آپ آف لائن ہیں
منگل13؍شعبان المعظم 1441ھ 7؍اپریل2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ہر کوئی اپنے گھر میں ایک خوبصورت باغیچے کی خواہش رکھتا ہےلیکن بہت سے لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ لینڈ اسکیپنگ کیسے کی جائے۔اس حوالے سے ہم آج کے مضمون میں لینڈ اسکیپنگ آئیڈیاز سے متعلق اہم نکات اپنی تحریر کا حصہ بنارہے ہیں۔

لینڈاسکیپنگ( جسے عام طور پر زمین کی تزئین و آرائش کاعمل کہا جاتا ہے) فن تعمیر اور ہوم ڈیزائننگ کا ایک ایسا جزو ہے، جو کسی بھی گھر کے بیرونی حصہ کو ایک مختلف اور منفرد انداز بخشتا ہے۔ لینڈ اسکیپنگ کو ایک ایسی سائنس سمجھا جاتا ہے، جس کےذریعے زمین کی سادگی وخاصیت کو خوبصورتی اور دلکشی میں تبدیل کیا جاسکتا ہے، ساتھ ہی باہر کا شور اور ماحول کا درجہ حرارت کم کرتے ہوئےآسودگی وٹھنڈک بھی پیدا کی جاتی ہے۔

اہمیت

کسی بھی گھر میں لینڈ اسکیپنگ کرنے کی کئی مثبت وجوہات ہوسکتی ہیں، پھر بھی ہم میں سے کئی لو گ اس کواہمیت نہیں دیتے۔ اس حوالے سے کئی مشکلات کا ذکر کیا جاتا ہے جیسےوقت کی کمی، سجاوٹ اور صفائی کے لیے دوہری محنت، محدود بجٹ وغیرہ وغیرہ۔ تاہم اس سب کے باوجود ماہرین ہر گھرکے لیے لینڈ اسکیپنگ یا تھوڑی بہت باغبانی کو اہم قرار دیتے ہیں، آئیے جانتے ہیں کیوں۔

٭کوئی بھی شخص فطرت سے دور رہنا پسند نہیں کرتا۔ کنکریٹ کے فرش یا پتھریلی راہگزر کےبرعکس ہر شخص اپنے ارد گرد درخت اور پودوں کی موجودگی زیادہ پسند کرتا ہے۔ لہٰذا فطرت کے تحفظ اور توازن کو برقرار رکھنے کےلیے گھر میں لینڈ اسکیپنگ کرنا لازمی ہے۔

٭ لینڈ اسکیپنگ کے ذریعے قدرتی وسائل مثلاًمٹی ، پانی اور ہوا کا بہتر استعمال بھی یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

٭ لینڈ اسکیپنگ ایک طویل عرصے کی سرمایہ کاری ثابت ہوتی ہے اور یہ اس کا ایک اہم فائدہ ہے۔ اس کے ذریعے آپ کو نہ صرف خوشی، اطمینان اور راحت کا احساس ہوتا ہے بلکہ گھر بیٹھے تازہ پھل اور سبزیاں بھی کھانے کو مل جاتی ہیں۔

طریقہ

اگر آپ کا گھر کسی ڈھلوان سطح پر بنا ہوا ہے تو مٹی، پھسلن اور چٹانوں سے محفوظ رہنے کے لیے حفاظتی دیواروں کی تعمیر ایک بہترین آپشن ہے اور اگر گھر کے اردگرد بچے ہیں تو آپ نے یہ کام لازمی کرنا ہے۔ اسی طرح اگر آپ ماحول میں بڑھتی فضائی اور زمینی آلودگی سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنے صحن، آنگن یا گھر کے عقبی حصے میں لینڈ اسکیپنگ کرنا ہوگی کیونکہ کسی بھی ماحول میں رہائش پذیر ہونے سے قبل اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ آیا وہ ماحول آپ کے اور آپ کے اہل خانہ کیلئے محفوظ ہے یا نہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جگہ چھوٹی ہو یا بڑی ،لینڈ اسکیپنگ کیسے کی جائے؟ گھر کے بیرونی حصے میں لینڈ اسکیپنگ کے حوالے سےماہرین مختلف مشورے دیتے۔ پھول، پودے ، جھاڑیاں ، واک وے اور روشنی جیسے عوامل لینڈ اسکیپنگ کیلئے ضروری ہیں۔ لیکن ان عوامل میں سے کسی ایک کا انتخاب کسی بھی انسان کیلئے مشکل ہوسکتا ہے، لہٰذا درج ذیل مشورے آپ کیلئے سود مند ثابت ہوسکتے ہیں۔

٭ لینڈ اسکیپنگ کا پہلا اصول یہ ہے کہ آپ کے ذہن میں ایک واضح خاکہ موجود ہونا چاہیے۔ یہ خاکہ مختلف صورتوں میں ہوسکتا ہے جیسے گول، چوکور، بیضوی یا پھر لمبوترا۔ کسی دھاگے یا تار کی مدد سے خاکے کا تعین کرتے ہوئے فالتو گھاس کاٹ دیں۔ لازمی نہیں کہ مہنگی اور معیاری گھاس ہی آپ کے آنگن کو خوبصورت دکھا ئے، اس کے برعکس دکھنے میں خوبصورت، جلدی بڑھنے او ر سارا سال سبز رہنے والی گھاس کا انتخاب بہتر رہتا ہے۔ لیکن اگر آپ کو ایسا لگتا ہے کہ آپ گھا س کی دیکھ بھال نہیں کرسکتے تو آپ اپنے باغیچے کیلئے مصنوعی گھاس کا انتخاب کریں۔

٭ انٹرنیشنل گارڈنر اور لینڈ اسکیپسٹ باغبانی کیلئے نیلا پتھر بہترین قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نیلا پتھر نہ صرف لان کے حسن میں اضافہ کرتا ہے بلکہ اس کی قدروقیمت بھی بڑھا دیتا ہے۔ تاہم نیلا رنگ پسند نہ کرنے والے افراد بھورے، سرمئی یا پھر سفید پتھروں کے ذریعے بھی لینڈ اسکیپنگ کی منصوبہ بندی کرسکتے ہیں۔

٭ بارشوں کے موسم میں کیچڑ سے تحفظ یا چلنے پھرنے میں آسانی کیلئے واکنگ وے بنانا ضروری ہے۔ اس کیلئے پتھر، کنکریٹ، پتھر کنکریٹ مکس، اینٹیں اور گھر میں پڑا فالتو (Wasteمٹیریل استعمال کیا جاسکتا ہے۔

٭ صحن کے فرش کے لیےایسے مواد کا انتخاب کریں جو نہ صرف معیاری ہو بلکہ اس کی صفائی بھی آپ کے لیے آسان ہو۔

٭ پودوں کی بات کی جائے تو باغیچے کیلئے ایسے پودوں (Perennial Plants) کا انتخاب کیجیے ، جنھیں وافر مقدار میں پانی درکار نہ ہو اور وہ زیادہ عرصہ زندہ رہنے والے ہوں۔ طویل عرصہ زندہ رہنے والے پودوں میں دن کا راجا، سَلوِيا، صعتر (خوشبودار پتیوں والا پودا) اور کوراوپسس (پیلے اور سُرخ پُھول والا پودا) شامل ہیں۔

٭ لینڈ اسکیپنگ کے لیے پیچیدہ درختوں اور جھاڑیوں کا انتخاب کرنے سے گریز کیجیے۔ ان جھاڑیوں اور غیر منظم درختوں سے آپ ماحولیاتی فوائد حاصل نہیں کرپائیں گے۔ درختوں کے پتے متواتر جھڑنے سے آپ کو صفائی کے لیے بھی اضافی وقت درکار ہوگا۔

گھر پیارا گھر سے مزید