• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’گڑ کی صنعت‘ گنے کے مناسب نرخ نہ ملنے پر اس دیسی صنعت کو فروغ ملا

ملک کے دیگر صوبوں کی طرح سخت سرد موسم میں گڑ کا شمار سندھ میں بھی قدیم سوغات میں ہوتا ہے۔ میرپورخاص سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں گڑ بنانے کارحجان بڑھ رہا ہے۔یہ قدرت کی مہربانی ہے کہ اس نے بھٹ دھنی کی سرزمین سندھ کو ان گنت نایاب نعمتوں سے نوازا ہے۔ وادی مہران میں چاروں موسم اپنا رنگ بکھیرتے نظر آتے ہیں۔ایک جانب اس کے پہاڑ اور صحرا معدنی دولت سے مالامال ہیں تودوسری جانب اس کے میدانی علاقے مختلف پھلوں سے لدے باغات اور مختلف زرعی اجناس کے سرسبز اور لہلہاتے کھیتوں کو اپنی آغوش میں لیے نظر آتے ہیں۔ یہاں گندم،چاول،کپاس کے علاوہ وافر مقدار میں گنے کی کاشت ہوتی ہے ۔

گنے کا مختلف طریقوں سے استعمال ہوتا ہے۔گنے کا رس نہایت شیریں، فرحت بخش اور مختلف بیماریوں کے لئے فائدہ مند ہوتا ہے ۔گنے کے رس سے سفید شکر کے علاوہ مختلف اقسام کا گڑ بھی تیار کیا جاتا ہے۔ایک وقت تھا جب سندھ میں شوگر تیار کرنے کے کارخانے انتہائی کم ہوا کرتے تھے تو لوگ چائے اور دیگر مشروبات میں گڑ کا استعمال کرتے تھے ۔ میرپورخاص سمیت سندھ کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں دیسی شکر اور گڑ کی بڑی بڑی ماکیٹ ہوتی تھیں۔

دسمبر ،جنوری اور فروری کے مہینوں کو گڑ کی تیاری کے لیے آئیڈیل تصور کیا جاتا ہے ۔ماہ جنوری کا اختتام ہوگیا ہے اور فروری کا مہینہ شروع ہوگیا ہے۔ میرپورخاص سمیت سندھ کے مختلف اضلاع میں گنے کے آبادگاروں نے اپنے طور پر گڑ تیار کرنے کے لیے الائو روشن کر دیئے ہیں جہاں گڑ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ 

گڑ کی تیاری کے موقع پر ایک عجب خوشگوار ماحول اور گہما گہمی نظر آتی ہے۔جنگ کے سروے کے دوران گڑ بنانے کے رحجان میں اضافے کے حوالے سے علاقے کے ایک ترقی پسند زمیندار محمد عمر بگھیو کا کہنا ہے کہ گنے کے مناسب نرخ نہ ملنے اور بروقت ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے آبادگاروں میں دیسی گڑ تیار کرنے کے رحجان میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے،اور رواں سیزن میں گڑسازی کا کام زیادہ دیکھنے میں آیا ہے۔

گڑ بنانے کے لیے آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی قدیم روایتی طریقے استعمال کیے جاتے ہیں ۔گنے سے گڑ تک کا سفر خاصا محنت طلب ہوتا ہے۔اس کی تیاری میں سب سے پہلا مرحلہ گنے کی کھیتوں سے کٹائی اور اسے کھیت کے ہی کسی ایک حصہ تک گڑ سازی کے کارخانے تک لانا ہوتا ہے جہاں گنے کو بیلنے میں سے گزار کر اس سے رس حاصل کیا جاتا ہے اور اس رس کو ایک بہت بڑے کڑاہومیں ڈال کر اس کے نیچے آگ جلائی جاتی ہے۔اس عمل کے دوران گنے کے رس میں میٹھا سوڈا اور دیگر کیمیاوی اشیاء ڈال کر اس میں سے مختلف کثافتوں کو الگ کیا جاتا ہے۔

گنے کا رس آگ پرمسلسل پکنے کے بعد لئی کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔اس مرحلہ پر اسے ٹھنڈا کرنے کی غرض سے لکڑی کے بنے ہوئے ایک بڑے کھلے برتن میں ڈالا جاتا ہے۔ اسے ٹھنڈا کرنے کے عمل کے دوران مسلسل ہلایا جاتا ہے تاکہ یہ خستہ رہے۔جب اس کی اوپر کی سطح ٹھنڈی ہو کر سخت ہونا شروع ہوجاتی ہے تو یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ یہ اب گڑ کی بھیلیاں بنانے کے لیے تیار ہے۔ اور پھر ایک مخصوص سانچے کے ذریعہ ہاتھوں سے ہی گڑ کی مختلف سائز کی بھیلیاں بنائی جاتی ہیں۔ گڑ زیاتر سفید اور بھورے رنگ کا ہوتا ہے۔ اس کو تار کرتے وقت مونگ پھلی اور کھوپرابھی ڈالا جاتا ہے جبکہ صاحب ثروت اور شوقین افراد آرڈر پر کھوپرا،بادام،کاجو ،کشمش ودیگر میوہ جات کی آمیزش کراکے بھی اپنی ضرورت کے مطابق گڑ بنواتے ہیں۔

تیاری کے بعد گڑ مارکیٹوں میں فروخت کے لیے پہنچا یا جاتا ہے ۔ گڑ کی آمیزش سے کھانے کی مختلف النوع میٹھی اشیاء تیار کی جاتی ہیں ۔گڑ سے بنائی ہوئی’’ لائی‘‘ بڑوں کے علاوہ بچوں کی بھی پسندیدہ چیز ہے۔ عام لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ لائی جیسی مٹھاس بھری سوغات کو بنانا بہت آسان کام ہے مگر در حقیقت اس کو بنانے کیلئے بھی بہت محنت درکار ہوتی ہے۔ یہ کام چاول کی تازہ فصل کے تیار ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے اور دو سے تین مہینوں تک ہی چلتا ہے، اس لیے لائی صرف دسمبر اور مارچ تک لوگ تازہ کھا پاتے ہیں۔

لائی کی تیاری بھی کئی مراحل میں ہوتی ہے جو انتہائی مشکل ہوتے ہیں۔لائی کو پکانے کیلئے ایک تندور بنایا جاتا ہے جس پر پہلے چاول ابالےجاتے ہیں جس کی وجہ سے چاول کی جسامت بڑھ جاتی ہے پھر ان چاولوں کو تھوڑا سا خشک کیا جاتا ہے۔ پھر ایک کڑاہی میں گڑ ڈال کرتیز آگ پر رکھا جاتا ہے ۔ اس عمل سے گڑ پانی کی طرح بن جاتا ہے اور گاڑھے سیال کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔اس کے بعد اس میں پکے ہوئے لمبے لمبے ابلے چاول ڈال کر اسے اچھی طرح گھمایا جاتا ہے تاکہ گڑ اور چاول مل جائیں۔ 

انہیں ملانے کے بعد ایک بڑی سی پلیٹ میں ڈال کر اس پر روٹی والا بیلن گھمایا جاتا ہے۔ لائی جب بن رہی ہوتی ہے تو اس کی مہک بہت دور تک پہنچتی ہے ۔ لائی مختلف اقسام کی بنائی جاتی ہے جس میں مونگ پھلی کی لائی ،بادام کی لائی، چنے کی لائی ،تل کی لائی اور دیگر کئی اقسام کی لائی بنائی جاتی ہے جو بازاروں میں الگ الگ داموں پر باآسانی دستیاب ہوتی ہیں۔ چاول کی لائی پورے ملک میں تیار ہوتی ہے مگر ہر علاقے میں اسے مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ چاول کی لائی لاڑکانہ اور نوابشاہ میں زیادہ پائی جاتی ہے، جیکب آباد میں لائی چاول کے بجائے مختلف خشک میوہ جات سے بھی تیار کی جاتی ہے۔

گڑ اور تل کی آمیزش سے تیار کی گئی گزک اور چھوٹے چھوٹے لڈو بھی بڑے لذیز ہوتے ہیں،جو دکانوں اور ٹھیلوں پر سستے داموں دستیاب ہوتے ہیں ۔ماہرین طب کی تحقیق کے مطابق سفید شکر کے مقابلے میں بھورے رنگ کے گڑ اوردیسی شکر کا استعمال صحت کے لیےمضر نہیں ہے۔گڑسازی کی صنعت کو سرکاری سرپرستی میں فروغ دے کر ایک جانب بڑی تعداد میں روزگار کے مواقع پیداکیے جاسکتے ہیں تو دوسری جانب عوا کو مضر صھت سفید شکر کے بد اثرات سے بھی محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔

تازہ ترین