آپ آف لائن ہیں
جمعرات6؍ صفر المظفّر 1442ھ24؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

رانا ثناء کا نام ECL پر، ضمانت بھی چیلنج، فیصلے حلف پر ہونے ہیں تو عدالتیں بند کردیں، ڈی جی اے این ایف میجر جنرل عارف ملک

رانا ثناء کا نام ECL پر، ضمانت بھی چیلنج


اسلام آباد(نمائندہ جنگ،ایجنسیاں/اے پی پی)رانا ثناء کا نام ECL پر، ضمانت بھی چیلنج،قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نارکوٹکس کنٹرول کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ڈی جی اے این ایف میجر جنرل عارف ملک نے کہا کہ فیصلے حلف پر ہونے ہیں تو عدالتیں بند کردیں.

کوئی بھی ملزم جرم تسلیم نہیں کرتا ،سر عام قتل کر نیوالے بھی خود کو بے گناہ کہتے ہیں،بے گناہی کے فیصلے عدالتیں کرتی ہیں،قائمہ کمیٹی کی 20گرام منشیات کا جرمانہ بڑھا کر50 ہزارکرنیکی سفارش کردی۔

سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی ہے ملزم ہیروئن برآمدگی کا الزام ٹرائل کورٹ میں غلط ثابت نہیں کرسکا،ضمانت منظورکرتے وقت عدالت عالیہ نے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا۔

ضمانت میڈیا پر چلنے والی خبروں اور دبائو میں آکر دی گئی،تفصیلات کے مطابق انسداد منشیات فورس (اے این ایف) نے مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللّٰہ کی منشیات برآمدگی کیس میں لاہورہائیکورٹ سے منظور ضمانت کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی ہے۔

جس میں بیان کیا گیا ہے کہ ہائیکورٹ کا فیصلہ حقائق کے برعکس ہے اس لئے اسے کالعدم قرار دیا جائے۔اپیل کنندہ اے این ایف کی جانب سے بدھ کو دائر کی گئی اپیل میں موقف اختیار کیا گیاہے کہ مقدمہ کی سماعت کے دوران ہائیکورٹ کی جانب سے حقائق کا درست طریقے سے جائزہ نہیں لیا گیا ہے۔ملزم کودوبارہ اے این ایف کی تحویل میں دیا جائے۔

ادھرمسلم لیگ (ن) کے رہنما رکن قومی اسمبلی رانا ثناء اللّٰہ کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا ہے۔سرکولیشن سمری کے ذریعہ رانا ثناء اللّٰہ کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ کیاگیا۔اپیل میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ نے ملزم کو ریلیف دیتے وقت حقائق کا جائزہ نہیں لیاہے۔

ملزم سے بھاری مقدار میں ہیروئن برآمد ہوئی ہےجسے وہ ٹرائل کورٹ میں غلط ثابت نہیں کرسکا اوراس کی درخواست خارج کردی گئی تھی اس کے خلاف اپیل میں ہائیکورٹ نے ملزم کی ضمانت منظور کرلی ہے لیکن اس میں فوجداری نظام انصاف کے تقاضوں کونہ ہی سپریم کورٹ کے فیصلوں کو مدنظر رکھا گیاجن میں کہا گیا ہے کہ منشیات کے مقدمات میں مزید انکوائری کا اصول لاگو نہیں ہوسکتا۔

اپیل کنندہ کے مطابق ہائی کورٹ نے ملزم کی ضمانت دیتے ہوئے قرار دیاہے کہ پراسیکیوشن نے 15کلو ہیروئن میں سے صرف 20گرام لیبارٹری میں بھجوائی ہےجس سے کیس مشکوک ہوگیا ہےحالانکہ سپریم کورٹ نے امیر زیب کیس میں قراردیا تھا کہ برآمد شدہ منشیات کا صرف ایک سیمپل ہی لیبارٹری بھجوانا کافی ہے اس لیے عدالت عالیہ کا فیصلہ غیرقانونی اور حقائق کے برعکس ہے۔

اپیل میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ہائی کورٹ کے فاضل بنچ نے ملزم کی ضمانت منظور کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ پراسیکیوشن ملزم سے برآمد منشیات کی موقع پر موجودگی ثابت نہیں کرسکی ہے حالانکہ تمام ثبوت ٹرائل کورٹ کو دئیے گئے ہیں۔اپیل میں کہا گیا ہے کہ ہائیکورٹ نے ملزم کی ضمانت میڈیا پر چلنے والی خبروں اور دبائو میں آکر دی ہے اس لئے اس فیصلے کو اگر کالعدم قرار نہ دیا گیا تو اس سے نظام انصاف کو شدید نقصان ہوگا۔

دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نارکوٹکس کنٹرول کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انسداد منشیات فورس کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عارف ملک نے کہا کہ منشیات اسمگلنگ مقدمات کا فیصلہ اگر قرآن پر حلف اٹھانے سے کرنا ہےتو پھر عدالتوں کو تالے لگا دیں۔

کوئی بھی ملزم اپناجرم تسلیم نہیں کرتا،سر عام قتل کرنیوالے بھی خود کو بے گناہ کہتے ہیں،بے گناہی کے فیصلے عدالتیں کرتی ہیں۔قبل ازیں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نارکوٹکس کنٹرول نے بیس گرام منشیات کا جرمانہ 20 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کرنیکی سفارش کردی۔کمیٹی کا اجلاس چیئرمین صلاح الدین ایوبی کی زیر صدارت ہواجس میں اراکین کمیٹی اور اے این ایف حکام نے شر کت کی۔

ڈی جی اے این ایف میجر جنرل عارف ملک نے اس سوال پر کہ رانا ثناء اللّٰہ نے قومی اسمبلی اجلاس میں قرآن اٹھا کراپنی بے گناہی کا ثبوت دیا ہے،وہ الزام لگاتے ہیں کہ منشیات اے این ایف نے ڈالی ہے۔

وزیر مملکت شہریار آفریدی بھی قرآن پاک کے حلف پر الزام کو سچ قرار دیتے ہیں،کیا آپ بھی اپنی بے گناہی کیلئے حلف اٹھائینگے توانہوں نے کہا اگر دونوں فریق قرآن پر حلف اٹھا لیں تولاٹری نکال کر بےگناہ اور گنہکار کا فیصلہ کرلیں۔ قبل ازیں چیئرمین قائمہ کمیٹی صلاح الدین ایوبی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ مقدمات کیلئے استغاثہ کو گواہ پیش کرنے ہیں جبکہ ملزم کو اپنی صفائی پیش کرنی ہے۔

رانا ثناءاللّٰہ نےقرآن کو درمیان میں لاکر اچھاکام نہیں کیا۔شہریار آفریدی کوبھی وزیراعظم کی طرف سے حلف اٹھانے کی ضرورت نہیں تھی۔قائمہ کمیٹی انسداد منشیات نے تعلیمی اداروں میں داخلے کے وقت امیدواروں کا منشیات ٹیسٹ ضروری قرار دینے کیلئے قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اہم خبریں سے مزید