آپ آف لائن ہیں
جمعرات13؍ صفر المظفّر 1442ھ یکم اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

وفاقی حکومت کی طرف سے نیب آرڈیننس 1999میں دوسری بار ترامیم کی گئی ہیں اور یہ ترامیم بھی ایک آرڈیننس کے ذریعے متعارف کرائی گئی ہیں۔ وفاقی حکومت کا دعویٰ ہے کہ نیب ترمیمی آرڈیننس سے ملک کے اداروں اور کاروباری برادری کے اعتماد کو بحال کیا گیا ہے۔

اپوزیشن کی طرف سے نیب آرڈیننس کو پڑھے بغیر تنقید کی جا رہی ہے اور ایسا تاثر دیا جا رہا ہے جیسے احتساب کا عمل ختم کر دیا گیا ہے اور حالیہ ترامیم کا فائدہ حکومت کو پہنچے گا،

وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر، حکومتی وزرا اور ترجمانوں نے اپوزیشن کی نیب آرڈیننس پہ کی جانے والی تنقید کو یکسر مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حالیہ ترامیم کا مقصد کاروباری برادری اور بیوروکریٹس کے اعتماد کو بحال کرنا تھا اور اِن ترامیم کے ذریعے نیب کے اختیارات کو محدود کرنے کا تاثر درست نہیں ہے،

نیب کے کام کو آسان کیا گیا ہے تاکہ اس کا فوکس کرپشن پہ رہے۔ وفاقی حکومت کی طرف سے احتساب کے قانون میں پہلی ترمیم بھی دو ماہ قبل صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ہی کی گئی تھی۔

نیب کے اس قانون کے تحت جسے اپوزیشن کالے قانون سے تعبیر کرتی ہے چیئرمین نیب کو وہ لامحدود اختیارات حاصل تھے کہ وہ جس فرد کے خلاف چاہیں آمدن سے زائد اثاثہ جات یا اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات عائد کرکے اُسے پابندِ سلاسل کر سکتے تھے،

ایسے ملزمان بےشک بعدازاں عدالتوں سے ضمانت پہ باعزت بری ہو جائیں یا اُن کی ضمانت ہو جائے لیکن مذکورہ ترمیم کے تحت اُن سے جیل میں بی کلاس واپس لے کر اُنہیں بنیادی حقوق سے محروم کرنا اِس ترمیم کے مقاصد کو بخوبی واضح کرتا ہے۔

دو ماہ بعد اب دوسرے نیب ترمیمی آرڈیننس کے تحت نیب قانون کے اطلاق اور کرپٹ پریکٹس کی تعریف نئے سرے سے کر دی گئی ہے، چلیں حکومتی دعوئوں کو درست مان لیتے ہیں کہ تاجر برادری کے خدشات کو رفع کرنے، ملکی معیشت کو مستحکم کرنے اور امور ریاست چلانے کے لیے سرکاری افسران کا اعتماد بحال کرنا نہایت ضروری تھا،

حکومت کا یہ مؤقف بھی جائز کہ جمہوری معاشرے میں کسی کے پاس لامحدود اختیارات نہیں ہونا چاہئیں لیکن نیب کے قانون میں ترامیم کے حوالے سے ہر قسم کے جواز کو درست تسلیم کرتے ہوئے یہاں سب سے اہم سوال یہ جنم لیتا ہے کہ اگر یہ اقدام اتنا ہی اچھا ہے تو پھر اِس اَحسن اقدام کو اُٹھاتے ہوئے اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر پارلیمان کے ذریعے قانون سازی کا جمہوری راستہ اختیار کیوں نہیں کیا گیا؟

آخر ایسی کیا قیامت بپا ہو گئی تھی کہ قومی اسمبلی اجلاس کے انعقاد کے لیے چند دن انتظار نہیں کیا گیا اور اِس اقدام کو صدارتی آرڈیننس کے اجرا سے متنازع بنا دیا گیا جسے حکومت ملکی مفاد میں قرار دیتی ہے۔

اپوزیشن کی تنقید کے برعکس اگر حکومت کو بی آر ٹی، مالم جبہ، بلین ٹری سونامی جیسے منصوبوں میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات سے کوئی خطرہ نہیں تھا تو اس ہنگامی اقدام کے بجائے اپوزیشن کی مشاورت سے دیرپا قانون سازی کرنے کو ترجیح کیوں نہیں دی گئی؟

نیب کی ڈسی ہوئی اپوزیشن تو پہلے دن سے اس قانون میں ترمیم کی خواہاں ہے اور اس ضمن میں حکومت کے ساتھ بیک ڈور مشاورت بھی طویل عرصے سے جاری ہے تو اس اپوزیشن کو نیب کی ان ترامیم پہ کیا اعتراض ہو سکتا تھا بلکہ اگر یہی ترامیم پارلیمان کے ذریعے کی جاتیں تو اپوزیشن کی تجاویز کی روشنی میں نہ صرف اُنہیں مزید بہتر بنایا جا سکتا تھا بلکہ اتفاق رائے سے اُن ترامیم کو متنازع ہونے سے بھی بچایا جا سکتا تھا لیکن ایسا کیوں نہ کیا گیا؟

حکومت کی طرف سے نیب ترمیمی آرڈیننس کے اجرا کے فوری بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس طلب کرنے نے بھی حکومتی نیت کو مشکوک بنا دیا ہے کیونکہ یہ اجلاس دو دن قبل طلب کر کے بھی ترامیم کا بل پیش کیا جا سکتا تھا۔

حکومت کی طرف سے یہ توجیہہ بھی ناقابلِ فہم ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں بھی وسیع پیمانے پہ آرڈیننس جاری ہوتے رہے ہیں،

پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور اقتدار میں مجموعی طور پہ 90آرڈیننس جاری کئے گئے جبکہ مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں 54آرڈیننس جاری ہوئے تھے لیکن اگر ایک کام ان دو حکومتوں نے غلط کیا تھا تو اس کی پیروی کرنے کے بجائے جمہوری طرزِ عمل کا مظاہرہ کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت صرف 16ماہ میں 31آرڈیننسز جاری کر چکی ہے،

آرڈیننسز کے ذریعے امور مملکت چلانے کے اسی طرز عمل کے باعث ایوان صدر کو آرڈیننس فیکٹری کے نام سے پکارا جانے لگا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 89کے تحت قومی اسمبلی یا سینیٹ کا اجلاس نہ چل رہا ہو تو صدر مملکت فوری ضرورت کے تحت آرڈیننس جاری کر سکتے ہیں جو 120دن کے لیے مؤثر ہوتا ہے،

آئین کے تحت پہ حکومت پہ لازم ہے کہ آرڈیننس کو جاری کرنے کے بعد قومی اسمبلی یا سینیٹ میں پیش کرے جبکہ اس کی مدت میں صرف ایک بار توسیع کی جا سکتی ہے۔ کسی بھی آرڈیننس کو اگر قومی اسمبلی یا سینیٹ ایک قرارداد پاس کر کے مسترد کردے تو وہ آرڈیننس اسی وقت غیر مؤثر ہو جائے گا۔

قومی اسمبلی میں چونکہ حکومت کی اکثریت ہے اس لیے حالیہ نیب ترمیمی آرڈیننس کو قومی اسمبلی میں قرارداد کے ذریعے مسترد ہونے کا خطرہ لاحق نہیں ہے لیکن سینیٹ میں اپوزیشن اکثریت میں ہے جہاں اپوزیشن آئین کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک قرارداد کے ذریعے اس ترمیمی آرڈیننس کو مسترد کر سکتی ہے۔

لیکن محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کرنے والی اپوزیشن نے پہلے نیب ترمیمی آرڈیننس کو بھی آج تک سینیٹ میں قرارداد منظور کر کے مسترد نہیں کیا۔

سیاسی جماعتیں خود کو ملک میں جمہوری نظام کی علمبردار قرار دیتی ہیں لیکن ایک آمر کے دور میں سیاسی انتقام کے لیے متعارف کرائے گئے نیب آرڈیننس میں جمہوری طریقے سے ترامیم پہ اتفاق نہیں کر سکتیں۔

جمہوری دور میں یہ غیر جمہوری رویہ پارلیمان کی بالا دستی کا راگ الاپنے والوں کے لیے یقیناً ایک سوالیہ نشان ہے۔