آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل30؍ جمادی الثانی 1441ھ 25؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

نارتھ ناظم آباد امراء کی رہائش گاہوں کے لئے مختص کیا گیا تھا

کامران نفیس

1952 میں عظیم تر کراچی (گریٹر کراچی) کے نام سے پہلا ماسٹر پلان تشکیل دیا گیا، وفاقی دارلخلافہ ہونے کی وجہ سے یہ ایک مثالی پلان تھا جس میں آنے والے جدید دور کی تمام خصوصیات کو مدنظر رکھا گیا تھا۔ ناظم آباد اور نارتھ ناظم آباد سے نارتھ کراچی تک کے علاقے اس میں خاص اہمیت کے حامل تھے۔ ناظم آباد, متوسط طبقہ جبکہ نارتھ ناظم آبادکو امراء کی رہائش گاہوں کے لئے مختص کیا گیا تھا۔ 

اس خوبصورت علاقے کے ساتھ پہاڑیوں کے اوپر غیر قانونی آبادیاں بسا دی گئیں

ایک خیال یہ بھی تھا کہ نارتھ ناظم آباد بلاک ایف میں مختلف ممالک کے سفارت خانوں کو بھی عمارات دی جائیں گی۔ ایف سی ایریا کے فلیٹس وفاقی سرکاری ملازمین کے لئے تیار کیے گئے تھے جو اس زمانے کی بہترین پلاننگ کا نمونہ تھے، آج بھی آپ اگر ایف سی ایریا جائیں تو ہر بلڈنگ کے باہر لان (جو اب برائے نام ہی ہیں) اور علاقے کی کشادہ سڑکوں سے آپ کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہوگا۔

50ء کی دھائی کے اواخر میں نارتھ ناظم آباد میں انٹرمیڈیٹ بورڈ آفس کے ساتھ حسین ڈیسلوا ٹاؤن کے نام سے ایک خوبصورت ٹاؤن کی پلاننگ کی گئی تھی، جس میں اپر مڈل کلاس کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کاٹیج اسٹائل پر گھر تعمیر کئے جانے تھے، چوڑی کشادہ سڑکیں، کھیل کے میدان، پارکس، اسکول، اسپتال غرض ہر اس چیز کا خیال رکھا گیا تھا جو کسی بھی ترقی یافتہ علاقے کی ضرورت ہوتی ہے۔ میٹرک بورڈ آفس اور ڈی سلوا ٹاؤن کے پیچھے کراچی کی وہ قدرتی پہاڑیاں تھیں جو نارتھ ناظم آباداور اورنگی ٹاؤن کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہیں۔ 

یہ اصل میں ایک قدرتی واٹر ریزروآئر تھا، جو کراچی کے مستقبل کے پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کافی اہم تھا۔ آپ اس کو پہاڑیوں میں موجود ایک چھوٹا سا قدرتی ڈیم کہہ سکتے ہیں، جہاں بارش کا پانی بآسانی جمع ہو جاتا تھا جو مقامی ضروریات کو پورا کرتا تھا۔ انٹرمیڈیٹ بورڈ سے ایک سے ڈیڑھ کلو میٹر دور پہاڑ گنج کی چورنگی ،جہاں سے ایک راستہ وسطی نارتھ ناظم آباد اور دوسرا نارتھ ناظم آباد کی ان پہاڑیوں کی طرف جاتا تھا۔ 

جو اس زمانے میں خاصہ پر فضا مقام ہوا کرتا تھا۔ 1952 کے ماسٹر پلان کے مطابق یہ جگہ ایک ٹی بی سینیٹوریم کے لئے مختص تھی۔ اونچی پہاڑیوں کے دامن میں واقع اس خوبصورت جگہ کواسپتال اور ٹی بی کے مریضوں کے علاج کے لئے استعمال کیا جانا تھا۔ اس زمانے میں آلودگی نہ ہونے کی وجہ سے یہ علاقہ شہر میں شام سے چلنے والی ٹھنڈی ہواؤں کی وجہ سے دل فریب اور پر فضا ہوجاتا تھا۔

شہری آبادی کے ماہر ابھی یہ پلان بنا کر بیٹھے ہی تھے اور اس پر رفتہ رفتہ عمل ہو رہا تھا کہ جنرل ایوب خان کی جانب سے دارلخلافہ منتقل کرنے کا حکم نامہ صادر ہوگیا اور پھر وہ ہوتا ہے جو نہیں ہونا چاہیے تھا، دیکھتے ہی دیکھتے شہر کی ساری پلاننگ دہری رہ گئی۔ المیہ یہ کےنئے آباد ہونے والے ناظم آباد اور نارتھ ناظم آباد کے ان پوش اور خوبصوت علاقوں کے ساتھ کچی بستیوں کو آباد کر دیا ۔ عبداللہ کالج سے لیکر شپ اونر اور شپ اونر سے نارتھ کراچی تک پہاڑیوں کے اوپر اور ان کے نیچے غیر قانونی آبادیاں بنا دی جاتی ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے اس علاقے کا سارا حسن غارت ہوجاتا ہے۔ 

اب نہ وہاں کوئی اسپتال تعمیر ہوتاہے اور نہ ہی ٹی بی کے مریضوں کے لئے کوئی پرفضا مقام۔ ان پہاڑیوں پر بغیر کسی اجازت کے گھر بنا لئے جاتے ہیں، غیر قانونی طور پر قائم کی گئیں ان گنجان بستیوں کو جرائم پیشہ افراد اپنا مسکن بنا لیتے ہیں اور علاقے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہو جاتی ہے۔پھر سب سے بڑا کام جنرل ضیاء کے دور میں یہ ہوا کہ افغان پناہ گزینوں کی بڑی تعداد کو کراچی میں لاکر بسایاگیا ۔ 

نارتھ ناظم آباد کی ان پہاڑیوں سے لےکر منگھو پیر تک یہ آباد ہوگئے۔ کراچی میں رہنے والے کسی فرد کو نہیں معلوم کہ ان گنجان بستیوں میں کیا ہوتا آ رہا ہے، پہاڑ گنج کی ان پہاڑیوں میں بنی گنجان غیر قانونی بستیوں میں جانے کی ہمت کوئی بامشکل ہی کر پاتا ہے۔

ناظم آباد اور نارتھ ناظم کے پڑھے لکھے مڈل کلاس شرفاء دل پر پتھر رکھ کر یہ سب دیکھتے ہیں۔ وہ اس بات پر بھی خون کے آنسو روتے ہیں کہ ٹیکس ان سےلےکر لوڈ شیڈنگ ان کانصیب اور سامنے پہاڑیوں پر بجلی موجود، مزید یہ کہ پانی کی لائنز کاٹ کر، چوری کر کے ان کے حصے کا پانی ان بستیوں تک پہنچایا جاتاہے اور یہ پانی خرید کر پیتے ہیں روزانہ کی بنیادوں پر ڈکیتیاں، رہزنی، خواتین کے پرس اور موبائل اسنیچنگ اب معمول بن چکی ہیں۔

خیر یہ نوحہ خوانی تو ہمارے بزرگوں کے حصے میں آئی اور ہمارا نصیب بھی ٹھہری ، اسی بنیاد پر شہری سہولیات ۔ پانی، بجلی، صحت، تعلیم، روزگار سب میں مسائل درپیش ہیں ۔