آپ آف لائن ہیں
جمعہ9؍ شعبان المعظم1441ھ 3؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کون کہتا ہے کہ نظریۂ ضرورت کا بانی جسٹس محمد منیر مر چکا؟

کون کہتا ہے آئین شکن پاکستان سے چلا گیا؟

پاکستانی قوم نے پہلے بھی آمروں کے خلاف جدوجہد کی اور آئندہ بھی یہ جدوجہد جاری رہے گی لیکن کیا جمہوریت کی دعویدار سیاسی جماعتیں اس جدوجہد میں شامل ہو پائیں گی؟

یہ تھے وہ سوالات جو 14؍ جنوری کو اسلام آباد میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے زیر اہتمام ایک سیمینار میں گونج رہے تھے۔ اس سیمینار کا موضوع تھا ’’آئین کی سربلندی اور انسانی حقوق‘‘ اور سیمینار کے روح رواں تھے آئی اے رحمان جو نوے برس کی عمر میں بھی انسانی حقوق کی بہت توانا آواز ہیں۔

اس سیمینار میں اُنہوں نے کہا کہ ہاں آزادیٔ اظہار ختم ہو چکی، انسانی حقوق کی پامالیاں بڑھ رہی ہیں لیکن ہمیں پُرامن جدوجہد کے ذریعے آئین و قانون کی بالادستی کو قائم کرنا ہے۔

یہ بھی دیکھئے : حامد میر کا گزشتہ کالم ’ فخرو بھائی ہمیشہ زندہ رہیں گے‘


حنا جیلانی کو بہت عرصے بعد میں نے غصے میں دیکھا۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں کسی بحث کے بغیر حالیہ ترمیمی بل کی منظوری پر اپوزیشن جماعتوں کو بہت زور سے کہا کہ شیم آن یو ۔

جب اُنہوں نےاپوزیشن جماعتوں کوشرم دلائی تو اُن کے بالکل سامنے مسلم لیگ (ن) کی ایک خاتون رکن اسمبلی نظریں جھکائے بیٹھی تھیں۔ اس نفیس اور نستعلیق خاتون نے ماضی میں بڑی دلیری کے ساتھ نواز شریف کے اُس بیانیے کا ساتھ دیا جو جی ٹی روڈ مارچ میں سامنے آیا تھا۔

قومی اسمبلی میں بھی یہ خاتون انسانی حقوق کے لیے ایک مؤثر آواز ہیں لیکن حنا جیلانی کے شرم دلانے کے کچھ دیر بعد وہ خاموشی سے اُٹھ کر چلی گئیں۔

سیمینار سے خطاب کرنے والوں میں پیپلز پارٹی کے تاج حیدر اور فرحت اللہ بابر بھی شامل تھے لیکن اُنہوں نے اپنی پارٹی کا دفاع نہیں کیا۔ پرانے دوست ظفر اللہ خان اور عاصمہ شیرازی نے بھی سیاسی جماعتوں کے ’’سرنڈر‘‘ پر مایوسی کا اظہار کیا،

لیکن سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری شمیم ملک، جسٹس ریٹائرڈ شکیل بلوچ، ایم ضیاء الدین، پی ایف یو جے کے سیکرٹری جنرل ناصر زیدی، عاصم سجاد اختر اور حارث خلیق کی گفتگو میں اُمید کی ایک کرن تھی۔ افراسیاب خٹک نے بڑے فخر سے کہا کہ آج ہمارے نعرے بھارت میں بھی مقبول ہو رہے ہیں۔

اس ناچیز نے بھی سیمینار میں یہی عرض کیا کہ وہ نعرے جو پاکستانی آمروں کے خلاف لگائے جاتے تھے اب بھارت کی سڑکوں پر بھی گونج رہے ہیں۔ جس فیضؔ اور جالبؔ پر پاکستان میں بغاوت کے مقدمے بنتے تھے اب اُسی فیضؔ اور جالبؔ کی نظمیں گانے والوں کو بھارت میں غدار کہا جا رہا ہے۔

وقت اور حالات نے پاکستان کے ماضی اور بھارت کے موجودہ آمروں میں فرق ختم کر دیا ہے۔ بھارت کے غاصب حکمرانوں نے عدلیہ اور میڈیا کو کنٹرول کرکے یہ سمجھا کہ اُنہوں نے سب کچھ فتح کر لیا لیکن یہ اُن کی غلط فہمی تھی۔

جب ریاستی اداروں سے لوگوں کا اعتماد اُٹھ گیا تو نوجوان فیضؔ اور جالبؔ کی نظمیں گاتے ہوئے سڑکوں پر آ گئے۔ فیضؔ اور جالبؔ کی نظمیں بھارت میں ایک تحریک اٹھا سکتی ہیں تو پاکستان میں کیوں نہیں؟

بھارت میں کئی معروف اداکار، گلوکار اور صحافی ظلم و بربریت کے خلاف سڑکوں پر چلنے والی تحریک میں شامل ہو چکے ہیں۔ ہم فیضؔ اور جالبؔ کا نام تو لیتے ہیں لیکن ان شاعروں کو تو جیل جانے سے کبھی خوف محسوس نہ ہوا۔

جو الزام فیضؔ اور جالبؔ پر لگایا گیا اسی طرح کا ایک الزام حال ہی میں ایک ریٹائرڈ کرنل انعام الرحیم پر لگا دیا گیا ہے۔اس سے بظاہرجو خوف پھیلنا چاہئے تھا وہ مجھے ہیومن رائٹس کمیشن کے سیمینار میں دور دور تک نظر نہیں آیا۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سیمینار میں موجود تمام ماہرینِ قانون، انسانی حقوق کے کارکنوں اور اہلِ صحافت کی جانب سے اس رائے کا اظہار کیا گیاکہ لاہور ہائیکورٹ کی طرف سے سزا کو معطل کرنا خلافِ آئین ہے اور یہ ہائیکورٹ کے اختیار میں نہیں تھا۔

میں نے یہ بھی کہا کہ جمہوریت پسند حلقوں میں اپوزیشن جماعتوں کے بارے میں بہت مایوسی پائی جاتی ہے لیکن صرف سیاسی جماعتوں پر تنقید کرنا جائز نہیں۔

جب میڈیا پر پابندیاں لگتی ہیں تو کتنے صحافی پابندیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں اور کتنے صحافی سڑکوں پر آتے ہیں؟ وکلا کی اکثریت نے لاہور ہائیکورٹ کی طرف سے مشرف کے حق میں فیصلے کو مسترد کر دیا لیکن کتنے وکلا نے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کیا؟

سیمینار کے منتظمین خاصے محتاط تھے لیکن شرکا کی اکثریت غیر محتاط تھی۔ یہ جیل جانے اور ہر قسم کے الزامات کا سامنا کرنے کے لیے تیار نظر آ رہی تھی اور مجھے حیرانی یہ ہو رہی تھی کہ سب سے زیادہ جوش و خروش نوجوانوں اور خواتین میں تھا۔

ان سب کا رول ماڈل آمنہ مسعود جنجوعہ ہیں جو سیمینار کے شرکاء میں پُروقار انداز میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ اس سیمینار میں موجود کسی بھی فرد نے کبھی پاکستان کے خلاف کوئی سازش نہیں کی۔

یہ سب مرد و خواتین پاکستان میں آئین و قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ سب آئین پسند شہری کچھ پاور بروکرز کے لیے غدار رہے۔ آئین کی بالادستی پاکستان کی سلامتی کی ضمانت ہے۔

ماضی میں ہر آئین پسند کو بھارت، اسرائیل اور امریکہ کا ایجنٹ بنا دیا جاتا تھا، اب تو یہ کوئی راز نہیں رہا کہ بھارت، اسرائیل اور امریکہ کس کے ساتھ ہیں؟ یہ ممالک اُنہی کے ساتھ ہیں جن کے ساتھ کچھ عرب شیخ کھڑے ہیں۔

بہتر ہوگا کہ پاور بروکرز اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریںاور پاکستان کے اصل دشمنوں کے خلاف قوم کو متحد کریں۔ آئی اے رحمان جیسے بزرگوں کو نوے سال کی عمر میں ایک نئی جدوجہد شروع کرنے پر مجبور نہ کریں۔

یاد رکھئے گا! پاکستان کی اپوزیشن جماعتیں سرنڈر کر سکتی ہیں، پاکستان کی سول سوسائٹی سرنڈر نہیں کرے گی۔نومبر 2007ء کے بعد مشرف کے خلاف تحریک اپوزیشن جماعتوں نے نہیں سول سوسائٹی نے چلائی تھی۔

14جنوری کو ہیومن رائٹس کمیشن کا سیمینار ایک نئی تحریک کا نکتہ آغاز تھا۔ 25جنوری کو حقوقِ خلق موومنٹ لاہور میں نوجوانوں کو اکٹھا کر رہی ہے اور پھر کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں بھی آئین کی بالادستی کی باتیں ہوں گی۔

ادارتی صفحہ سے مزید