آپ آف لائن ہیں
اتوار18؍ذی الحج 1441ھ 9؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

لاہور میٹرو اورنج ٹرین منصوبہ اپنی تکمیل اور آزمائشی سروس کے مراحل سے گزرنے اور عوام الناس کے طویل انتظار کے بعد 23مارچ سے مکمل آپریشنل ہونے کی خوش خبری سنائی گئی ہے۔ 27کلومیٹر فاصلے پر مشتمل ٹریک کا 25.4کلومیٹر حصہ اوور ہیڈ جبکہ 1.72کلومیٹر زیر زمین ہے۔ اورنج لائن پر 26اسٹیشن بنائے گئے ہیں اور روزانہ دو لاکھ 50ہزار شہری اس پر سفر کر سکیں گے۔ منصوبے کی تعمیر اکتوبر 2015میں شروع کی گئی تھی جسے 27ماہ میں مکمل ہونا تھا تاہم بعض پیچیدگیوں اور تاریخی عمارتوں کی بقا اور حفاظت کے پیش نظر ڈیزائن میں تبدیلی کی وجہ سے 22ماہ کی تاخیر سے مکمل ہو رہا ہے۔ یہ الیکٹرک ٹرین ہے جس کے لیے 108میگاواٹ بجلی کی بلا تعطل سپلائی کو یقینی بنانا ایک حساس معاملہ ہے۔ اس حوالے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مطلوبہ ضرورت کیلئے ہر پاور اسٹیشن پر 132کے وی کے چار سرکٹ کام کریں گے جس سے چوبیس گھنٹے بجلی میسر ہوگی۔ آزمائشی سفر سے پہلے 4اکتوبر کو متعلقہ کمپنی کے انجینئرز نے اورنج لائن کے آخری اسٹاپ علی ٹائون رائیونڈ کے قریبی ستون نمبر 338کے اوپر اور ارد گرد ٹریک کے کنٹریکٹ بیڈ پر جو خطرناک دراڑیں دیکھی تھیں اسے مرمت کرکے گزشتہ 10دسمبر کی آزمائشی سروس میں کلیئر کر دیا گیا ہے۔ اب بھی آزمائشی سروس کیلئے متعین مدت کے دو ماہ سے زیادہ کا عرصہ باقی ہے جس کے دوران جہاں تک ممکن ہوا تمام تکنیکی پہلوئوں کا مکمل طور پر جائزہ لیا جائے گا جس میں ٹرین کی حتمی رفتار کا تعین جیسے عوامل قابل ذکر ہیں۔ ملک کو جس طرح پیٹرول کی صورت میں توانائی کے بحران اور لاہور شہر کو شدید فضائی آلودگی کا سامنا ہے، اورنج ٹرین منصوبہ یقیناً شہریوں کو ان پریشانیوں سے نجات دینے میں معاون ثابت ہوگا۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998