آپ آف لائن ہیں
منگل13؍شعبان المعظم 1441ھ 7؍اپریل2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

اقبال اے رحمن

اس کے دونوں جانب بنی پتھر کی عمارتیں1885 اور 1920 کے درمیانی عرصے کی تعمیرات ہیں

کھارادر کپڑا مارکیٹ کا علاقہ ہے، یہ تین فرلانگ کی چوڑی گلی لکشمی داس اسٹریٹ کہلاتی ہے، جو ایک مارواڑی سیٹھ ٹھاکر لالجی لکھمی داس سے منسوب تھی ۔ 91-1990 میں عراق امریکہ جنگ کے دوران یار لوگوں نے اسے صدام حسین روڈ کا نام دے دیا تھا، مگر یہ نام چلا نہیں، اس اسٹریٹ کا ایک سرا نیو نہام روڈ ہے اور دوسرا ایم اے جناح روڈ، مسٹر نہام کراچی میں پانی کی فراہمی کے لئے بنائی جانے والی اولین کمیٹی کے رکن تھے، بعد میں اس سڑک کانام تبدیل ہوا اور معروف گجراتی صحافی و مدیر فخر ماتری کے نام سے منسوب ہوگیا، فخر ماتری ملت گجراتی، حریت اردو اور لیڈر انگریزی کے مدیر اعلٰی تھے ۔ قائد اعظم کی جائے ولادت یعنی وزیر مینشن بھی اسی سڑک یعنی نیو نہام روڈ پر ہے ۔

لکشمی داس اسٹریٹ کے دونوں جانب قائم بڑی اور چوڑی دکانیں پتھر کی بنی جن عمارتوں کے نیچے واقع ہیں سنہ 1885 اور 1920 کے درمیانی عرصے کی تعمیرات ہیں، یہ دکانیں دراصل ٹیکسٹائل ملوں اور ٹیکسٹائل ڈسٹری بیوٹرز کے دفاتر تھے، سادگی کے دور میں سیٹھ لوگ ایسے ہی دفاتر پسند کرتے تھے، ملحقہ علاقوں یعنی کھارادر سے لےکر سول اسپتال کے علاقے تک میں ان کی رہائش ہوتی تھی، 90 فیصد کاروبار میمن برادری کے ہاتھ میں تھا، اکا دکا آفس سوداگران دہلی والوں کے تھے۔ 

چنیوٹ کے لوگ بعد میں آئے، اسی طرح کی بڑی بڑی دکانوں پر مشتمل گوردھن داس مارکیٹ بھی اسی گلی میں ہے، جس کادوسرا دروازہ ایم اے جناح روڈ پر کھلتا ہے ۔ یہ کشادہ مارکیٹ اس زمانے میں جائداد کی قدر کے اعتبار سے مہنگی ترین مارکیٹ تھی ،جہاں لاکھوں کا کاروبار ہوتا تھا، اسی مارکیٹ کے لکشمی داس اسٹریٹ والے سرے پر ایک ٹھیلے میں مونگ پھلی یا تل اور گڑ کی آمیزش سے تیار کردہ گزک جسے کھارادر میں پھلی پاک یا چکی کہا جاتا ہے بہت مشہور ہے ۔ 

80 کی دہائی سے قائم اس ٹھیلے کی یہ ایسی سوغات ہے ،جس کاکوئی ثانی نہیں، بلا مبالغہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ کراچی تو کجا پوری دنیا میں ایسی چِکی ملنا ناممکن ہے، جب ہی تو آپ جس وقت بھی ان کے اسٹال پر جائیں ایک آدھ گاہک ایسا کھڑا ہوا ملے گا جو بیرون ملک مقیم پاکستانی ہوگا یا پھر بیرون ملک اپنے کسی عزیز کے لئے لینے آیا ہوگا، یہ انڈین گجرات کی سوغات ہے، مگر سعودی عرب میں مقیم ہمارے ایک انڈین گجراتی دوست کو کراچی میں بنی یہ سوغات بھجوائی تو انہوں نے بھی دانتوں تلے انگلی داب لی ۔ مشہور زمانہ کو چین والا مارکیٹ کا مرکزی دروازہ بھی اسی گلی میں کھلتا ہے ۔

میمن برادری کے تقسیم سے قبل جوناگڑھ سے چلے آئے طریقہ کار کے مطابق مارکیٹ جمعہ کے روز نماز جمعہ کے بعد کھلتی تھی، اس لیےاس دن ہاف ڈے ہوتا تھا۔

اس گلی میں 70 کی دہائی میں ایک نئی سرگرمی کا آغاز ہوا، خلیجی ریاستوں میں پاکستانی محنت کشوں میں سے میمن محنت کشوں نے دبئی سے جاپانی سوٹ اور پینٹ پیس لاکر یہاں کھڑی سیٹھوں کی گاڑیوں پر رکھ کر بیچنا شروع کیا، بات پھیلی تو کاروبا بڑھا اب دوسری چیزیں جیسے پرفیوم، گھڑیاں، ٹرانسسٹر اور ٹیپ ریکارڈر بھی بکنے لگیں، سارے کام کی آڑ میں اسمگل شدہ سامان کی ترسیل بھی شروع ہوگئی اور یہ اسٹریٹ " چور گلی " کے نام سے معروف ہوگئی ۔ 

اس گلی سے گزرنا عذاب ہوگیا کہ آپ گلی سے گزر رہے ہیں تو آپ کے ساتھ ساتھ کوئی نہ کوئی لڑکا چلنا شروع ہوجاتا اور اس کےمنہ سے رٹے ہوئے الفاظ آپ کی قوت سامعہ یا قوت برداشت کا امتحان لینا شروع ہو جاتے " ہاں پینٹ پیس سوٹ پیس گھڑی مڑی سینٹ وائن اوپن کتاب " گلی سے گزرتے گزرتے تین چار تو ایسے ٹکرا ہی جاتے ۔ اس کاروبار کی مقبولیت نے موتن داس مارکیٹ کو جنم دیا ۔

اسی گلی کے عقب میں چھاگلہ اسٹریٹ ہے، چھاگلہ فیملی اسماعیلی برادری کا ایک معتبر خاندان تھا، ان کے سرخیل وزیر علی چھاگلہ آغاخان جماعت خانہ کھارادر کے چیف مکھی تھے، اسی خاندان کے ایک بزرگ داتو سیٹھ کے نام سے کھارادر میں چھاگلہ داتو مسافر خانہ تھا جو اندرون سندھ سے آئے زائرین کی سہولت کے لئے قائم کیا گیا تھا، مسافر خانہ کی پتھروں سے بنی یہ خوبصورت عمارت فورا رے اور وسیع دالان سے آراستہ تھی ۔

چھاگلہ اسٹریٹ اب " اسمٰعیل گیگا " اسٹریٹ بن گئی ہے ۔ اسمُٰعیل گیگا کتیانہ میمن برادری سے تعلق رکھتے تھے، کپڑے کا کاروبار تھا، چھاگلہ اسٹریٹ میں ان کا آفس آج تک قائم ہے۔

اس گلی کے ایک کونے پر پر کچھی کھتری برادری سے تعلق رکھنے والے یامین بھائ کا فرائی اسٹال ہے، سموسے تو ہم کھاتے رہتے ہیں، مگر یامین بھائی نے سموسے کو نئی جہت دی ہے، باربی کیو اور ملائی بوٹی سموسہ ان کی ایجاد ہےگلی کا اختتام ایم اے جناح پر ہوتا ہے، جہاں سامنے ہی میری ویدر ٹاور سر اٹھائے کھڑا ہے ۔ 1886 میں یہ ٹاور برٹش دور کے کمشنر کراچی سر ولیم میری ویدر کی یاد میں تعمیر کیا گا تھا جسکی ڈیزائیننگ معمار کراچی سر جیمس اسٹریچن نے کی تھی ۔ کہا جاتا ہے ٹاور پر یہودیوں کا متبرک نشان " ڈیوڈ اسٹار " بنا ہوا ہے، مگر ایسا نہیں، نشان ہے ضرور مگر ڈیوڈ اسٹار سے ملتا جلتا ہے ۔

کولاچی کراچی سے مزید