آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل30؍ جمادی الثانی 1441ھ 25؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

سرحدی تنازعات اور تعیناتیوں کی ذمہ داری بپن روات کے سپرد

 کراچی (نیوز ڈیسک) بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن روات کی قیادت میں نو تشکیل شدہ محکمے ڈیپارٹمنٹ آف ملٹری افیئرز (ڈی ایم اے) انڈیا کے پڑوسی ممالک سے متعلق معاملات کو دیکھیں گے جس میں سرحدی تنازعات، واقعات، اگلے محاذوں پر انفراسٹرکچر کی ڈیولپمنٹ اور افواج کی تعیناتیوں کو دیکھیں گے۔ یہ بات بھارت کی نئی وزارت دفاع نے ایک حکم نامے میں جاری کی ہے۔ ان پڑوسی ممالک میں چین، پاکستان اور بھوٹان شامل ہیں۔ بھارتی میڈیا نے حکم نامے کے حوالے سے بتایا کہ اس کے تحت سری لنکا، نیپال اور مالدیپ جیسے دوست ممالک کو اسلحہ اور گولہ بارود کی فراہمی بھی ڈیپارٹمنٹ آف ملٹری افیئرز کے تحت آئی گی۔ وزارت دفاع کے ماتحت یہ نیا محکمہ پہلے سے موجود چار محکموں کیساتھ ساتھ علیحدہ طور پر کام کرے گا جن میں ڈیفنس، ڈیفنس پروڈکشن، ڈیفنس ریسرچ اور ڈیولپمنٹ اینڈ ایکس سروس ویلفیئر شامل ہیں۔ ڈی ایم اے کا اسٹاف دو جوائنٹ سیکرٹریز، 13 ڈپٹی سیکریٹریز، 25 انڈر سیکریٹریز اور 22 سیکشن آفیسرز پر مشتمل ہوگا۔ بحیرہ ہند خطے، افغانستان، مغربی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں بدلتی ہوئی صورتحال پر نظر رکھنا بھی ڈی ایم اے کی ذمہ داری ہوگی۔ بپن روات نے 31 دسمبر کو بھارت کے پہلے چیف آف ڈیفنس اسٹاف کا عہدہ سنھالا تھا اور وہ تینوں مسلح افواج کے

معاملات میں وزارت دفاع کے پرنسپل ملٹری ایڈوائزر کے طور پر بھی کام کریں گے۔ اسی طرح سیاچن گلیشئرز میں انسداد شدت پسندی آپریشنز سے متعلق معاملات کو بھی ڈی ایم اے ہی دیکھے گی۔ ڈی ایم اے کی ذمہ داریوں میں آرمی کی تشکیل نو، بھارتی فضائیہ کے آپریشنل معاملات اور بیرون ملک جنگی جہازوں کی تعیناتیوں، بحری سیکورٹی، آمدنی کا حصول اور تینوں مسلح افواج کے وار ویسٹیج ریزرو بھی شامل ہوں گے۔

اہم خبریں سے مزید