آپ آف لائن ہیں
منگل11؍صفر المظفّر 1442ھ 29؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پی ٹی آئی، ایم کیوایم میں مذاکرات کے باوجود ڈیڈلاک برقرار

پی ٹی آئی، ایم کیوایم میں مذاکرات کے باوجود ڈیڈلاک برقرار


پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے بڑوں کی بات چیت کے باوجود ڈیڈلاک پہلے کی طرح برقرار ہیں۔

حکومتی کمیٹی کے ایم کیو ایم کی قیادت سے مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کے باوجود خالد مقبول صدیقی نے وزارت سے دیا ہوا اپنا استعفیٰ واپس نہیں لیا۔

ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کے عارضی مرکز بہادر آباد پر ہونے والے مذاکرات میں خالد مقبول صدیقی نے وزیر دفاع پرویزخٹک کی قیادت میں آئے حکومتی وفد کے سامنے اپنے مطالبات دہرا دیے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے کنوینر نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کو کاغذات سے نکال کر زمین پر مکمل ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

ایم کیو ایم قیادت نے حکومت سے اتحاد کی وجہ بننے والے مطالبات جو تسلیم کیے جانے کے بعد وعدے بن چکے ہیں، انہیں پورا کیا جائے۔

ذرائع کے مطابق حکومتی وفد کے سامنے ایم کیو ایم کی قیادت نے حیدر آباد میں یونیورسٹی کا قیام، ترقیاتی بجٹ میں اضافہ، کراچی کے لیے 162 ارب کے پیکیج پر عمل درآمد اور ایم کیو ایم کے بند دفاتر کھولنے جیسے نکات رکھے۔

پرویز خٹک نے کہا کہ ایم کیو ایم کے تمام مطالبات کا جائزہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے اگلے راؤنڈ میں لیا جائے گا، آنے والے دنوں میں واضح پیشرفت نظر آئے گی۔

میڈیا کے سامنے بات چیت میں دونوں فریقین نے بات چیت سے ’سب اچھا ہے‘ کہ تاثر دیا مگر پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کی قیادت کے درمیان ڈیڈ لاک پہلے کی طرح برقرار ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومتی وفد نے پہلے کی طرح ایم کیو ایم کی قیادت کو یقین دہانیاں کروائیں۔

خالد مقبول صدیقی نے واضح الفاظ میں کہا کہ وزارت ترجیح نہیں، سندھ کے شہری علاقوں کو فوری ریلیف دلوانا چاہتے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید