آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات27 ؍جمادی الاوّل 1441ھ 23؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

مشرف کی سزا ختم، عدالت کی تشکیل، اسپیشل کورٹ ایکٹ میں ترامیم، ماضی سے اطلاق اور ملزم کی غیرحاضری میں ٹرائل غیرقانونی، تمام کارروائی کا لعدم

مشرف کی سزا ختم، عدالت کی تشکیل، اسپیشل کورٹ ایکٹ میں ترامیم


لاہور(نمائندہ جنگ،مانیٹر نگ سیل) لاہور ہائیکورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کیخلاف غداری مقدمے کا فیصلہ سنانے والی خصوصی عدالت کی تشکیل ، اسپیشل کورٹ ایکٹ میں ترامیم، کسی قانون کا ماضی سے اطلاق اور ملزم کی غیر حاضری میں ٹرائل کو غیر قانونی اور خصوصی عدالت کی تمام کارروائی کو کالعدم قرار دیدیا۔

لاہور ہائیکورٹ قرار دیا کہ خصوصی عدالت بناتے اور استغاثہ دائر کرتے وقت قانونی تقاضے پورے نہیں کئے گئے، چیف جسٹس کو ججز کی نامزدگی کا اختیار نہیں ہے،

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ایمرجنسی لگانا آئین میں شامل ہے، اگر یہ کام آمر کے بجائے حکومت کرے تو کیا غداری کا مقدمہ بنے گا،

ملزم اور مدعی کا موقف ایک ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پرویز مشرف کے اقدامات پہلے کے ہیں، غداری قانون میں تبدیلی بعد میں کی گئی، کیس بنانے کا معاملہ کبھی کابینہ کے ایجنڈے میں نہیں آیا، پرویز مشرف کیخلاف کیس سننے والی خصوصی عدالت کی تشکیل کابینہ کی منظوری کے بغیر ہوئی۔ 

وفاقی حکومت کے وکیل ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق اے خان بتایاکہ سابق صدر پرویز مشرف کی درخواست منظور ہونے سے انکی سزا بھی ختم ہوگئی۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ ضیاءالحق نے کہا تھا کہ آئین کیا ہے؟

12صفحوں کی کتاب ہے، اس کتاب کو کسی بھی وقت پھاڑ کر پھینک دوں، یہ آئین توڑنا تھا،ایمرجنسی تو آئین میں شامل ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے سابق صدر پرویز مشرف کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔

پرویز مشرف نے اپنے وکلا خواجہ احمد طارق رحیم اور اظہر صدیق کے ذریعے خصوصی عدالت کی تشکیل کو چیلنج کیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے قرار دیا کہ کسی بھی شخص کیخلاف ٹرائل سے عدم موجودگی میں فیصلہ کرنا غیر اسلامی، غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے قرار دیا کہ کسی قانون کا اطلاق ماضی سے نہیں کیا کیا جاسکتا۔

فل بنچ نے کریمنل لاء اسپیشل کورٹ ترمیمی ایکٹ 1976ء کی دفعہ 9 کو کالعدم کر دیا۔ سابق صدر کے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف کیخلاف استغاثہ دائر کرنے سے خصوصی عدالت کی تشکیل غیر قانونی قرار دی گئی۔

لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے سابق صدر پرویز مشرف کے وکلا، عدالتی معاون علی ظفر اور وفاقی حکومت کے وکیل اشتیاق اے خان کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا اور سابق صدر پرویز مشرف کی درخواست منظور کر لی۔ بنچ کے دیگر ارکان میں جسٹس امیر بھٹی اور جسٹس مسعود جہانگیر شامل تھے۔ تفصیلی فیصلہ بعد جاری کیا جائیگا۔

لاہور ہائیکورٹ کے روبروخصوصی عدالت کی تشکیل کیخلاف درخواست کی سماعت شروع ہوئی توایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق اے خان نے خصوصی عدالت کی تشکیل کا ریکارڈ پیش کردیا۔پرویز مشرف کےوکیل اظہر صدیق نے دلائل دئیے کہ سابق صدر پرویز مشرف نے عدالت سے رجوع کیا تھا سابق صدر کا موقف تھا کہ غداری کا مقدمہ چلانے کیلئے وفاقی کابینہ سے منظوری نہیں لی گئی،

پراسیکیوٹر کی تعیناتی سمیت کوئی عمل قانون کے مطابق نہیں کیا گیا، عدالت خصوصی عدالت کی کارروائی اور تشکیل کو غیر آئینی قرار دے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ایمرجنسی عائد کرنا تو آئین کا حصہ ہےآئین کے کچھ آرٹیکلز تو ایمرجنسی حالات میں غیرفعال ہو جاتے ہیں اگرآمر کی بجائے موجود حکومت ایمرجنسی لگائے تو کیا وہ غداری کے زمرے میں آئیگا؟عدالت نے قرار دیا کہ غیرآئینی اقدام کامعاملہ جب عدالت آئیگا تو اسکا فیصلہ توعدالت نے کرنا ہے۔ یہاں توجس کو جو سوٹ کرتاہوگاوہ کردیگا۔

عدالت نے کہا کہ ایمرجنسی حالات میں آئین کی معطلی تولائف سیونگ ڈرگ ہےآئین کی پہلی تحریرمیں تومعطلی کا ذکر ہے۔ عدالت نے کہا کہ ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت کیا عدالتوں کے اختیار کوکم یا ختم کیسے کیا جاسکتا۔ قانون بنانا پارلیمنٹ کاکام ہے اسکی تشریح کرنا عدلیہ کاکام ہےاگرآج غداری کا معاملہ ہوتا ہے اوروفاقی حکومت کارروائی نہ کرے تو کیا عدالت کوئی کارروائی نہیں کرسکتی ؟

اگر عدلیہ کا اختیار ختم کردیا جائے تو پھر جمہوری نظام کیسے چل سکتا ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ خصوصی عدالت کی تشکیل کے حوالے سے کابینہ نے فیصلہ نہیں کیااس حوالےسے ریکارڈ بھی موجود نہیں یہی حقیقت ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق ججز کی تعیناتیوں کے حوالے سے 2018میں کابینہ سے منظوری لی گئی ججزکی تعیناتیاں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی مشاورت سے کی گئیں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ سمری میں تو جسٹس نذر اکبرکی نامزدگی چیف جسٹس پاکستان کی جانب سے کی گئی جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جسٹس شاہد کریم کی تعیناتی کے حوالے سے بھی ایسی کوئی سمری نہیں۔

عدالت نے کہا کہ آئین یا قانون کے تحت چیف جسٹس کو ججز کی نامزدگی کاکوئی اختیار نہیں ایسا کوئی قانون موجود نہیں اور اس سے پہلے یہ روایت بھی نہیں تھی۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہےکہ ٹربیونلز یا خصوصی عدالتوں کی تشکیل چیف جسٹس پاکستان کی مشاورت سے ہوگی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ خصوصی عدالت کے ججز نے ہائیکورٹ کےجج کی حیثیت سے کام نہیں کیا۔

یہ ججز تو ٹرائل جج کے طور پر کام کررہے تھےبتایا جائے پنجاب کے کتنے ٹربیولز اورخصوصی عدالتوں کی تشکیل چیف جسٹس پاکستان کی مشاورت سے کی گئی۔

اہم خبریں سے مزید