آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل30؍ جمادی الثانی 1441ھ 25؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کورونا وائرس منہ اور ناک کے علاوہ جسم کے کس حصے سے داخل ہوسکتا ہے؟

کورونا وائرس منہ اور ناک کے علاوہ جسم کے کس حصے سے داخل ہوسکتا ہے؟


دنیا کو تیزی سے پھیلتے ہوئے مہلک کورونا وائرس سے نبرد آزما ہونا پڑ رہا ہے، تاہم سائنسدانوں نے اس کے پھیلنے کی وجہ بھی بتادی۔

غیر ملکی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس انسانی جسم میں آنکھوں کی مدد سے داخل ہوجاتا ہے۔

چینی ڈاکٹر وانگ گنگفا نے انکشاف کیا کہ انہیں بھی یہ وائرس لاحق ہوسکتا ہے کیونکہ انہوں نے وائرس سے بچنے والے چشمے نہیں پہنے ہوئے تھے۔

ماہرین نے اس بات کی تصدیق بھی کی اور متنبہ کیا کہ چھینکوں اور کھانسی سے پھینلے والا یہ مرض نہ صرف آنکھ بلکہ آنکھوں سے بھی انسانی جسم میں داخل ہوسکتا ہے۔

ایک برِ اعظم سے دوسرے برِ اعظم تک پھیلنے والے اس وائرس کی وجہ سے صرف چین میں ہی درجوں افراد اپنی جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

امریکا، جاپان، تائیوان، جنوبی کوریا اور دیگر یورپی ممالک سمیت ایک ہزار سے زائد افراد اس وائرس کا شکار ہوکر اسپتالوں میں علاج کے لیے منتقل کیے جاچکے ہیں۔

امپیریئل کالج لندن میں وائرس جینومکس کے پروفیسر پال کیلام نے وائرس کی آنکھوں کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہونے کی تصدیق کردی۔

ان کا کہنا تھا کہ آگر آپ کی جانب کسی ایسے شخص کی چھینک آئے تو یہ وائرس لے کر آپ کی جانب آسکتی ہے، اس کی وجہ سے پہلے آنکھیں جلنے لگیں گی یہ لیکریمل ڈکٹ کے ذریعے ناک تک پہنچے گی، پھر سانس میں شامل ہو جائے گی اور ساتھ ساتھ آپ کو بھی چھینکیں لگنا شروع ہوجائیں گی۔

اگر آپ آنکھوں کی دوا لیں تو آپ اس دوا کے ذائقے کو اپنے حلق کے اندر تک محسوس کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ اس طرح فلو یا دیگر وائرسز کا پھیلنا غیر معلمولی بات نہیں ہے، آپ کو آنکھوں کی وجہ سے بھی سانس لینے کے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

پروفیسر پال کیلام نے تجویز پیش کی کہ ڈاکٹر یا طبی امداد فراہم کرنے والا عملہ اس سے بچنے کے لیے لازمی چشموں کا استعمال کرے۔

اس معاملے میں ماسک جو آپ کے منہ اور ناک کو تو حفاظت فراہم کرتا ہے لیکن واضح طور پر یہ آنکھوں کی حفاظت نہیں کرتا۔

پروفیسر پال کیلام کے اس دعوے کی یونیورسٹی آف ساؤتھمپٹن کے سینیئر ریسرچر ڈاکٹر مائیکل ہیڈ نے تائید کی ہے۔

صحت سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید