آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل30؍ جمادی الثانی 1441ھ 25؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال:۔ میرے ایک دوست نے ایک لڑکی سے نکاح کیا ،جس کا لڑکی کے والدین کو علم نہیں تھا، جب کہ نکاح مسجد کے مولوی صاحب نے پڑھایا تھا، بعد میں لڑکی نے پہلے نکاح کے اوپر دوسرا نکاح کرلیا ، یہ جائز ہے یا ناجائز، اور اس صورت میں پہلے نکاح کا کیا ہوگا؟(عاشق محمد یوسف زئی،کوئٹہ)

جواب:۔ اگر پہلے نکاح کے وقت لڑکی عاقلہ بالغہ تھی اور گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ ایجاب وقبول سے نکاح ہوا تھا، تو لڑکی اس پہلے لڑکے کی منکوحہ ہے، اور دوسرا نکاح سرے سے ہوا ہی نہیں ہے۔

لڑکی کا نکاح پر نکاح ناجائز وحرام ہے اور دوسرے شوہر سے فوری علیحدگی لازم ہے۔ پہلا نکاح چونکہ والدین کی لاعلمی میں ہوا ہے، اس لیے اگر لڑکا لڑکی کاہم پلہ نہیں ہے، تو لڑکی کا ولی بذریعہ عدالتِ مذکورہ نکاح فسخ کرسکتا ہے اور جب تک پہلا نکاح شرعی طریقے سے ختم نہ ہوجائے ،اس وقت تک لڑکی کا دوسرا نکاح ناجائز ہے۔

اقراء سے مزید