آپ آف لائن ہیں
جمعہ9؍ شعبان المعظم1441ھ 3؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کورونا وائرس کے خلاف فیس بک بھی میدان میں آگیا

معروف سماجی ویب سائٹ فیس بک نے کورونا وائرس کے پھیلنے کے بعد اس سے متعلق افواہوں اور جھوٹی خبروں کو ڈیلیٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

غیر ملکی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق فیس بک انتظامیہ اپنے پیلٹ فارم پر اب اس وائرس سے متعلق جھوٹی خبروں کو پھیلنے سے روک رہی ہے۔

کمپنی کا ماننا ہے کہ اس وقت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس وائرس کے حوالے سے بے بنیاد پروپگینڈا کیا جارہا ہے، تاہم اسے روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ایک روز قبل فیس بک کی جانب سے یہ اعلان سامنے آیا تھا کہ اس نے صحت سے متعلق کام کرنے والے دنیا کے بڑے اور معروف اداروں سے کورونا وائرس سے متعلق رہنمائی حاصل کی ہے جس کے بعد ہی بے بنیاد پوسٹس، ویڈیوز اور تصاویر کو ڈیلیٹ کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

اس نے صارفین کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ وہ اس وائرس سے متعلق کسی بھی پیشرفت کو شیئر کرتے ہوئے عالمی ادارہ صحت کا حوالہ موجود ہونا چاہیے۔

کورونا وائرس کی وجہ سے اب تک 300 سے زائد افراد چین میں ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ اس کی وجہ سے ہزار افراد متاثر بھی ہیں۔

فیس بک کے اس فیصلے سے متعلق کمپنی کے شعبہ صحت کے سربراہ کینگ شنگ نے اپنی ایک پوسٹ میں آگاہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کمپنی پہلے ہی جھوٹے مواد کی نگرانی کے لیے فیکٹ چیکر کا نظام استعمال کر رہی ہے، تاکہ لوگوں تک جھوٹی خبروں کو پھیلنے سے روکا جائے۔

کینگ شنگ کا یہ بھی کہنا تھا کہ فیس بک جلد ایسا مواد بھی ڈیلیٹ کرنا شروع کر رہا ہے جس میں مہلک وائرس سے متعلق جھوٹے دعوے کیے گئے ہیں جن کی وجہ سے صحت کے عالمی اور مقامی اداروں کو گمراہ ہوں اور ایسے لوگوں پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں جو ان پر یقین رکھتے ہیں۔

اس کے علاوہ فیس بک نے کچھ اداروں کے لیے اپنے پلیٹ فارم پر کورونا وائرس سے متعلق آگاہی مہم مفت چلانے کی سروس بھی فراہم کردی ہے۔

کینگ شنگ کا ماننا ہے کہ جس طرح ڈاکٹرز لوگوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں ویسے ہی وہ معاشرے میں اس وائرس سے متعلق پھیلنے والی افواہوں پر کاری ضرب لگا کر ان کی مدد کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ایک ہفتے قبل یہ خبریں سامنے آئیں تھیں کہ فیس بک کے ساتھ ساتھ ٹوئٹر اور گوگل بھی جھوٹی خبروں کو پھیلنے سے روکنے کے اقدامات کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید