آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات27 ؍جمادی الاوّل 1441ھ 23؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

حال ہی میں یوکرین کے مسافر بردار طیّارے کی ایران میں تباہی کا جو افسوس ناک واقعہ پیش آیا پہلے اس بارے میں ابہامات کا اظہار کیا جارہا تھا،لیکن بعد ازاں ایران کی جانب سے یہ تسلیم کرلیا گیا کہ مذکورہ طیّارہ انسانی غلطی کی وجہ سے اس کے میزائل کا نشانہ بنا تھا۔یہ سانحہ ہمیں پھر یاد دہانی کراتا ہے کہ کشیدگی اور جنگیں تباہی کے علاوہ کچھ نہیں لاتی ہیں،لہذا ان کی کوکھ سے غم اور الم ہی جنم لیتے ہیں اور انسانی روحیں گھائل ہوتی ہیں۔

ایران کی مسلح افواج نے یوکرین کے مسافر طیارے کو پیش آنے والے حادثےپر ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا تھاکہ امریکی صدر اور فوجی حکام کی جانب سے ایران کے بعض مقامات پر حملے کرنے سے متعلق دی جانے والی دھمکیوں اور علاقے میں فضائی اقدامات بڑھ جانے کے پیش نظر ایران کی مسلح افواج ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے ہائی الرٹ ہو گئی تھیں۔ 

عراق میں امریکا کے فوجی اڈوں پر میزائل سے حملوں کے بعد اس کے جنگی طیاروں کی نقل و حرکت بڑھ گئی اور ریڈار میں اس کے اہداف کا مشاہدہ کیا گیا جس کی وجہ سے ایئر ڈیفنس فورس کی حساسیت بڑھ گئی۔اس قسم کی بحرانی صورت حال میں یوکرین کے بوئنگ 752 طیّارے نے امام خمینی انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے اڑان بھری اور وہ سپاہِ پاس دارانِ انقلابِ اسلامی کے حساس مرکز سے نزدیک ہوا اور دشمن کے طیارے کی شکل اختیار کر گیا جس کے بعد ایک انسانی غلطی سے یوکرین کا مسافر بردار طیّارہ نشانہ بنا اور وہ تباہ ہوا۔

یہ بدقسمت طیّارہ بدھ آٹھ جنوری کوتہران کے امام خمینی انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے ٹیک آف کرنےکے کچھ دیر بعد تہران کے قریب گر کر تباہ ہو ا تھا، جس میں سوار تمام 176 افراد جاں بہ حق ہو گئے تھے۔ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ عسکری حکام نے طیارے کو میزائل سمجھ کر نشانہ بنایا۔طیارے میں درجنوں ایرانی اور کینیڈین شہریوں کے علاوہ یوکرین، برطانیہ، افغانستان اور سویڈن کے شہری بھی سوار تھے۔

اس سانحے کے خلاف ایران کے اندر اور باہر کافی احتجاج کیاگیا اور ایرانی حکام پردباو ڈالا گیا۔ ایران نے پہلے اس ضمن میں باتیں چھپانے کی کوشش کی، لیکن پھر بہت سے مطالبات مان گیا۔ اس نے یوکرین کے حکام کو بلیک باکس تک رسائی دینے پر آمادگی ظاہر کردی ہے، تحقیقات کے عمل میں غیر ملکی ماہرین کی شمولیت پر راضی ہوگیا ہے اور متعلقہ ذمے داروں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

فیصلہ کرنے کے لیے دس سیکنڈز

پاس داران انقلاب کے فضائی کمانڈر بریگیڈیئر عامر علی حاجی زادہ کے مسافر بردار طیارے کو غلطی سے ’’کروز میزائل‘‘ سمجھا گیا، کیوں کہ ایسی اطلاعات موجود تھیں کہ ایران پر حملہ کیا جا رہا ہے۔اس طیارے کے اڑنے کا انداز اور بلندی ایک دشمن ہدف جیسی تھی۔ یوکرینی طیارے کو غلطی سے خطرناک ہدف سمجھ کر میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس فیصلہ کرنے کے لیے صرف دس سیکنڈز تھے۔ ہمیں فیصلہ کرنا تھا کہ جوابی کارروائی کرنی ہے یا نہیں۔ ان حالات میں ہم نے غلط فیصلہ کیا۔ان کے مطابق مواصلاتی نظام میں خامی کے باعث وہ اس طیارے کی شناخت نہ کر سکے اور آئندہ فوجی نظام میں بہتری سے ایسی غلطیاں دوبارہ نہیں ہوں گی۔

تحقیقات کے لیے عالمی قوانین

ہوائی بازی سے متعلق عالمی قوانین کے مطابق ایران تحقیقات سے متعلق سرگرمیوں کی سربراہی کرنے کا حق رکھتا ہے، لیکن اس میں طیارہ بنانے والی کمپنی بھی شامل ہوتی ہے اور ماہرین کاکہنا ہے کہ بعض ممالک کے ماہرین بلیک باکس کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ ایران کی جانب سے کہا گیا ہے کہ یوکرینی طیارے کے فلائیٹ ریکارڈر کے میموری یونٹ اور کاک پٹ وائس ریکارڈر بہ ظاہر صحیح سلامت ہیں۔حکام کے مطابق بلیک باکس کے تجزیے کا عمل تہران کے مہرآباد ہوائی اڈے پر شروع ہو گا اوراگر ایرانی ماہرین میموری یونٹس سے ڈیٹا حاصل کرنے میں ناکام رہے تو ان کا ملک کینیڈا، روس، فرانس یا یوکرین سے مدد لے سکتا ہے۔

حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ بوئنگ 800-737 تھا جوشہری ہوا بازی کی عالمی صنعت میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا بوئنگ کاماڈل ہے۔چوں کہ یہ طیارہ امریکا میں بنا تھا اس لیے این ٹی ایس بی کے اہل کار بھی عموماً تفتیش میں شامل ہوتے ہیں، مگر امریکا اور ایران میں موجودہ کشیدگی کے باعث اب ایسا ہونا شاید ممکن نہ ہو پائے۔تاہم طیارہ ساز کمپنی بوئنگ نے کہا ہے کہ وہ تفتیش میں تعاون کے لیے تیار ہے۔ 

خیال رہے کہ ایران نے طیارے کا بلیک باکس طیارہ بنانے والی بوئنگ کمپنی یا امریکا کو دینے سے انکار کر دیا ہے، تاہم ایران کے وزیر خارجہ نے بوئنگ کمپنی کو سرکاری تحقیقات میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔ابتدا میں ایران نے اس حوالے سے امریکی حکام کو کوئی بھی معلومات فراہم کرنے کی تردید کی تھی۔ بعدازاں ایران کے اقوام متحدہ کی بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن میں نمائندے نے روئٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا تھا کہ ایران نے این ٹی ایس بی کو تفتیش میں حصہ لینے کی دعوت دی ہے۔

ایک جادوئی صندوق

کسی بھی طیّارے کا بلیک باکس یا فلائیٹ ڈیٹا ریکارڈراتنا محفوظ بناجاتا ہے کہ بہت خطرناک حادثے کے بعد بھی وہ عموما اس قابل رہتا ہے کہ اس سے ڈیٹا حاصل کرکے حادثے کی وجوہا ت کا پتا لگایا جاسکے۔اس لیے اسے جادوئی صندوق بھی کہا جاسکتا ہے۔مذکورہ جہاز کے 'بلیک باکس بھی ملبے میں سے مل چکے ہیں۔ 

بلیک باکس میں طیارے کے کاک پٹ میں ہونے والی گفتگو ریکارڈ ہوتی ہے۔اسے کاک پٹ کی آڈیو دو گھنٹے تک ریکارڈ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا جاتاہے اور اس سے اہم سراغ مل سکتے ہیں ،کیوں کہ اس میں ریکارڈ ہوا ہو گا کہ میزائل لگنے کے وقت پرواز کا عملہ کیا کہہ رہا تھا۔اگر بم یا میزائل طیارے کو تباہ کرتا ہے تو بلیک باکس اسے ایک حد تک ظاہر کر سکتے ہیں۔ ایسے میں وہ کام کرنا بند کر دیتے ہیں البتہ صوتی ریکارڈر اس وقت سے پہلے کی آواز ریکارڈ کر سکتا ہے۔

یہ باکس کسی بھی طیارے کے حادثے کے بعد انتہائی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ اس میں دوران پرواز اہم تیکنیکی معلومات اور کاک پیٹ میں ہونے والی گفتگو کا ریکارڈ موجود ہوتا ہے جوحادثے کی صورت میں تفتیش کے دوران معاون ثابت ہوتا ہے۔اس میں ریکارڈ یڈ آوازوں سے معلوم ہو جاتا ہے کہ حادثے کے وقت طیارے کے عملے نے آپس میں یا کنٹرول ٹاور سے کیا گفتگو کی تھی۔

ہوابازی کے شعبے کے محقق دان ڈیوڈ وارن نے 1953 میں پہلے کمرشل جیٹ طیارے کے گر کر تباہ ہونے کی تفتیش کے دوران ایک ایسے آلے کی ضرورت محسوس کی جس سے حادثے کی وجوہات کےتعین میں مدد مل سکے۔ ان کا خیال تھا کہ اگر طیارے میں ایک ایسا آلہ موجود ہو جو دوران پرواز اہم معلومات اور کاک پٹ میں ہونے والی گفتگو ریکارڈ کر رہا ہو تو حادثے کی صورت میں تفتیش میں مدد مل سکتی ہے۔ 

وارن نے 1956میں بلیک باکس کا پہلا نمونہ تیار کیا جو چار گھنٹے کی ریکارڈنگ کر سکتا تھا۔ابتدا میں ان کی ایجاد کو پزیرائی نہ مل سکی، لیکن دس سال بعد آسٹریلیا نے ان کے آلے کو مسافربردار طیاروں کے لیے لازمی قراردے دیا جس کے بعد یہ باکس دنیا بھر کے مسافربردار طیاروں میں نصب کیے جا نے لگے۔دل چسپ بات یہ ہے کہ جس آلے کوبلیک باکس کا نام دیا گیا ہے اس کا رنگ عموماً نارنجی یا لال ہوتا ہے۔

یہ باکس تین تہوں پر مشتمل ہوتاہے۔ بیرونی تہہ مضبوط اسٹیل یا ٹائی ٹینیم نامی دھات کی بنی ہوتی ہے۔ دوسری تہہ ایک انسولیشن والےخانے کی صورت میں ہوتی ہے۔ تیسری تہہ باکس کو شدید آگ اور حرارت سے محفوظ رکھنے میں کام آتی ہے۔یہ تینوں تہیں فلائٹ ڈیٹا ریکارڈ اور کاک پٹ وائس ریکارڈر کو تباہ ہونے سے بچا لیتی ہیں۔بلیک باکس کے کریش سروائی ول میموری یونٹس کے حفاظتی انتظامات کو آزمانے کےلیے اسے مختلف آزمائشوں سے گزارا جاتا ہے۔

مثلاً اسے 1100 ڈگری سیلسیسں درجہ حرارت والی آگ میں ایک گھنٹے تک رکھنےکے علاوہ 30یوم کےلیے سمندر کے نمکین پانی میں 4270 میٹر کی گہرائی تک رکھ کر یہ دیکھا جاتا ہے کہ اتنی گہرائی میں اس سے نکلنے والے سگنل سطح تک پہنچتے ہیں یا نہیں۔ بلیک باکس کو محفوظ رکھنے کےلیے اسے طیارے کے پچھلے حصے میں نصب کیا جاتا ہے ،کیوں کہ حادثے کی صورت میں طیارے کے سامنے کا حصہ زمین یا پانی سے پہلے ٹکراتا ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ بلیک باکس سے ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کرنے میں دو ماہ تک کا وقت لگ سکتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ بعض حادثوں کی تحقیقات میں برسوں لگ سکتے ہیں۔مثلا 2010 میں بیروت سے ایتھوپیا جانے والے طیارے کے حادثے کی تحقیقات میں دو برس لگے تھے، حالاں کہ اس جہاز کے بلیک باکس فرانس بھیجے گئے تھے جہاں دنیا کے چند اعلیٰ تفتیش کار موجود ہیں۔

اعصاب کا کھیل

جنگ کے میدان میں بر سر پیکار افراد شدید اعصابی تناو کا شکار ہوتے ہیں۔اعصابی تناو آدمی کے اندر ڈر اور خوف مسلط کر دیتا ہے۔ایسے میں ان سے کوئی غلطی سر زد ہوجانے کے بہت زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔

میزائل آپریٹرز کے لیے استعمال ہونے والے ریڈار سسٹمز تمام مسافر بردار ہوائی جہازوں سے شناختی سگنل لینے کے لیے تیارکیے جاتے ہیں۔رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے ریسرچ فیلو جسٹن برونک کے مطابق مذکورہ جہاز ،یعنی فلائٹ PS752 اپنے مسافر بردار جہاز ہونے کی شناخت کی رجسٹریشن، مقام اور اونچائی کو ظاہر کرنے والے ٹرانسپونڈر کوڈ کو منتقل کر رہی تھی اور میزائل ریڈار آپریٹر کو یہ معلومات دیکھنے کے قابل ہونا چاہیے تھا۔

لیکن اعصاب اور نفسیات کے ماہرین کے مطابق اعصابی دباو اور تناو کی کیفیت میں انسان اپنی بہت سی فطری صلاحیتیں وقتی طورپر کھوبیٹھتا ہے یا ان کا معمول کے مطابق استعمال نہیں کرپاتا ہے۔ان کے مطابق ہر ایک کے لیے تناؤ مختلف ہوسکتا ہے، ہوسکتا ہے کہ جو چیز آپ کو تناؤ کا شکار کرے وہ آپ کے دوست کے لیے کچھ بھی نہ ہو۔

مگر ہم سب کے جسم ایک ہی طرح سےتناؤ پر ردعمل ظاہر کرتے ہیں، کیوں کہ تناؤ پر ردعمل آپ کے جسم کا سخت یا مشکل صورت حال سے نمٹنے کا طریقہ ہوتا ہے۔اس سے ہارمونز، نظام تنفس، خون کی شریانوں اور اعصابی نظام میں تبدیلیاں آسکتی ہیں۔ مثال کے طور پر تناؤ کے نتیجے میں دل کی دھڑکن تیز ہوسکتی ہے، سانس پھولنے اورپسینہ بہنے لگتا ہے، مگر اس کے ساتھ یہ جسمانی توانائی کی ایک لہر بھی فراہم کرتا ہے۔اسے جسم کا فائٹ یا فلائٹ ردعمل کہا جاتا ہے اور اس کیمیائی ردعمل کے ذریعے جسم جسمانی ردعمل کے لیے تیار ہوتا ہے، کیوں کہ اسے لگتا ہے کہ وہ حملے کی زد میں ہے۔

حادثے اور سبق

حادثے انسانی زندگی کا لازمہ ہیں۔ فطرت نے شاید اس کا انتظام اس لیے کیا ہے کہ انسان ان سے سبق حاصل کرے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ ہم بڑے سے بڑے حادثے سے کچھ نہیں سیکھتے۔ تہران کےواقعے نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ اس ضمن میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ محفوظ شہری ہوا بازی کے لیے عالمی اور ملکی معیارات کیا ہیں اور اس ضمن میں آپریٹرز، سول ایوی ایشن اتھارٹی، جہاز کے کپتان، ایئرکرافٹ انجینئرز، فرسٹ آفیسر اور ایئرٹریفک کنٹرولرز کا کیا کردار ہوتا ہے؟

شہری ہوابازی کے ماہرین کے مطابق کپتان کا صرف تجربہ ہی نہیں بلکہ محفوظ شہری ہوا بازی کے لیے اس کی صحت، آرام اور دماغی حالت پر بھی توجہ دینا بہت ضروری ہوتا ہے۔ یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ ٹیک آف کرنے سے قبل ہر تجارتی طیارہ ہر لحاظ سے ایئروردی ہے یا نہیں، اس کا کپتان اسے اڑانے کے لیے تمام ضروری معیار پر پورا اترتا ہے یا نہیں اور ایئرٹریفک کنٹرول اور نیوی گیشن کی سہولیات ملکی اور عالمی معیارات پر پوری اترتی ہیں یا نہیں۔

ایئر ٹریفک کنٹرولرز

تہران کے سانحے میں ایئر ٹریفک کنٹرولرزکا کردار بھی یقینازیر بحث آئے گا۔ماہرین کے مطابق مستعد اور ہوشیار ایئر ٹریفک کنٹرولرز کسی بھی سویلین طیارے کو ایسے حالات میں وار زون میں داخل ہونے سے روکتے ہیں اور اگر وہ اس زون میں کسی وجہ سے داخل ہوجاتے ہیں تو ان کی حفاظت کےلیے عسکری حکام سے بھی رابطے میں رہتے ہیں۔

محفوظ شہری ہوابازی میں ایئر ٹریفک کنٹرولرز کا بھی بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ بعض ممالک میں اس کی تربیت نجی طور پر حاصل نہیں کی جاسکتی ،کیوں کہ اس کے لیے آن جاب ٹریننگ ضروری ہوتی ہے۔ ایئرٹریفک کنٹرولر بننے کے خواہش مندوں کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ سائنس گریجویٹ یا ماسٹر ہوں۔ ایئرٹریفک کنٹرولر بننے کے لیے کسی امیدوارکے انتخاب کے بعداسے مخصوص تربیتی مرکز میں کئی ماہ کا کورس کام یابی سے مکمل کرنے کے بعد ایئر ٹریفک کنٹرولر کی حیثیت سے ملازمت دی جاتی ہے اور اسے مقامی حالات کی کلاس میں تعلیم دی جاتی ہے۔ 

پھر ٹاوریا ایریا کنٹرول میں کسی انسٹرکٹر کے ساتھ اسے تعینات کیا جاتا ہے۔ یہ تربیت چار تا چھ ماہ جاری رہتی ہے اور اس کی کارکردگی کے بارے میں مسلسل رپورٹ بنائی جاتی ہے۔ پھر وہ بورڈ کے سامنے پیش ہوتا ہے اور وہاں سے کلیئرنس حاصل کرنے کے بعد پھر ایک دو برس تک سینئر کے ساتھ کام کرتا ہے۔ نئے آدمی کو ایک مقام پر چار پانچ برس گزارنے ہوتے ہیں۔ اس دوران اسے ایریا نان ریڈار یونٹ اور ٹاور یونٹ میں خدمات انجام دینا ہوتی ہیں۔ 

پھر اسے کسی دوسرے یونٹ میں اتنا ہی عرصہ گزارنا ہوتا ہے۔ ایئر ٹریفک کنٹرول کے ٹاور، ایریا نان ریڈار، ایریا ریڈار، اپروچ نان ریڈار، اور اپروچ رڈار یونٹ ہوتے ہیں۔ ان تمام یونٹس میں تربیت پانے میں 13 تا 16 برس لگ جاتے ہیں۔ رڈار یونٹ کی ٹریننگ کے لیے ترقی پذیر ممالک انہیں فرانس، سوئیڈن، انگلینڈ، اسپین، کوریا یا ملائیشیا بھی بھیجتے ہیں۔

ایئرٹریفک کنٹرولر شفٹ میں کام کرتے ہیں۔ہر شفٹ میں ایسے کئی ماہر اہل کار ہوتے ہیں جو تمام یونٹس کی مہارت رکھتے ہیں۔ان لوگوں کے لیے آرام بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے، کیوں کہ ان کی آنکھیں ڈیوٹی کے دوران تمام وقت اسکرین پر اور کان جہازوں کے پائلٹس کی آوازوں پر لگے ہوتے ہیں اور زبان سے وہ ہدایات دے رہے ہوتے ہیں۔ انہیں پائلٹس کی آنکھیں اور کان کہا جاتا ہے۔ 

ایوی ایشن کے حادثات میں پائلٹ اور ایئر ٹریفک کنٹرولرز کی اہلیت اور استعداد کا بھی بہت دخل ہوتا ہے۔ لیکن ان دونوں کے لیے خراب موسم کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا، کیوں کہ روس میں بہت برف باری ہوتی ہے اور امریکا میں بہت دھند ہوتی ہے۔ کنٹرولرز ہر لمحے جہاز کے کپتان کے ساتھ ہوتے ہیں۔ جہاز میں ویدر رڈار نصب ہوتا ہے، لیکن کنٹرولر کے پاس نہیں ہوتا۔ لہٰذا اگر کسی بادل یا طوفان میں بجلی (چارج) ہو تو کنٹرولر کو اس کی ہلکی سی بھنک پڑتی ہے۔ وہ طوفان یا بادل کی بلندی نہیں معلوم کرپاتا، لیکن پائلٹ کو معلوم ہوجاتی ہے۔ 

کنٹرولر کے لیے یہ لازم نہیں ہے کہ وہ موسم کے بارے میں پائلٹ کو اطلاع دے، لیکن وہ اخلاقاً دیتا ہے۔ کنٹرولر کی بنیادی ذمے داری اپنی حدود میں اڑنے والے جہازوں کو باہم تصادم سے بچانا ہے۔ اگر کنٹرولر کی کسی حادثے میں غلطی یا کوتاہی ثابت ہوجائے تو اسے سزائے موت تک دی جاسکتی ہے۔ کوئی پائلٹ کسی ایئرٹریفک کنٹرولر کی ہدایات کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا اور اگر ایسا ہو تو کنٹرولر اپنے اختیارات استعمال کرکے کپتان کو ہدایات پر عمل کرنے پر مجبور کرسکتا ہے۔

یہ کام نوجوانی سے سیکھا جاتا ہے، ریٹائرڈ یا زیادہ عمر والوں کے لیے یہ کام سیکھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ایئر ٹریفک کنٹرولرزکو د نیا بھر میں جہاز کے کپتان سے کہیں زیادہ معاوضہ ملتا ہے ،کیوں کہ ایک کپتان کے ہاتھ میں سیکڑوں جانیں ہوتی ہیں اور ایک کنٹرولر کے ہاتھ میں درجنوں کپتانوں کی جانیں ہوتی ہیں۔ یورپ کے بعض ممالک میں ان کی تنخواہیں ان کے وزرائے اعظم سے زیادہ ہیں۔ اسپین، انگلینڈ اور ملائیشیا اس کی عام مثال ہیں۔دنیا بھر میں ایئرٹریفک کنٹرولر کے یہ سخت ضابطہ موجود ہے کہ وہ بہ یک وقت دو گھنٹے سے زائد فرائض انجام نہیں دے سکتا۔ 

اتنے وقفے کے بعد اسے دو گھنٹے تک آرام کرایا جاتا ہے جس کے لیے کام کے مقام سے دُور اُن کے لیے علیٰحدہ ماحول میں تفریحی سہولتیں ہوتی ہیں، جہاں دو گھنٹے گزارنے کے بعد وہ پھر فرائض انجام دینا شروع کرتے ہیں۔ اس طرح وہ آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی میں صرف چار گھنٹے کام کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔ لیکن بہت سے ممالک میں اس ضابطے کی کھلی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ دنیا بھر میںان کے ہر عمل کی آڈیو وڈیو ریکارڈنگ ہوتی ہے ،حتیٰ کہ ان کی نجی ٹیلی فون کالز تک ۔ یہ ریکارڈنگ تین ماہ تک محفوظ رکھی جاتی ہے۔

دنیا بھر میں انہیں ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونی کیشن یا وزارت سیاحت کے ماتحت رکھا جاتا ہے۔

دنیا بھر میں مسافر بردار طیاروں کے جتنے بھی حادثات ہوتے ہیں، ان کے بارے میں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ان میں سے 90 فی صد انسانی غلطیوں اور 10 فی صد خراب موسم کی وجہ سے ہوتے ہیں۔گراؤنڈ لیول پر بھی انسانوں سے غلطیاں ہوسکتی ہیں۔ ایک اسکریو یا نٹ نہ لگنے کی وجہ سے پورا طیارہ تباہ ہوسکتا ہے۔ کسی طیارے کے محض پرانا ہونے کو حادثے کی واحد وجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

امریکا بھی ایسی بھیانک غلطی کرچکا ہے

کسی مسافر بردار طیارےکے کسی میزائل کے حملے سے تباہ ہونے کا واقعہ پہلی بار نہیں ہوا ہے۔

٭…2014 میں روسی ساختہ میزائل نے یوکرین کی فضائی حدود میں ملائیشین مسافر بردار طیارے کو نشانہ بنایا تھا جس میں 298 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

٭…1988 میں ایک امریکی بحری جنگی جہاز یو ایس ایس ونسنز نے ایرانی طیارے کو غلطی سے نشانہ بنا دیا تھا جس میں 290 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

٭…1983 میں ایک سوویت لڑاکا طیارے نے کوریا کے مسافربردار طیارے کو سوویت فضائی حدود میں بھٹکنے کے بعد گرا دیا تھا۔ اس حادثے میں طیارے پر سوار تمام 269 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

بھارت اور پاکستان ایسے سانحے کے قریب سے گزرے ہیں

یہ گزشتہ برس ستمبر کے مہینے کی بات ہےجب پاکستانی ایف 16 طیارے نےایک بھارتی مسافر بردار طیارے کو گھیرلیا تھا۔اس طیارے کو دراصل ملٹری کوڈ دیا گیا تھا جس کی وجہ سے پاک فضائیہ نے اسے لڑاکا طیارہ سمجھ کر فوری کارروائی کی، لیکن سمجھ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بڑا سانحہ ہونے سے بچالیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق اسپائس جیٹ کا بوئنگ 737طیارہ دہلی سے کابل جارہا تھا۔

جب وہ پاکستانی حدود میں داخل ہوا تو ایف 16 طیارے نے اسے گھیر لیا اور اس سے شناخت پوچھی اور معلومات حاصل کرنے کے بعد چھوڑ دیا۔بعد میں اس معاملے میں بھارت کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن کے ایک افسر کی لاپروائی سامنے آئی۔ ڈی جی سی اے کاکہنا تھا کہ ایک افسر نے کمرشل طیارے کو ملٹری ٹرانسپونڈر کوڈ دے دیا تھا جس کی وجہ سے پاکستان کو راڈار سے اطلاع ملی اور اس نے فوری کارروائی کی ۔

ڈی جی سی اے کے افسر نے اسپائس جیٹ کے مسافر بردار طیارے کو این 32کوڈ دے دیا تھا جو بھارتی فوج کا مخصوص کوڈ ہے۔طیارے میں 120 مسافر سوار تھے۔ اس سے پہلے کہ اس طیارے کو پاکستان کی حدود میں اڑادیا جاتا پاک فضائیہ کے پائلٹ نے عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذکورہ طیارے سے معلومات حاصل کیں اور اس کے مسافر بردار طیارہ ہونے کا یقین کرنے کے بعد اسے چھوڑ دیا۔ پاکستانی پائلٹ کی اس سمجھ داری پر بھارتی حکام نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور فرائض میں غفلت برتنے والے ڈی جی سی اے افسر کو معطل کردیا تھا۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید