِ اطمینان کیا۔ پارلیمنٹ میں حسبِ سابق تحریک نہضت ہی سب سے بڑی جماعت قرار پائی اور اُس کے سربراہ، راشد الغنوشی ایک وسیع تر حکومت بناتے ہوئے خود اسپیکر منتخب ہوئے۔ صدر مملکت منتخب ہونے والے 61 سالہ قیس سعید کی شخصیت البتہ سب کے لیے باعثِ حیرت بنی۔ 

وہ قانون کے ایک ریٹائرڈ پروفیسر ہیں، اُن کی کوئی سیاسی جماعت نہ تھی اور مقابلہ ایک ارب پتی میڈیا امپائر کے مالک سے تھا۔ اُنہوں نے اپنی مہم انتہائی سادگی سے چلائی، لیکن عوام کی بھاری تعداد بالخصوص نوجوانوں نے اُن کا ساتھ دیا اور وہ77 فی صد ووٹ لے کر کام یاب ہوئے۔ اُنہوں نے انتخابی مہم کے دَوران قانون کی بالادستی یقینی بنانے کا عہد کیا، تو اسرائیل کو تسلیم کرنے کو’’سنگین غداری‘‘ قرار دیتے ہوئے، فلسطین کے بارے میں دو ٹوک موقف اختیار کیا۔ دورانِ سال تُرکی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے نتائج بھی حیران کُن اور اہم تھے۔2018 ء میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات میں کام یابی حاصل کرنے والی حکم ران پارٹی (جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی) کو سب سے بڑے شہر استنبول اور انقرہ سمیت کئی شہروں میں ناکامی ہوئی۔ اگرچہ ووٹس کا فرق زیادہ نہ تھا۔

ان شہروں کی یونین کاؤنسلز میں بھی حکم ران پارٹی کو واضح اکثریت ملی، لیکن استنبول میں شکست نفسیاتی اعتبار سے بہت اہم ہے۔ خود صدر طیب اردوان نے بھی اسے خطرے کی گھنٹی قرار دیتے ہوئے شکایات کے سدّباب کا اعلان کیا۔برادر مُلک، افغانستان میں بھی صدارتی انتخابات ہوئے۔13 اُمیدواروں میں اشرف غنی، عبد اللہ عبداللہ اور انجینئر گلبدین حکمت یار اہم ترین قرار دیے گئے، لیکن28 ستمبر کو ہونے والے ان انتخابات کے نتائج حیرت ناک طور پر ہنوز معلّق ہیں۔ پورا سال خوں ریز حملوں کی صدمہ خیز باز گشت بھی عروج پر رہی۔ امریکا اور طالبان کے مابین مذاکرات کا سلسلہ بھی ٹوٹتا، جڑتا رہا۔ ایک بار اتفاقِ رائے کا غلغلہ بھی بلند ہوا، لیکن ملّتِ افغان تاحال امن کی منتظر و متلاشی ہے، جو بیرونی افواج کے انخلاء، بین الافغان مذاکرات اور سب پڑوسی ممالک سے دوستانہ تعلقات میں مضمر ہے۔

19 دسمبر کو ملائیشیا کے دارالحکومت، کوالالمپور میں پانچ مُلکی سربراہی کانفرنس بھی سالِ گزشتہ کا اہم ترین واقعہ تھی۔ آغازِ کار میں ملائیشیا اور تُرکی نے مسلم ممالک کے مابین تعاون کو فروغ دینے کی تجویز پیش کی ۔ دونوں نے اس پر اتفاق کیا کہ ان کے ساتھ عالمِ اسلام کی اکلوتی ایٹمی طاقت، پاکستان بھی مل جائے، تو یہ سہ رُکنی فورم اہم حیثیت اختیار کرسکتا ہے۔ 

نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقعے پر تینوں مُمالک کے سربراہان نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بھی اہم اعلانات کیے اور پھر انڈونیشا اور قطر کو ساتھ شامل کرتے ہوئے پانچ رُکنی سربراہی کانفرنس کا اعلان کردیا۔ ملائیشیا اور تُرکی نے توہینِ رسالتؐ اور کشمیر کے مسئلے پر جس مضبوط موقف کا مظاہرہ کیا، اُمید کی جاسکتی ہے کہ دیگر اہم مسلم ممالک کو بھی شامل کرتے ہوئے اسے عالمِ اسلام کے مسائل کے حل کے لیے ایک مؤثر اور حقیقی فورم بنایا جاسکتا ہے۔ 

تاہم کئی بڑے مسلم ممالک کے تحفظات اور عدم شرکت کے سبب کانفرنس پھیکی رہی۔اللہ کرے کہ دورانِ سال وجودِ مسلم کو لگنے والے کئی چرکوں کے بعد وحدت کی یہ کاوش عزمِ نو کی نوید ثابت ہوسکے۔

سنڈے میگزین سے مزید