آپ آف لائن ہیں
منگل11؍صفر المظفّر 1442ھ 29؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

دہری شہریت چھپانے کا کیس، فیصل واوڈا کو نوٹس جاری

دہری شہریت چھپانے پر نااہلی کیس



وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا کو دہری شہریت چھپانے پر نااہلی کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے نوٹس جاری کرکے ان سے جواب طلب کرلیا گیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس عامر فاروق نے وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا کو دہری شہریت چھپانے پر نااہلی کیس کی سماعت کی۔

درخواست گزار وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ فیصل واوڈا نے الیکشن کمیشن میں دہری شہریت سے متعلق جھوٹا حلف نامہ جمع کرایا، جس پر جسٹس عامرفاروق نے سوال کیا کہ الیکشن کمیشن میں نامزدگی فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ کیا تھی؟

بیرسٹر جہانگیر خان جدون نے جواب دیا کہ نامزدگی فارمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 11 جون تھی، اس موقع پر وکیل نے 11جون کو فیصل واوڈا کی جانب سے جمع کرایا گیا حلف نامہ بھی عدالت کے سامنے پڑھا۔

جسٹس عامرفاروق نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن میں جو حلف نامہ جمع کرایا گیا وہ درست نہیں تھا؟اس پر بیرسٹر جہانگیر خان جدون نے بتایا کہ فیصل واوڈا نے الیکشن کمیشن میں جھوٹا حلف نامہ جمع کرایا۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ فیصل واوڈا نامزدگی فارمز جمع کراتے ہوئے دہری شہریت رکھتے تھے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق فیصل واوڈا کو دہری شہریت چھوڑ کر نامزدگی فارم جمع کرانا تھا۔

درخواست گزار وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ فیصل واوڈا آبی وسائل کے وفاقی وزیر ہیں بڑے ڈیمز پر کام چل رہا ہے انہیں کام سے روکا جائے۔

جسٹس عامر فاروق نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ نوٹس کردیتے ہیں دو ہفتے میں جواب آجائے تو دیکھتے ہیں،جبکہ عدالت نے فیصل واوڈا کو بطور وزیر کام سے فوری روکنے کی درخواست پر بھی نوٹس جاری کردیا۔

عدالت عالیہ نے دہری شہریت چھپانے پر نااہلی کیس میں الیکشن کمیشن سمیت دیگر فریقین کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے 24 فروری تک جواب طلب کیا ہے۔

واضح رہے کہ میاں محمد فیصل ایڈووکیٹ نے جہانگیر خان جدون ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر درخواست میں وفاقی وزیر فیصل واوڈا ، وفاق بذریعہ سیکرٹری کابینہ ڈویژن ، سیکرٹری وزارت قانون و انصاف ، الیکشن کمیشن اور سیکرٹری قومی اسمبلی کو فریق بنایا ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ فیصل واوڈا نے عام انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن میں دوہری شہریت سے متعلق جھوٹا حلف نامہ جمع کروایا جبکہ اُس وقت وہ امریکی شہریت کے حامل تھے لہٰذا انہیں بطور رکن قومی اسمبلی نااہل قرار دے کر وصول کی گئی تنخواہوں اور مراعات سے قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی وصولی کی جائے۔

درخواست کے مطابق 2018 کے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لئے فیصل واوڈا نے 11 جون 2018ءکو الیکشن کمیشن میں کاغذات نامزدگی داخل کرائے۔ کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت فیصل واوڈا امریکی شہریت رکھتے تھے مگر انہوں نے الیکشن کمیشن میں دوہری شہریت نہ رکھنے کا جھوٹا حلف نامہ جمع کرایا ، کاغذات کی سکروٹنی کے وقت بھی فیصل واوڈا امریکی شہری تھے۔

ریٹرننگ افسر نے 18 جون 2018ءکو فیصل واوڈا کے کاغذات نامزدگی منظور کئے جس کے بعد انہوں نے 22 جون 2018ءکو امریکی شہریت ترک کرنے کے لئے کراچی میں امریکی قونصلیٹ میں درخواست دی جو 25 جون 2018ءکو منظور کی گئی اور فیصل واوڈا کو امریکی شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ جاری ہوا۔

قومی خبریں سے مزید