آپ آف لائن ہیں
جمعہ3؍رجب المرجب 1441ھ 28؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

وزیراعظم عمران خان نے بدھ کے روز سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس، پاکستان اسٹرٹیجی ڈائیلاگ اور انٹرنیشنل میڈیا کونسل سے خطاب میں پاکستان کو درپیش داخلی و خارجی چیلنجوں، خطے کی صورت حال، عالمی امن اور بین الاقوامی تعلقات کے وسیع موضوعات پر جو باتیں کہیں ان کا لب لباب یہ ہے کہ اسلام آباد تمام ملکوں سے دوستانہ تعلقات پر یقین رکھتا ہے۔ جنگ سے بیزاری، امن کی خواہش، ہمسایوں سمیت اقوامِ عالم سے تعاون و مفاہمت کے ساتھ امن اور خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن ہونے کے جس جذبے کا وزیراعظم نے ڈیووس میں اظہار کیا، وہ قیامِ پاکستان کے وقت سے ہر سطح پر اسلام آباد کی امن کوششوں کی صورت میں عالمی برادری کے سامنے ہے۔ درحقیقت برٹش انڈیا کی آزادی کے وقت دنیا کے نقشے پر دو ملکوں بھارت اور پاکستان کے نام ابھرنے کا بڑا سبب جنگ و جدل سے پاک ماحول میں رہنے کی وہ خواہش ہی تھی جو یہاں رہنے بسنے والی دو بڑی اقوام میں سے ایک کے رہنمائوں کے تعصب کے ردّعمل میں دو قومی نظریے کی صورت میں نمایاں ہوئی۔ بعد کے حالات بار بار اس نظریے کی اصابت ثابت کرتے رہے اور حالیہ واقعات کی بنا پر بھارت سمیت دنیا بھر کے امن پسند لوگوں کو اس نظریے کی اصابت کا اعتراف کرنا پڑا۔ تقسیمِ ہند سے بھی پہلے سے بانیانِ پاکستان

الگ الگ ملکوں میں رہتے ہوئے امن و تعاون کی فضا میں مل جل کر آگے بڑھنے کی جس خواہش کا اظہار کر رہے تھے، اس پر پہلی ضرب نئی دہلی کے حکمرانوں نے کشمیر میں فوجیں اتار کر لگائی۔ بعد کے واقعات کا طویل دفتر ہے۔ اسلام آباد بار بار نئی دہلی کے حکمرانوں کو باور کراتا رہا کہ دونوں ملکوں کی فلاح و ترقی کا راستہ امن کی میز پر بیٹھ کر مسائل حل کرنا اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرنا ہے۔ عالمی برادری کی کوششوں سے کئی بار امن مذاکرات شروع کیے گئے مگر نئی دہلی کے حکمران کسی نے کسی بہانے بات چیت معطل کرتے رہے اور نوبت یہ آگئی کہ 5اگست سے مقبوضہ کشمیر دنیا کا سب سے بڑا قید خانہ بن چکا ہے جبکہ مسلمانوں سے تعصب پر مبنی نئی دہلی کے حکمرانوں کے وضع کردہ قانون پر بھارت میں بسنے والے تمام مذاہب کے لوگ سراپا احتجاج ہیں۔ کشمیر اور کنٹرول لائن کے حوالے سے پیدا شدہ کشیدہ صورتحال اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کیلئے تشویشناک بن چکی ہے۔ کرۂ ارض کے امن کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری وزیراعظم عمران خان کی اپیل پر فوری طور پر متحرک ہو اور دونوں ایٹمی ممالک کی کشیدگی انتہائی سطح پر جانے سے روکنے کی تدابیر کرے۔ چین نے سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے سمیت اس باب میں ٹھوس موقف اختیار کیا اور عام تاثر یہ ہے کہ دیگر عالمی طاقتیں بھی پسِ پردہ متحرک ہیں جبکہ عالمی طاقت امریکہ سمیت تمام اہم ملکوں کا کردار امن کے مفاد میں نمایاں اور باہمی رسہ کشی سے مبرا نظر آنا چاہئے۔ پاکستانی عوام نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کو قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے کہ اس وقت اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات ہمیشہ سے بلند تر سطح پر ہیں جبکہ پاکستانی عوام بیجنگ سے اپنے دیرینہ دوستانہ تعلقات پر بھی فخر کرتے ہیں مگر امریکی نائب وزیر خاجہ ایلس ویلز نے پاک چین مشترکہ راہداری کے حوالے سے جو بیان دیا وہ صدر ٹرمپ کے بیان کی روح سے مطابقت رکھتا محسوس نہیں ہوتا۔ یوں دوست ملک چین کے سفارت خانے کے لیے اس نازک صورتحال میں پاکستانی عوام تک اپنا موقف پہنچانا ناگزیر ہوگیا۔ بین الاقوامی تعلقات میں توازن کے تقاضوں کا ملحوظ رکھا جانا خاص اہمیت رکھتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان جب جنگ کے بجائے امن کی پارٹنر شپ کی بات کرتے ہیں تو اس کا ایک مفہوم یہ بھی ہے۔