آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر29؍ جمادی الثانی 1441ھ 24؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ملکی سیاست عجیب دوراہے پر آن کھڑی ہوئی ہے۔ حکومت کو آئے ڈیڑھ سال ہو گیا لیکن مجال ہے اس نے نان ایشوز پر عمل پیرا ہونے کے علاوہ کوئی لانگ ٹرم فلاحی کام کیا ہو۔ عوام کیلئے سانس لینا بھی دوبھر ہو چکا ہے۔ مہنگائی، بیروزگاری اور غربت کا سفر کوہِ ہمالیہ کی چوٹی کی جانب جاری ہے۔ اشیا خور و نوش کی قیمتیں کنٹرول سے باہر ہو چکی ہیں۔ عام آدمی کی کم از کم اجرت تو نہ بڑھ سکی البتہ مہنگائی میں دو سو سے ڈھائی سو فیصد اضافہ ہو گیا۔ پنجاب کے سرکاری اسپتالوں میں مفت ادویات اور ٹیسٹ ختم ہوگئے، معیاری تعلیم غریب کے بچوں کی پہنچ سے دور ہو چکی۔ چینی کی قیمت 45روپے سے 80روپے ہو گئی۔ آٹے کی فی بوری میں ایک سو روپے سے زائد اضافہ ہوا۔ گھی کی قیمت میں 30سے 40روپے تک اضافہ ہوا، ٹماٹر، پیاز، لہسن اور ادرک کی قیمت میں کئی گنا اضافہ ہوا، ٹماٹر 300روپے کلو فروخت ہوتے رہے۔ 8ہزار روپے میں فروخت ہونے والی اینٹ 12ہزار میں فروخت ہو رہی ہے۔ اور تو اور لنڈے کے کپڑوں کی قیمت میں بھی دگنا اضافہ ہو گیا۔ کفایت شعاری کا نعرہ صرف تقریروں تک ہی محدود رہا۔ وزرا اور مشیروں کے لئے نئی گاڑیوں پر کروڑوں روپے خرچ کر دیے گئے۔

دوسری جانب پنجاب میں 2019ء کے دوران جرائم کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا۔ پنجاب میں ہر منٹ میں 150وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔ لاہور سرفہرست جبکہ راولپنڈی دوسرے، ملتان تیسرے نمبر پر رہا۔ پنجاب میں روزانہ 150سے 200گاڑیاں، 500سے 600موٹر سائیکلیں اور 3ہزار سے زائد موبائل فونز چھینے گئے۔ گزشتہ سال کی نسبت پنجاب میں جرائم کی شرح میں مجموعی طور پر 17فیصد اضافہ ہوا۔ تیزاب گردی اور تشدد سمیت دیگر واقعات میں تین ہزار سے زائد خواتین نشانہ بنیں۔ پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق پنجاب بھر میں 190خواتین قتل ہوئیں۔ دفاتر اور دیگر مقامات پر ہراساں کرنے کے 3405واقعات رپورٹ ہوئے۔ محکمہ داخلہ پنجاب میں 17ارب روپے کی کرپشن کی نشاندہی ہوئی۔ پنجاب میں ستمبر 2019ء تک بچوں سے زیادتی کے کل 1024مقدمات رجسٹر ہوئے۔ صرف لاہور میں ستمبر 2018ء سے مارچ 2019ء تک بچوں سے زیادتی کے 152مقدمات رجسٹر ہوئے۔

پنجاب نے افسروں کے تبادلوں کے منفرد ریکارڈ قائم کیے۔ پالیسی بنائی گئی تھی کہ ایک عہدے پر کم از کم ایک سال تک افسر تعینات رہے گا لیکن 16ماہ میں 266افسروں کے تبادلے کئے گئے۔ سیکرٹری ہائر ایجوکیشن 6بار، سیکرٹری صحت 3بار، سیکرٹری پراسیکیوشنز 2بار، سیکرٹری اسکولز 4بار تبدیل ہوئے۔ سیکرٹری سروسز 4بار جبکہ سیکرٹری انڈسٹریز 3بار تبدیل ہوئے، سیکرٹری ٹرانسپورٹ، ایکسائز اور خوراک کے تین تین بار تبادلے ہوئے۔ کمشنر راولپنڈی، کمشنر ملتان، کمشنر گوجرانوالہ کے دو دو بار تبادلے ہوئے۔ ڈپٹی کمشنر بہاولنگر، بہاولپور، ڈی جی خان، فیصل آباد، ساہیوال، سیالکوٹ، پاکپتن کے تین تین بار تبادلے ہوئے۔ کمشنر ڈی جی خان 4بار، ڈی جی پی ایچ اے 3بار، کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو اور ایم ڈی بھی 2سے 3بار تبدیل ہوئے۔ ایک افسر کو تین بار یا پھر بعض افسروں کو 9بار تک تبدیل کیا جا چکا ہے۔ ہر حکومتی وزیر سابقہ حکومتوں کو ہدفِ تنقید بنانے میں مصروف ہے۔

رانا ثناء اللہ کیس کی ضمانت نے عوام پر حکومتی زعما کی نااہلیت ثابت کر دی ہے۔ اس کے بعد خواجہ سعد رفیق، خواجہ سلمان رفیق اور حمزہ شہباز شریف کی ضمانتیں بھی ہوا چاہتی ہیں جن میں حسب سابق کوئی کرپشن نہ سامنے آئے گی اور نہ ثابت ہوگی۔ حکومتی کمزور پالیسیوں نے حقیقی طور پر ایسا معاشی بحران پیدا کر دیا ہے جس کو سنبھالنا اس کے بس کی بات نہیں ہے۔ آج کا سوال تو یہ ہے کہ جب بھی نئے انتخابات ہوں گے تو پی ٹی آئی حکومت کیا منہ لیکر عوام کے سامنے جائیگی۔ مجھے تو ایسے لگتا ہے کہ فردوس عاشق اعوان بالخصوص اور شہریار آفریدی، مراد سعید، فیصل واوڈا سمیت سکائی لیب و ہمنوا بالعموم حکومتی صفوں کو چھوڑ کر پھر سے اڑ جائیں گے۔ موسم خزاں آئے گا تو بہت سے سیاستدان سیاست سے ہی توبہ کر جائیں گے۔