آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل30؍ جمادی الثانی 1441ھ 25؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

’تاریخی ویٹر نری اسپتال‘ یہاں ایک وسیع العریض آپریشن تھیٹر آج بھی موجود ہے

حبیب احمد

دنیا کے بڑے اور بین الاقوامی شہر کراچی میں ایک وہ وقت تھا جب بلندو با لا عمارتوںکے بجائے ایک مٹی اور پتھروں کی فصیل کے اندر آڑے تر چھے او نچے نیچے ایسے گھر وںکی بھرما ر تھی، جس میں تا زہ ہوا کی آمددرفت کے لئے سرے سے کوئی کھڑکی مو جو د نہیں تھی بلکہ تا زہ ہوا کی گھر تک رسائی کے لئے تمام مکانات کی چھتوں پر با د گیر بنے ہو تے تھے او ریہ با دگیر بیک وقت گھر میں تا زہ ہوا کی رسا ئی کے ساتھ سا تھ رو شنی مہیا کرنے کا کا م بھی کرتے تھے

شہرکے اندر سڑکوں کا کوئی تصورنہیں تھا اور نہ ہی پا نی ، بجلی سیور یج کامو ثر بندو بست یہی وجہ تھی کہ فصیل شہر کے اندر دا خل ہو تے ہی نہ صرف ایک نا گوا رسی بو نا ک کے نتھنوں کو ٹکرا تی تھی سرشام پو رے شہر میں شہر خموشاں جیسی خاموشی چھا جا تی اور لوگ جا نور وں کے خوف سے گھروںمیں دبک جاتے شہر کراچی کا نظم ونسق 240 روپے ما ہوا ر تنخوا ہ اور گھوڑا الائونس کے عوض گورنر ہاؤس کے پا س تھا بعض با ر یہ انتظا ما ت ایک گورنر کے ذمے ہو تے جبکہ بعض اوقات سول اور فوجی معاملات سنبھال نے کے لیے بیک وقت دو دو گور نر مقرر کیے جا تے تھے جس میں سول گورنر کی ذمہ دا ریوں میں امن عا مہ کا قیام ، حکو مت کے نافذکر دہ قوانین پر عملدر آ مد ، ٹیکس کی وصولیابی، مقد ما ت کے فیصلے کر وا نا اور سز ائیں تجویز کر نا ہو تا تھا جبکہ ملٹری گورنر ملٹری کے تما م تر انتظامات سنبھالنا ہوتا تھا۔

اس زمانے میں پو رے کرا چی کی حفا ظت کے لئے4 ہزارفوجی اہلکا ر مو جود تھے جو کہ دن اور را ت کے اوقات میں میں گھو ڑے اور خچر پر سوار ہو کر پو رے شہر کی نگرا نی کر تے تھے ،جبکہ شہر کے عام لوگ بھی کسی قسم کی ٹرا نسپورٹ نہ ہو نے کے با عث خچر ، گھوڑوں ، او نٹ اور بیل گا ڑیوں کو بطور سواری اور با ر برا دری کے لئے استعمال کر تے تھے اور کیونکہ اس وقت افغا نستا ن ، سطی ایشیاء ، پنجاب ، سندھ سے برا ستہ بندر گا ہ تجا رت زوروں پر تھی لہٰذا با ربرا دری میں کام آنے وا لے جا نوروں پر آمدن کا12 فیصد ٹیکس ادا کرنا پڑتا تھا جبکہ اسی طرح جھرک تا کرا چی برا ستہ سیہون جا نے وا لے اونٹ، جس کا کرا یہ 10سے 7روپے وصول کیا جا تا تھا۔ 

جبکہ ایک خطیر رقم بطور ٹیکس وصول کیا جا تا تھا اور جا نوروں کے سا تھ رتی برا بر زیا دتی پر جانوروںکے ما لکا ن کے خلاف بھر پور قانونی کا روائی عمل میں لائی جا تی تھی ہندو مہا جن،پارسیوں اور مسلما نوںنے پو رے شہر میں جا نوروں کی پیا س بجھانے کے لئے جگہ جگہ پیائو بنا رکھے تھے، جہا ں سے جا نور نہ صرف پیا س بجھا تے تھے بلکہ ان کہ مالکا ن، جنہیں جا نوروں کو چارہ ڈال کر درخت کی ٹھنڈ ی چھا ئو ں میں سستانے کا مو قع فرا ہم کر تے تھے

یہ تالپوروں کا دور تھا اور پھر جب انگریزوں نے کرا چی پر قبضہ کیا تو گھروں میں پا لتو جا نوروں کی تعدا د میں بے پنا ہ اضافہ ہوا،مگر حیرت انگیز امر یہ ہے کہ اس وقت تک جا نوروں کو علا ج معالجے کی کو ئی سہولت حاصل نہیں تھی ،جسے دیکھتے ہوئے1892میں جا نوروں کا ایک اسپتا ل ایک کرا ئے کی عما رت میں قا ئم کیا گے کیونکہ با ربرا دری سمیت لوگوں کو منزل مقصود کے لئے مکمل کے طور پر جا نوروں پر انحصار کیا جا تا تھا اور انگریزوں کی آمد کے بعد پا لتو جانوروں کی تعدا د میں بے پنا ہ اضافہ ہو چکا تھا لہٰذا اسپتال کی جگہ چھوٹی پڑنے لگی جس کی بنیاد پر ایک انگریزکلکٹر نے 1895ء میں ایم اے جناح روڈ پر پرانی اسمبلی، جہا ں آج این جے وی اسکول قائم ہے کہ عین سامنے لگ بھگ ڈیڑھ ایکٹر پر ایک کشادہ اسپتال قائم کیا،جہاں جا نوروں کے علاج معالجے کے لئے مختلف وارڈزآپریشن تھیٹراور ڈاکٹر سمیت دیگر ملا زمین کی رہائش کے لئے 10کوار ٹرز صرف 12ہزار روپے میں تعمیر کیے۔ 

اسپتا ل کا نام اسی انگریز کلیکٹر کے نام پر مسٹر کرا فورڈ ویٹر نری رکھا گیا اور کیونکہ ایم جناح روڈ اور اس کے ارد گرد کے علاقے، جہاں انگریزوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی لہٰذا اسپتال میں ہر وقت جا نوروں کا رش لگنے لگا ا دیکھتے دیکھتے دور درا ز سے لوگ جا نوروں کے علا ج کے لئے یہاںرخ کرنے لگے اور پھر جب بار برا دری اور لوگوں کو سفری سہولت مہیا کرنے کے لئے شہر میں ٹرامیںچلنے لگیں اور ایندھن سے چلنے والے انجن کی بدولت اس اسپتال کی افا دیت ختم ہوگئی ۔

آج بھی یہ اسپتا ل اپنی پرا نی شان و شوکت کے سا تھ مو جو د ہے، مگر جا نوروںکی تعداد میں انتہا ئی کمی اور شہر کی اہم شا ہرا ہ ٹریفک کے اژدھا م کی وجہ سے اس کی ضرورت قطعی طور پر ختم نہیںہو ئی ہے اور اب بھی یہاںجانوروں کا علاج معالجہ کیا جا رہا ہے، مگر ان جانوروں میں گھروں میں پلنے والے بلی ،کتے ،بکرے گائیں بھینسیں شامل ہیںاب بھی یہ اسپتال مکمل طور پر فعال ہے اور یہاں صرف پالتو جانوروں کا علاج ہی نہیں بلکہ ضرورت پڑنے پرآپریشن بھی کیا جا تا ہےیہاں ایک وسیع العریض آپریشن تھیٹر موجود ہے ۔

کولاچی کراچی سے مزید