آپ آف لائن ہیں
پیر12؍شعبان المعظم 1441ھ 6؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کاربن ٹیکس پر امریکا کی یورپی یونین کے خلاف انتقامی کارروائی کی دھمکی

واشنگٹن: جیمز پولیٹی

ڈیوس: گلین ٹیٹ ، کرس گیلس

یورپی یونین کے کاربن ٹیکس منصوبہ پر ٹرمپ انتظامیہ کے انتباہ کہ وہ برسلز کے خلاف تادیبی اقدامات کے ساتھ ردعمل دے گا ، کے بعد ٹرانس اٹلانٹک تجارتی تعلقات میں ایک ممکنہ نقطہ اشتعال (flashpoint) کے طور پر سامنے آیا ہے۔

امریکی وزیر تجارت ولبر راس نے یورپی یونین کی تجاویز کا موازنہ کئی یورپی ممالک کے ڈیجیٹل سروسز ٹیکس عائد کرنے کے اقدام سے کیا،جس سے امریکی حکام برہم ہوگئے اوراس کی وجہ سے امریکا نے یورپی یونین کی مصنوعات پر محصولات عائد کرنے کی دھمکی دی۔

ولبر راس نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ ہمارے ردعمل کا انحصار اس پر ہوگا کہ کاربن ٹیکس کس نوع کا ہوتا ہے۔ تاہم اگر ڈیجیٹل ٹیکس کی طرح اس کا لب لباب ملکی تجارت کا تحفظ ہوا تو ہم بھی ردعمل ظاہر کریں گے۔

صدر اروسولا وان ڈیرلیین کی زیرسربراہی نئے یورپی کمیشن میں کاربن کی درآمدپر ٹیکس یورپی یونین کی اولین ترجیحات میں سے ایک ہے۔لیکن اس منصوبے سے لگتا ہے کہ یہ ماحولیات کے حوالے سے امریکا اور یورپی یونین کے مابین تنازع کو مزید تقویت دے گا۔

جب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماحولیات کے پیرس معاہدے سے امریکا کی علیحدگی کا اعلان کیا ہے، یورپی یونین اور امریکا موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے عالمی پالیسیوں پر اختلافات کا شکار ہیں، تاہم یہ تناؤ تاحال تجارتی میدان تک نہیں پہنچا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور اروسولا وان ڈیر نے گزشتہ ہفتے ڈیووس میں کہا تھا کہ وہ رواں برس اپنی تجارتی جنگ میں ایک محدود جنگ بندی کرنے کی کوشش کریں گے، جس نے تجارتی جنگ میں بھرپور اضافے کے خدشات کو کم کیا۔حکام نے کہا کہ زرعی تجارت اور معیار سے لے کر ٹیکنالوجی اور توانائی کے شعبوں میں مشترکہ بنیاد ہوسکتی ہے، جو کافی تیزی سے طے ہوسکتی ہے۔

تاہم، تجارتی جنگ میں تیزی آنے کا امکان باقی ہے۔ امریکی حکام نے بارہا یہ دھمکی دی ہے کہ وہ یورپی یونین کے آٹو موٹو شعبے پر محصولات عائد کریں گے جس سے ماحولیاتی پالیسیوں پر خلیج وسیع ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

اروسولا وان ڈیرلیین نے گزشتہ ہفتے خاکہ پیش کیا تھا کہ ان کے فلیگ شپ گرین ڈیل پروگرام میں کاربن بارڈر کے کچھ قواعدوضوابط یا ٹیکس شامل کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ درآمدات میں کاربن شامل ہونے سے پروگرام کے فوائد ختم نہیں ہوئے ۔

سمجھا جاتا ہے کہ یورپی بلاک کے حکام کو بالخصوص تشویش ہے کہ اس پروگرام سے چین، روس اور بھارت جیسے کمزور ماحولیاتی معیار والے ممالک سے درآمدات کے ذریعہ یورپی یونین کی مصنوعات کو کم قیمت پر فروخت کیا جاسکتا ہے،لیکن اس اسکروٹنی کو دیگر تجارتی شراکت داروں جیسے امریکا تک توسیع دے گا۔

اروسولا وان ڈیرلیین نے کہا کہ اگر ہم بیرون ملک سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کی درآمد میں اضافہ کرتے ہیں تو صرف ملک میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔یہ نہ صرف ماحولیات کا مسئلہ ہے بلکہ یہ ہمارے کاروبار اور ہمارے کارکنوں کیلئے انصاف کا مسئلہ بھی ہے۔ہم انہیں غیرمنصفانہ مقابلے سے بچائیں گے۔

ان کا بیان حکام کے نرم مؤقف کے ساتھ مماثلت رکھتا ہے جو اسےبارڈر ٹیکس نہیں بلکہ میکینزم کہتے ہیں۔ان کی تجویز ہے کہ یورپی یونین کو برآمدکنندگان کو ان کی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کی تجارتی اسکیم میں حصہ لینے کی ترغیب کے ذر یعے انتہائی آلودگی پھیلانے والے شعبوں میں یہ بتدریج نافذ کیے جانے کا امکان ہے۔

اسی طرح کی ایک منطق نے ٹیکس جائنٹس سے ٹیکس وصولی کیلئے یورپی ممالک کے اقدامات کی تائید کی ،جس نے امریکی انتظامیہ میں غم و غصہ پیدا کیا اور اس نے فرانس کو پنیر اور شیمپین پر محصولات کی مد میں دھمکی دی اور کہا کہ اگر برطانیہ نے اسی راستے کی پیروی کی تو اس کی کاروں پر من مانا ٹیرف ان کے معیار کے مطابق ہوگا۔

فرانس، برطانیہ،اٹلی،اسپین اور آسٹریا نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ امریکی ٹیک کمپنیاں ان کی مارکیٹوں میں اپنی سرگرمیوں سے نمایاں منافع کمائیں لیکن معمولی سا ٹیکس ادا کریں، سیاسی طور پر اس کی اجازت دینا ناممکن ہے۔فوری طور پرفرانس پر ٹیر ف عائد کرنے کی دھمکی واپس لے کر اس ہفتے امریکا نے اس لفظی جنگ کو ناکام کردیا تھا،تاہم اگر پیرس میں بین الاقوامی معاہدہ طے نہیں پایا تو کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہوسکتا ہے۔

ولبر راس کا کاربن ٹیکس پر انتباہ ان کا ٹرمپ انتظامیہ کے ماحولیاتی مؤقف کے دفاع کے طور پر اس وقت سامنے آیا ہے،جب اس معاملے پر امریکا کی عالمی سرگرمیوں کو کھائی میں ڈالنے جبکہ آلودگی کی وجہ سے ترقی کی راہ میں مزاحم ریگولیٹری معیار کو کم کرنے کی وجہ سے دنیا بھر میں تنقید کی جارہی ہے۔ڈیووس اجلاس کے دوران امریکی وزیر خزانہ اسٹیون منچن کی ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے طریقوں پر یورپی مرکزی بینک کی صدر کرسٹین لیگارڈ کے ساتھ تکرار ہوگئی۔اسٹیون منچن نے کاربن ٹیکس کو محنت کش افراد پر ٹیکس قرار دیا۔

بااثر ریپبلکنز کا ایک گروپ حالیہ برسوں میں وائٹ ہاؤس پر ٹیکس کے مقابلے میں کاربن سے منافع کا نظام اپنانے پر زور دے رہا ہے۔ تاہم،اس نے ابھی تک کافی کم پیشرفت کی ہے اور اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ ماحولیاتی مسائل کو قابو پانے کیلئےدرخت لگانے جیسے کچھ امور میں تیزی لارہی ہے، یہ اس بات پر دباؤ جاری رکھے ہوئے ہے کہ کارروائی کا اصل بوجھ چین پر رہنا چاہیئے۔

فنانشل ٹائمز سے مزید