آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ27؍جمادی الثانی 1441ھ 22؍ فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

نتازعات، تصادم میں بدلنے کا خطرہ ٹل گیا

گزشتہ برس بڑی طاقتوں سمیت اقوامِ عالم کی توجّہ مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل پر مرکوز رہی، جن میں شمالی کوریا کے جوہری عزائم، ایران کی نیوکلیئر ڈِیل، مسئلہ کشمیر، افغانستان کا بحران، امریکا، چین تجارتی جنگ اور شام و یمن کی غیر مستحکم صورتِ حال قابلِ ذکر ہیں۔ تاہم، ذیل میں سالِ رفتہ میں رُونما ہونے والے اہم واقعات کا مختصر جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔ 

14ستمبر کو سعودی عرب میں واقع دُنیا کی سب سے بڑی آئل کمپنی، آرامکو کی تنصیبات پر ڈرون حملوں کے باعث کئی ممالک کو تیل کی فراہمی معطّل ہو گئی۔ اس واقعے نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اسٹاک مارکیٹس میں ایک بھونچال سا آ گیا اور تیل کی منڈیاں لرزنے لگیں۔ اس انتہائی تشویش ناک صورتِ حال میں سلامتی کائونسل کا اجلاس بھی منعقد ہوا۔ آرامکو پر حملے کی ذمّے داری یمن کے حوثی باغیوں نے قبول کی۔ 

واقعے پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو حملے کا ذمّے دار قرار دیا اور ساتھ ہی اپنے حلیف مُلک کی جانب سے جوابی کارروائی کا عندیہ بھی دیا، جب کہ اُن کے ایرانی ہم منصب، حَسن روحانی نے اس الزام کو مسترد کر دیا۔ دریں اثنا، دُنیا بَھر نے غیر فوجی تنصیبات پر حملے کی مذمّت کرتے ہوئے اسے توانائی کی رسد کے عالمی نظام کے لیے خطرہ قرار دیا۔ حملے کے بعد امریکا نے سعودی عرب کی حفاظت کے لیے وہاں مزید فوج تعینات کر دی۔ گرچہ اس واقعے نے کسی جنگی تصادم کی شکل اختیار نہیں کی، لیکن اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد و یگانگت کی منزل مزید دُور ہو گئی اور ڈرون طیّاروں کی فضائیہ میں شمولیت کی بحث نے ایک نیا رُخ اختیار کر لیا۔

ستمبر کے اختتام پر تُرکی نے شام کے شمال مشرقی علاقے پر حملہ کر دیا اور تُرک افواج شامی حدود میں داخل ہو گئیں۔ تُرک افواج کا ہدف راس العین نامی علاقہ تھا، جسے امریکا کی اتحادی کُرد ملیشیا، پیش مرگہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ 

مذکورہ علاقہ شامی خانہ جنگی کے دوران یورش سے محفوظ رہا تھا۔ دوسری جانب شام میں تُرکی کی فوجی مداخلت پر شامی صدر، بشار الاسد، ایران اور رُوس نے خاموشی اختیار کیے رکھی۔ قبل ازیں، دو مئی کو امریکا نے ایران کا پابندیوں میں حاصل استثنیٰ ختم کرنے کا اعلان کیا۔ یاد رہے کہ ٹرمپ نے نومبر 2018ء میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے سے دست بردار ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ 

گرچہ یورپی رہنمائوں کا خیال تھا کہ وہ امریکا کو معاہدے میں دوبارہ شمولیت پر آمادہ کر لیں گے، لیکن اس کے برعکس ایران پر عاید پابندیوں میں مزید شدّت آئی۔ دوسری جانب شمالی کوریا کے جوہری عزائم کے سدِّ باب کے لیے 27اور 28فروری کو ویت نام میں ٹرمپ اور کِم کے مابین ملاقات ہوئی۔ گرچہ اس دوران کوئی اہم پیش رفت نہ ہو سکی، تاہم فریقین نے معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ گزشتہ برس کئی مواقع پر افغان امن عمل کی کام یابی کی بازگشت سنائی دی۔ 

ستمبر میں طالبان کے حملے میں امریکی فوجی کی ہلاکت کے بعد امریکی صدر نے گزشتہ کئی ماہ سے جاری امن مذاکرات معطّل کر دیے، جب کہ اس سے قبل امریکا اور افغان طالبان کے مابین ایک ایسے معاہدے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ جس کی رُو سے امریکی افواج ڈیڑھ برس کے عرصے میں افغانستان سے روانہ ہو جائیں گی، قیدیوں کا تبادلہ ہو گا، طالبان کسی کو بھی افغان سر زمین، پُر تشدّد سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بات چیت سے پاور شیئرنگ کا فارمولا طے کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ٹرمپ کی خواہش ہے کہ آیندہ امریکی صدارتی انتخابات سے قبل یہ معاہدہ ٹھوس شکل اختیار کر لے اور اس سلسلے میں انہوں نے دسمبر میں افغانستان کا دورہ بھی کیا۔

15مارچ کو نیوزی لینڈ جیسے پُر امن مُلک کی دو مساجد میں نمازیوں پر فائرنگ کے واقعے کے باعث پوری دُنیا لرز کر رہ گئی۔ سفید فام نسل پرست آسٹریلوی باشندے، برینٹن ٹیرنٹ نے نہ صرف کم و بیش 50مسلمانوں کو شہید کیا، بلکہ اس دل دوز واقعے کی ویڈیو بھی براہِ راست فیس بُک پر دکھائی۔ شہید ہونے والے افراد کا تعلق پاکستان، بنگلا دیش، تُرکی اور شام سمیت دیگر ممالک سے تھا۔ اسلامی ممالک سمیت پوری دُنیا نے اس سفّاکیت کی شدید مذمّت کرتے ہوئے اس کا سبب ’’اسلامو فوبیا‘‘ کو قرار دیا۔ 

اس موقعے پر خاتون کیوی وزیرِ اعظم، جیسینڈا آرڈرن نے متاثرہ خاندانوں کی اشک شوئی ، دل جوئی کے لیے ہاتھ جوڑ کر اُن سے معافی مانگی اور ساتھ ہی یہ تاریخی کلمات بھی ادا کیے کہ ’’شہید ہمارے ہیں اور قاتل ہم میں سے نہیں۔‘‘ خاتون وزیرِ اعظم کے یہ جملے دُکھی دلوں کے لیے مرہم ثابت ہوئے۔ اسی طرح انہوں نے پارلیمنٹ سے اپنے خطاب کا آغاز ’’السّلام علیکم‘‘ کہہ کر کیا اور عالمی رہنمائوں کے لیے ایک مثال بن گئیں۔ اپریل میں سری لنکا میں ایسٹر کے موقعے پر ہونے والی دہشت گردی میں 350سے زاید افراد لقمۂ اجل بن گئے ۔ 

اس دل خراش واقعے نے مقامی مسلمانوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا، جو پہلے ہی انتہا پسند بودھ باشندوں کے ہاتھوں ستاتے ہوئے تھے۔ اگست کے پہلے ہفتے میں مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا فیصلہ کرنے کے بعد ردِ عمل سے بچنے کے لیے وہاں کرفیو نافذ کر دیا۔ بھارت کے اس غیر انسانی رویّے پر پاکستان کی درخواست پہ طلب کیے گئے سلامتی کائونسل کے غیر رسمی اجلاس میں تشویش کا اظہار کیا گیا۔ بعد ازاں، اقوامِ متّحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم پاکستان، عمران خان نے نہایت مؤثر انداز میں کشمیر کا مقدّمہ پیش کیا۔ دوسری جانب مودی انتظامیہ کی عاقبت نا اندیشی اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کے باعث مسئلہ کشمیر اقوامِ عالم کی توجّہ کا مرکز بن گیا۔

سال کے آخری ماہ برطانیہ میں قبل از وقت انتخابات ہوئے، جن میں کنزرویٹیو پارٹی کی 524 کے ایوان میں 364 نشستوں کے ساتھ فتح نے نہ صرف بریگزٹ کی راہ ہم وار کی، بلکہ برطانوی باشندوں کو اُس مخمصے سے بھی نجات مل گئی، جس میں وہ گزشتہ چار برس سے مبتلا تھے اور پھر سال کے اختتام سے قبل ہی برطانوی پارلیمان میں بریگزٹ بِل پاس ہوگیا۔ اس موقعے پر نو منتخب وزیرِ اعظم، بورس جانسن نے یقین دِلایا کہ وہ31 جنوری تک برطانیہ کو یورپ سے علیٰحدہ کرلیں گے۔ 

جانسن، یورپ کے مقابلے میں امریکا سے قریبی تعلقات کے حامی ہیں۔گزشتہ برس بھارت میں ہونے والے لوک سبھا کے چُنائو میں نریندر مودی مسلسل دوسری مرتبہ وزیرِ اعظم منتخب ہو گئے۔ انتخابی نتائج نے ثابت کیا کہ بھارتی عوام حُکم راں جماعت، بی جے پی کی خارجہ و اقتصادی پالیسی سے مطمئن ہیں۔ان انتخابات میں حکومتی اتحاد نے تین چوتھائی نشستیں حاصل کیں۔انڈونیشیا میں ہونے والے انتخابات میں جوکو ویدیدو دوسری مرتبہ صدر منتخب ہوئے۔

دُنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست کے سربراہ کا تعلق انڈونیشین ڈیمو کریٹک پارٹی سے ہے۔ قومی، صوبائی اور مقامی سطح کے انتخابات میں بھی جوکو ویدیدو کی جماعت نے واضح اکثریت حاصل کی۔ ان کے حریف سابق جرنیل اور گریٹر انڈونیشین پارٹی سے تعلق رکھنے والے رہنما، سبائنتو تھے۔ انتخابی مُہم میں جوکو ویدیدو نے اقتصادی ترقّی پر زور دیا، جب کہ سبائنتو نے خود کو ایک قوم پرست رہنما اور مردِ آہن کے طور پر پیش کیا۔ 

گرچہ کینیڈا میں ہونے والے انتخابات میں وزیرِ اعظم، جسٹن ٹروڈو ایک مرتبہ پھر کام یاب ہوئے، لیکن اس مرتبہ ان کی جماعت، لبرل پارٹی 338رُکنی پارلیمان میں صرف 157نشستیں حاصل کر سکی، جب کہ مخالف جماعت، کنزرویٹیو پارٹی نے 121نشستیں اپنے نام کیں۔ نتیجتاً، ٹروڈو کو ایک کم زور حکومت کی سربراہی سنبھالنا پڑی۔ نیز، وہ کسی قانون میں ترمیم بھی نہیں کر سکیں گے۔ واضح رہے کہ ٹروڈو 2015ء کے انتخابات میں تبدیلی کے نعرے پر کام یاب ہوئے تھے، لیکن وہ اپنے وعدے پورے نہیں کر سکے۔ ان کے دَورِ وزارتِ عظمیٰ میں کینیڈا اور امریکا کے تعلقات میں تلخی آئی، جس کا سبب ٹرانس اٹلانٹک معاہدہ تھا۔ 

علاوہ ازیں، کینیڈا میں کیوبک کی علیحدگی کا مسئلہ بھی برقرار رہا۔ نومبر کے وسط میں گوتا بائے راجا پاکسے سری لنکا کے نئے صدر منتخب ہوئے۔ صدارتی انتخابات میں انہوں نے 52.25فی صد ووٹ حاصل کیے، جب کے ان حریف سجیت پریما داسا کے حصّے میں 42فی صد ووٹ آئے۔ 16نومبر کو ہونے والے ہنگامہ خیز چُنائو میں سری لنکن ووٹرز نے ایک متعدل اور لبرل رہنما کے مقابلے میں مردِ آہن کا تاثر رکھنے والے لیڈر کو منتخب کیا، کیوں کہ جزیرے کے باسی دہشت گردی کے واقعات کے بعد خود کو غیر محفوظ تصوّر کر رہے تھے۔ صدر منتخب ہونے کے بعد گوتا بائے راجا پاکسے نے اپنے بڑے بھائی اور سابق صدر، مہندا راجا پاکسے کو وزیرِ اعظم کے منصب پر فائز کیا۔

گزشتہ برس پیرس میں ہونے والا جی سیون سربراہی اجلاس خاصا ہنگامہ خیز رہا۔ تاہم، اس موقعے پر واشنگٹن اور تہران کے مابین کشیدگی کم کروانے کے لیے امریکی صدر نے اپنے ایرانی ہم منصب سے ملنے کا عندیہ بھی دیا۔ اس اہم پیش رفت میں فرانسیسی صدر، ایمانوئیل میکرون نے ایرانی وزیرِ خارجہ، جواد ظریف کو پیرس طلب کر کے مرکزی کردار ادا کیا۔ 

گرچہ بعد ازاں ملاقات تو نہیں ہوئی، لیکن فوجی تصادم کے امکانات بھی ختم ہو گئے۔ علاوہ ازیں، جی سیون سمٹ کے دوران تجارتی جنگ کے خاتمے کے لیے ٹرمپ نے اپنے چینی ہم منصب سے ملاقات کی خواہش بھی ظاہر کی۔ اس اجلاس سے پاکستان کو بھی بڑی توقّعات وابستہ تھیں کہ رُکن ممالک بھارت کے وزیرِ اعظم، نریندر مودی سے مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال پر باز پرس کریں گے، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ نیز، امریکی مخالفت کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیوں پر بھی بات نہ ہوسکی۔ دوسری جانب لبنان میں معاشی بدحالی کے خلاف شدید احتجاج کے بعد سیاسی بُحران پیدا ہو گیا۔ 

مظاہروں کے نتیجے میں سعد الحریری وزارتِ عظمیٰ سے مستعفی ہونے کے بعد قائم مقام وزیرِ اعظم بن گئے۔ قبل ازیں، انہوں نے ایک اقتصادی پیکیج پیش کیا تھا، جسے مسترد کر دیا گیا ۔ اس وقت بھی لبنانی معیشت جمود کا شکار ہے۔ لبنان کی طرح مشرقِ وسطیٰ کا ایک اور اہم مُلک، عراق بھی نئے انتخابات کے باوجود شدید مظاہروں کی زد میں رہا اور بالآخر وزیرِ اعظم، عادل عبد المہدی کو اپنے عُہدے سے مستعفی ہونا پڑا۔ شدید احتجاج کے دوران سیکوریٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں معمول بن گئیں اور سیکڑوں افراد ہلاک ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، جنہیں عراقی حکومت مسترد کرتی رہی۔ 

مظاہروں کے دوران بغداد تقریباً مفلوج ہو کر رہ گیا، جب کہ کربلا اور نجف میں ایرانی پرچم اُتارنے کے علاوہ اس کے سفارت خانے کو بھی نذرِ آتش کیا گیا۔ نیز، اس موقعے پر مظاہرین نے ایران کے خلاف نعرے بازی بھی کی، جو گزشتہ 17برس سے عراقی حکومت کا پشتیبان تھا۔ ایران نے ان ہنگاموں کا الزام امریکا پر عاید کیا۔ یاد رہے کہ گزشتہ 17برس میں عراق کے تینوں وزرائے اعظم نے بد ترین انتظامی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔

سالِ رفتہ میں برِ اعظم، افریقا کا بد قسمت مُلک، سوڈان ایک مرتبہ پھر بد ترین افراتفری سے دوچار ہوا اور اپریل میں مُلک گیر احتجاجی تحریک کے نتیجے میں گزشتہ 30برس سے عہدۂ صدارت پر فائز، عُمر البشیر کو اقتدار چھوڑنا پڑا۔ انہوں نے بلا شرکتِ غیرے مُلک پر حکم رانی کی۔ احتجاج کے دوران فوج نے بھی اُن کا ساتھ چھوڑ دیا اور عُمر البشیر کی اقتدار سے بے دخلی پر مُلک میں جَشن منایا گیا۔ تاہم، اس کے بعد سوڈان میں جمہوری حکومت قائم ہونے کی بجائے فوج کے دو دھڑے بن گئے اور مفاہمت کی ہر کوشش دَم توڑ گئی۔ اس موقعے پر ناقدین نے سوڈان میں شام جیسی خانہ جنگی کے خدشے کا اظہار بھی کیا۔ 

لاطینی امریکا کے اہم مُلک، وینزوویلا کی معیشت کو تیل کی کم ہوتی قیمتوں نے تباہ کر کے رکھ دیا اور پھر اپنے سیاسی بُحران کی وجہ سے بھی یہ موضوعِ بحث بنا رہا۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ سیاسی افراتفری کے باعث ہی تیل کی پیداوار متاثر ہوئی۔ اس موقعے پر ماہرین کا کہنا تھا کہ امریکا، وینزوویلا کی ابتری کا ذمّے دار ہے۔ علاوہ ازیں، صدر نکولس مدورو اور نئے خود ساختہ لیڈر، جوان گائیڈو کے درمیان اقتدار کی شدید کش مکش بھی جاری رہی، جسے بعض تجزیہ کاروں نےسوشل ازم اور مغربی جمہوری نظام کے مابین کشاکش قرار دیا۔

چین کے خود مختار علاقے، ہانگ کانگ میں 6ماہ سے جاری احتجاج کے دوران ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں جمہوریت نوازوں کو بھاری اکثریت حاصل ہوئی۔ نومبر کے آخری اتوار کو ہونے والے ان انتخابات میں ریکارڈ 71فی صد افراد نے ووٹ کاسٹ کیے۔ احتجاجی مظاہروں کے بعد جزیرے کی چیف ایگزیکٹیو، کیری لَیم کا کہنا تھا کہ چینی حکومت تحفّظات پر سنجیدگی سے غور کرے گی۔ 

واضح رہے کہ یہ مظاہرے کسی مرکزی قیادت کی عدم موجودگی میں ہوئے اور مختلف جامعات کے طلبہ سوشل میڈیا کے ذریعے مظاہروں کے لیے مختلف مقامات پر جمع ہوتے رہے۔ مظاہرین اور سیکوریٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں اور اس دوران اہل کاروں کی جانب سے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا گیا، جب کہ مظاہرین نے سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچایا۔ چین کی حکومت کا کہنا تھا کہ امریکا مظاہرین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اس کے معاملات میں براہِ راست مداخلت کر رہا ہے۔ 

تاہم، مدبّر چینی قیادت نے کشیدگی کو ہوا دینے کی بجائے افہام و تفہیم سے صورتِ حال پر قابو پایا۔ گزشتہ برس ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق اہم معاہدہ معطل ہو گیا۔ انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئر فورسز ٹریٹی نامی یہ معاہدہ گزشتہ 32برس سے امریکا اور رُوس کے درمیان موجود تھا۔ تاہم، یکم فروری کو امریکا اس معاہدے سے دست بردار ہو گیا اور اس کے اگلے ہی روز رُوس نے بھی جوہری ہتھیاروں میں تخفیف کے معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی۔ عملاً یہ معاہدہ ختم ہونے سے درمیانے درجے کے میزائل تیار کرنے پر عاید پابندی بھی انجام کو پہنچ گئی۔

سنڈے میگزین سے مزید