آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر22؍ جمادی الثانی 1441ھ 17؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

فلورملز ایسوسی ایشن نے27جنوری سے تالہ بندی کا عندیہ دیدیا

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن بلوچستان سرکل کے صدر سید صالح محمد آغا اور بدرالدین کاکڑ نے صوبائی حکومت اور وزارت خوراک کو خبردار کیا ہے کہ اگر گندم اور آٹا بردار لوکل گاڑیوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بند اور فلور ملز کو پاسکو سے گندم کی فوری ترسیل کو ممکن نہ بنایا گیا تو 27جنوری سے صوبے بھر میں فلور ملز کی غیر معینہ مدت تک کیلئے تالہ بندی کی جائیگی ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز عبدالواحد لالا ، سید شریف آغا، سید ظہور آغا و دیگر کے ہمراہ ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہاکہ ملک بھر اور خاص طور پر بلوچستان میں آٹا اور گندم بحران کا ہے اس صورتحال کے پیدا ہونے سے کئی ماہ سے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوٹہ اور فلور ملز ایسوسی ایشن بلوچستان(سرکل)کی پلیٹ فارم سے ہم اپنے خدشات و تحفظات کا اظہار کرتے چلے آئے ہیں جس کے شواہد پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے پیکیجز اور بیانات کی صورت میں موجود ہیں ہم نے عوام پر یہ بات عیاں کی تھی کہ ملک کے دیگر صوبوں میں گندم اور آٹا کے ریٹس کم جبکہ یہاں زیادہ ہیں جو حکومت اور وزارت خوراک کے گندم خریداری اور صوبے کو ترسیل میں تاخیر اور پنجاب میں مختلف پابندیاں ہیں انہوں نے کہاکہ اب جب ملک کے دوسرے صوبوں میں بھی

آٹا کی قیمتوں میں اضافہ ہونا شروع ہوا ہے تو اس نے بلوچستان میں بھی صورتحال کو مزید گمبھیر بنادیا ہم نے ایک مرتبہ پھر صوبے کی عوام کی خاطر صوبائی حکومت اور وزارت خوراک سے پاسکو سے خریدی گئی گندم کی صوبے کو ترسیل ہنگامی بنیادوں پر ممکن بنانے کے لئے اقدامات کی استدعا کی بلکہ یہ بھی آفر کی کہ فلور ملز مالکان حکومت سے سبڈی لئے بغیر 20 کلو آٹے کا تھیلا 900 روپے میں عوام کو فراہم کریں گے لیکن اس آفر پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔صوبائی حکومت اور وزارت خوراک نے بجائے اس کے پنجاب سے گندم کی ترسیل کو جنگی بنیادوں پر ممکن بناتے فلور ملز مالکان اور گندم و آٹاڈیلرز کو ٹارگٹ کرنا شروع کر دیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہم اس امر کی وضاحت ضروری سمجھتے ہیں کہ اس وقت صوبے میں جو گندم اور آٹا مارکیٹ میں موجود ہے اس کا بندوبست فلور ملز مالکان اور آٹا و گندم ڈیلر اپنی مدد آپ کے تحت کر چکے ہیں اسی لئے اس وقت بھی عوام کو گندم اور آٹا دونوں مارکیٹ میں دستیاب ہیں مگر اب گزشتہ روز سے صوبائی حکومت اور وزارت خوراک کی ہدایت پر مختلف اضلاع میں ان گندم اور آٹا بردار گاڑیوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع کردیاگیا ہے جو صوبے کے مختلف علاقوں اور شہر میں گندم اور آٹا سپلائی کر رہے تھے ہم صوبائی حکومت اور صوبائی وزارت خوراک کے اس اقدام کو صوبے میں آٹا اور گندم بحران کو مزید گھمبیر بنانے کی کوشش سمجھتے ہیں بجائے اس کے صوبائی حکومت اور وزارت خوراک بلوچستان پاسکو سے خریدی گئی گندم کی صوبے کو ترسیل ممکن بنانے کے اقدامات اٹھاتے الٹا انہوں نے صوبے میں ہماری ذاتی کوششوں سے لائی جانے والی گندم کی گاڑیوں کو روکنے اور پکڑنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے بلکہ یہ بیانات داغے جا رہے ہیں کہ گوداموں میں پڑا اسٹاک عوام میں مفت تقسیم کیا جائے گا ہم مشورہ دیتے ہیں کہ وزارت خوراک کے حکام پاسکو سے گندم جنگی بنیادوں پر صوبےمیں پہنچاکر اپنا یہ شوق پورا کرئے ہم اس روئیے کی مذمت کرتے ہوئے واضح کرنا چاہتے ہیں کہ صوبائی حکومت اور وزارت خوراک بلوچستان کا یہ رویہ فلور ملز ایسوسی ایشن بلوچستان (سرکل)کو غیر معینہ مدت تک صوبہ بھر میں فلور ملز کو بند کرنے پر مجبور کردے گی۔

کوئٹہ سے مزید