آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات27 ؍جمادی الاوّل 1441ھ 23؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

وزیراعظم عمران خان کچھ ماہ قبل جب جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کیلئے امریکہ تشریف لے گئے تو نیویارک میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوان اور ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد سے مشترکہ ملاقات میں اسلامی ممالک کے سربراہان کا اجلاس بلانے اور اسلامی ٹی وی چینل کے قیام پر اتفاق ہوا۔ وزیراعظم کے اِس فیصلے پر وزارت خارجہ کو یہ تحفظات تھے کہ ایسا کرنے کی صورت میں سعودی عرب اور اُس کے اتحادی ممالک کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آئے گا لیکن وزیراعظم کا موقف تھا کہ اگر ایسی صورت میں وہ سعودی ولی عہد جن سے اُن کے ذاتی تعلقات ہیں، سے معاملے کو حل کرلیں گے۔ وطن واپسی پر تمام حکومتی وزراء نے اِن دونوں تجاویز پر عمران خان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اُنہیں بھٹو کے بعد مسلمانوں کا عظیم لیڈر قرار دیا۔ بعد ازاں پاکستان اور ترکی کی یقین دہانی پر ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے 19سے 22 دسمبر کو کوالالمپور کانفرنس کا اعلان کیا جس میں ایران اور قطر کے سربراہان نے شرکت کا فیصلہ کیا اور سعودی عرب کی جانب سے وہ سخت ردعمل سامنے آیا جس کی وزارت خارجہ نے پہلے ہی پیش گوئی کردی تھی۔

سعودی عرب کا یہ موقف تھا کہ نیا اسلامی اتحاد ’’او آئی سی‘‘ کے مدمقابل تشکیل دیا جارہا ہے جو مسلمانوں کو کمزور کرنے اور اُن میں دراڑ ڈالنے کے مترادف ہے۔ سعودی عرب قطر کے الجزیرہ ٹی وی چینل سے ناراضی کے باعث ایک اور اسلامی چینل کے قیام سے بھی خوش نہ تھا۔ ایسی صورتحال میں سعودی خدشات دور کرنے اور کوالالمپور کانفرنس میں پاکستان کی شرکت یقینی بنانے کی غرض سے وزیراعظم عمران خان نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو سعودی عرب روانہ کیا مگر اُنہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ کانفرنس سے کچھ روز قبل 14 دسمبر کو وزیراعظم عمران خان، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملنے سعودی عرب گئے مگر وہ بھی سعودی قیادت کو منانے میں ناکام رہے اور آخری وقت میں پاکستان نے کوالالمپور کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا مگر اس وقت تک کوالالمپور کی شاہراہوں پر اسلامی ممالک کے دیگر رہنمائوں کے ساتھ عمران خان کے پوسٹرز بھی آویزاں ہوچکے تھے کیونکہ عمران خان نے نیویارک میں ملائیشین وزیراعظم کے ساتھ اِس کانفرنس کی منصوبہ بندی کی تھی۔

کوالالمپور کانفرنس میں سعودی عرب کی متوقع ناراضی کے سبب پاکستان کی عدم شرکت نے ہمیں اتنی شرمندگی سے دوچار نہیں کیا تھا جتنا ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کے اس بیان نے کیا جس میں انہوں نے کہا کہ ’’پاکستان کو کوالالمپور کانفرنس میں شرکت سے روکنے کیلئے سعودی عرب کی جانب سے دھمکی دی گئی تھی کہ اگر پاکستان نے کوالالمپور کانفرنس میں شرکت کی تو سعودی عرب، پاکستان سے 6 ارب ڈالر کی واپسی کا تقاضا اور سعودی عرب میں کام کرنے والے لاکھوں پاکستانیوں کو جبری طور پر بے دخل کردے گا۔‘‘ تاہم سعودی حکومت اور اسلام آباد میں متعین سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے اس بات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ’’سعودی عرب نے پاکستان کو اس طرح کی کوئی دھمکی نہیں دی اور نہ ہی پاک سعودی سفارتی تعلقات میں ایسا لب و لہجہ استعمال کیا گیا جس کی طرف ترک صدر طیب اردوان نے اشارہ کیا ہے بلکہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مکمل طور پر باہمی احترام اور اتحاد کے رشتے پر منحصر ہیں۔‘‘

ایسی صورتحال میں ایک طرف سعودی عرب ہم سے نالاں ہوا اور ہم سعودی عرب کو یہ باور کرانے میں بھی ناکام رہے کہ پاکستان اگر کوالالمپور کانفرنس میں شرکت کرتا ہے تو سعودی عرب کا دفاع کرتے ہوئے ممکنہ سعودی مخالف اقدامات کی مخالفت کی جائے گی تو دوسری طرف کوالالمپور کانفرنس میں شرکت نہ کرکے ہم نے اُن ممالک کے ساتھ کیا گیا وعدہ پورا نہیں کیا جو مسئلہ کشمیر کے معاملے پر چٹان کی طرح پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں تاہم پاکستان کی عدم شرکت کے باوجود کوالالمپور کانفرنس میں بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 اے کے نفاذ کی مذمت کی گئی اور کشمیر پر جو موقف اختیار کیا گیا، ایسے موقف کی امید پاکستان او آئی سی سے رکھتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر جیسے حساس مسئلے اور بھارت میں مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم پر عرب ممالک اور او آئی سی کی خاموشی کے باعث پاکستان نے کوالالمپور کانفرنس سے سفارتی امیدیں وابستہ کرلی تھیں۔ او آئی سی کوئی علاقائی تنظیم نہیں بلکہ دنیا کے ایک ارب 80 کروڑ سے زائد مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم ہے۔ اگر آج او آئی سی متحرک اور فعال ہوجائے تو مسلم دنیا کے مسائل حل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ او آئی سی نے نئے اسلامی اتحاد کو بھانپتے ہوئے محسوس کیا ہے کہ او آئی سی کو نہ چاہتے ہوئے بھی مسلم دنیا کے مسائل حل کرنے کیلئے اپنے رویئے میں تبدیلی لانا ہوگی اور اطلاعات ہیں کہ سعودی وزیر خارجہ نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان میں او آئی سی کا آئندہ اجلاس پاکستان میں منعقد کرنے کا عندیہ دیا ہے جو یقیناً خوش آئند بات ہے۔

ادارتی صفحہ سے مزید