آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ26؍ جمادی الاوّل 1441ھ 22؍ جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

نواز شریف کو دل کاشدید عارضہ لاحق ہے،تازہ ترین میڈیکل رپورٹ

لندن(مرتضیٰ علی شاہ) رائل برومپٹن ہسپتال کی تازہ ترین میڈیکل رپورٹ کے مطابق نواز شریف کو دل کاشدید عارضہ لاحق ہے ہسپتال نے3رپورٹیں جاری کی ہیں3صفحات پر مشتمل روبی ڈیم کارڈیک پیٹ سی ٹی اسکین ،16 صفحات کی ہولٹر اینالائسز اور 3 صفحات کی ایکو کارڈیوگرام شامل ہیں، اس کے علاوہ ڈاکٹر ڈیوڈ لارنس نے رائل برومپٹن ،گیز اورسینٹ تھومس ہسپتالوں کی رپورٹوں کی بنیاد پر ایک میڈیکل سمری بھی جاری کی ہے ،رائل برومپٹن کی رپورٹوں میں کہاگیاہے کہ نواز شریف کو دل کو خون فراہم کرنے والی شریانوں میں بعض مقامات پر خرابی ہے اور دل کی کارکردگی میں خرابی کاعنصر معلوم ہوتاہے، رپورٹ میں کہاگیاہے کہ سابق وزیر اعظم کو دل کے دوبارہ حملے کاخدشہ ہے۔ رائل برومپٹن اور ڈاکٹر ڈیوڈ لارنس نے دل میں فوری مداخلت کی سفارش کی ہے جو کہ نواز شریف کی صحت اورزندگی کیلئے بہت اہم ہے ،رپورٹ میں مزید کہاگیا ہے کہ نواز شریف ہیماٹولوجسٹس کی جانب سے کلیئرنس کے بغیر انویسو پراسیجر شروع نہیں کیاجاسکتا کیونکہ نواز شریف کے پلیٹ لیٹس بھی مستحکم نہیں

ہیں اور اس میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ڈاکٹرڈیوڈ لارنس نے سمری میں لکھاہے کہ دل کو خاص طورپر سرکمفلیکس حصے کوخون کی فراہمی میں رکاوٹ کاتاثر ملتا ہے ۔ میں سفارش کرتاہوں کہ نواز شریف کا جلد از جلد کورونری انجیوگرافی کرائی جائے کیونکہ ان کے دل کے بڑے حصے کو خطرات لاحق ہیں،ایسا نہ کرنے کی صورت میں ان کے مایو کارڈیم ،ان کی دل کی صحت اور ان کی زندگی کوخطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔گیز اورسینٹ تھومس کے ہیماٹولوجی کے ماہرین ان کی لمپھ نوڈ بایوپسی سمیت آپریش کیلئے ان کے غیر مستحکم پلیٹ لیٹس کامستحکم ہونا ضروری ہے یہ اہم کیروٹڈ آرٹری مرض اس معاملے کو اور زیادہ پیچیدہ بنا رہاہے اور آپریشن سے قبل میڈیکل تھیراپی کے ذریعے اسے کنٹرول کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ادھر نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان خان نے ایون فیلڈ ہائوس کے باہر پاکستانی میڈیا سے باتیں کرتے ہوئےپی ٹی آئی حکومت کے عہدیداروں پر جوابی وار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو جن میڈیکل رپورٹس اور انویسٹی گیشنز کی ضرورت تھی وہ منگل کی صبح پنجاب کی وزیر صحت پروفیسر یاسمین راشد اور دوسرے سرکاری حکام کو بھیج دی گئی ہیں ،یہ 13 جنوری کو جاری کی جانے والی نواز شریف کی تازہ ترین میڈیکل سمری تھی یہ بات حیرت انگیز ہے کہ وزرا رپورٹ وصول ہونے سے انکار کررہے ہیں۔یہ رپورٹیں صبح سویرے جمع کرائی گئی ہیں اور سرکاری حکام نے رپورٹس وصول کرنے کی تصدیق کی ہے۔ ڈاکٹر عدنان نے کہا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد نے مجھے فون کرکے تازہ میڈیکل رپورٹ مانگی تھی جو فراہم کردی گئی ہے۔ ڈاکٹر عدنان خان نے کہا کہ نواز شریف کو دن میں کم از کم دومرتبہ تھوڑی سے چہل قدمی کی سفارش کی گئی ہے وہ اپنی فیملی کے اصرار پر میڈیکل ایڈوائس کے مطابق باہر گئے تھے لیکن افسوس ہے کہ اس مسئلے کو سیاسی بنادیا گیا،ڈاکٹر عدنان نے وضاحت کی کہ نواز شریف کی مرض کی صورت حال کی برطانیہ میں ڈاکٹروں نے بھی تصدیق کردی ہے جس کی تشخیص پی ٹی آئی کی حکومت کے مقرر کردہ ڈاکٹروں نے کی تھی اور انھیں بیرون ملک علاج کی سفارش کی تھی،انھوں نے کہا کہ نواز شریف کے صحت کے مسائل پوری طرح ڈاکومنٹیڈ ہیں اور ان کے شواہد موجود ہیں پنجاب حکومت کے خصوصی میڈیکل بورڈ نے بیرون ملک نواز شریف کے علاج کی سفارش کی تھی اور کابینہ کی ذیلی کمیٹی پنجاب میڈیکل بورڈ کی رائے سے اتفاق کیاتھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف شدید بیمار ہیں اور انھیں علاج کی ضرورت ہے لیکن اسے بہت زیادہ سیاسی رنگ دے دیاگیاہے نواز شریف کی بیماری پیچیدہ نوعیت کی ہے اوران کی ملٹی ڈائمنشیل اپروچ کی ضرورت ہے بدقسمتی سے اس صورت حال میں ان کی صحتیابی کے بارے میں کوئی ٹائم فریم نہیں دیاجاسکتا ۔

یورپ سے سے مزید