آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات2؍رجب المرجب 1441ھ 27؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بہاری، بنگالی اور حیدرآبادی ذائقوں کاسر چڑھ کر بولتا جادو

شیما صدیقی

کراچی میگا سٹی ہے، کاسموپولیٹن سٹی ہے اور اسی لئے ’منی پاکستان ‘ بھی کہا جاتا ہے ۔کاسموپولیٹن سٹی اس لئے کہ یہاں پنجاب کے بسنتی رنگوں کی بہار ہے تو لیاری میں آپ کو بلوچی دھنوں پر ہنستے مسکراتے اور رقص کرتے لوگ بھی مل جائیں گے۔

قصبہ کالونی میں پشتو لہجے کی چاشنی،کراچی کے گوٹھوں میں سندھ کی سریلی تانیں، سائیں لطیف کا کلام اور میرو غالب کی زبان کے وارث۔۔ اردو بولنے والوں کی گنجان آباد بستیاں بھی اسی شہر کی شب روز رونق کا حصہ ہیں۔

بات صرف یہیں تک محدود نہیں بلکہ بنگال، بہار ،حیدرآباد دکن ، بنگلور، مالا بار اور مدراس سے تعلق رکھنے والے بھی اپنی صدیوں پرانی دلکش روایات، ثقافت ،کھانوں اور مزاجوں کے ساتھ آباد ہیں۔

شاید بہت کم لوگ واقف ہوں کہ جناح اسپتال کے ساتھ مدراسی پاڑے میں تامل آبادی تقسیم سے پہلے سے رہ رہی ہے۔

اسی طرح اورنگی ٹاؤن میں بہار سے ہجرت کرکے آلے افراد کی سب سے زیادہ آبادی مقیم ہے۔ ان کامخصوص لب و لہجہ دلچسی کے سبب سارے پاکستان میں مشہور ہے ۔ اور اب تو اس کی اہمیت اس وجہ سے بھی مشہور ہوگئی ہے کہ لوگ بہار کے ذائقہ مند بہاری کباب، بہاری پیزا اور بہاری بوٹی چٹخارے لے لے کر کھاتے اور تعریف کرتے نہیں تھکتے۔

اتنا ہی نہیں بلکہ سرسوں کے تیل میں پکی دالیں ، کالے چنے اور بوٹ پلاؤ بھی بہاری روایات کا حصہ اور کراچی کی پہچان ہیں ۔خواتین بہاری چھاپے کی ساڑھی بھی خوب دل سے پہنتی اور پسند کرتی ہیں۔

حیدرآباد کے کھانوں کی کیا ہی بات ہے۔ ایک بار حیدرآباد کالونی کی طرف نکل کر تو دیکھیں ۔ اپنی بریانی سے لے کر خوبانی کے میٹھے تک ۔ اچار چٹنیوں سے لے کر پاپڑتک سب دکن کی پہچان ہیں۔

بہاردآباد کا چار مینار ہی نہیں ، یہاں کی دکانوں پر بکتے ذائقے ، پہناوے اور زیورات بھی کراچی میں بسے حیدرآباد یوں کو سیدھا دکن پہنچا کر دم لیتے ہیں۔

اب تو ’ راجدھانی کی تھالی‘ کا بھی شورہے۔ سنا ہے کراچی میں ایرانی ہوٹلوں کی طرح مالا باری ہوٹل بھی تھے اور لوگ مالاباری مچھلی کے ذائقے اب تک نہیں بھولے ۔

ساؤتھ کے ذائقے ہی نہیں کچھ سبزیاں بھی بالکل الگ ہیں۔ کسی بھی بنگلہ بازار نکل جائیں پرول ، کھٹل اور کچے کیلے بکتے مل جائیں گے ۔ ہماری بچپن کی یادوں میں خالہ کے گھر میں لگے بڑے بڑے کھٹل بھی ہیں۔ جو پکنے کے بعد بالکل مچھلی کا مزہ دیتے ہیں۔ شاید کچھ لوگوں نے کچے کیلوں کے کباب اور سالن بھی کھایا ہو۔ اب ان مزے دار کھانوں میں چاہے کیرالہ کاذائقہ ہو یا مدارسی مزہ ، دونوں ہی ہمیں تو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔ چاول اور مچھلی کے ساتھ ناریل کا منفرد مزہ ان کھانوں کی شان بڑھادیتے ہیں۔

کولاچی کراچی سے مزید