آپ آف لائن ہیں
بدھ21؍ذی الحج1441ھ12؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مخمل اور مخملی کے صیغے ہمارے شعرا اور ادباء نے اپنی تحریوں میں بھرپور معنویت اور استعارے کے سہارے کےطورپر استعمال کیے ہیں، جیسے کہ ایک شاعر کا کہنا ہےکہ

ؔچھالے تھے، انا تھی کہ وہ غیرت تھی، کیا تھا

جب فرش تھا مخمل تو تلوئوں میں چبھا کیا

عصر حاضر کو دیکھا جائے توہمارے ہاں مخمل یعنی ویلویٹ کے فرش، پردے اور دبیز و گداز صوفے نظر آنے لگے ہیں۔ سرد موسم میں تو ویسے بھی گھر میں مخملی اندازلئے کئی نئے آئیڈیاز پر عمل کیا جاتاہے۔ مخمل میں ٹاٹ کا پیوند تو شاید ناگوار گزرے لیکن اگر صوفوں پر یااس کے کسی حصےکو مخمل سے ڈھانپ دیا جائے تو اس سے صوفے کی شان بڑھ جاتی ہے۔

مخمل ہے کیا؟

زیادہ تر مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ لوگوں نے تیرہویں صدی کے آس پاس مشرق بعید غالباً چین میں مخمل تیار کرنا شروع کیا۔ اس کے بعد مخمل نے ایشیا میں شاہراہ ریشم کے ساتھ مغرب کا سفر کیا یہاں تک کہ وہ اٹلی پہنچا اور اطالوی نشاۃثانیہ کے دوران عروج پر پہنچا۔ سیدھے سادے بُنے ہوئے کپڑے (جیسے لیلن) کے برخلاف مخمل میں بہت زیادہ سوت کا استعمال ہوتا ہے اور بننے کے دوران یہ کئی مراحل سے گزرتا ہے۔کپڑے کی دو پرتیں (مخمل کسی بھی قسم کے سوت سے بنا ہوسکتا ہے) ڈبل ایکشن لوم پر جاتی ہیں اور اس کے دھاگے بالترتیب ایک دوسرے پر چڑھ کر سوت سے جُڑ جاتے ہیں۔ 

جب یہ لوم سےباہر آتاہے تو مختلف تہوں سے بنا کپڑا ہوتا ہے ،جس کا بالائی حصہ نرم و گداز ہوتاہے۔ سب سے مہنگی قسم کا مخمل ریشم سے تیار کیا جاتاہےاور یہ بہت بیش قیمت ہوتا ہے۔ ریشم کی قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے اکثر دیگر قدرتی ریشے مخمل بنانے میں زیادہ استعمال کیے جاتے ہیں ، جیسا کہ کپاس، لیلن، موہیر اور اون۔ ساتھ ہی مخمل بھی پولسٹر، ویسکوز، نائیلون اور ایسیٹیٹ سے بنے ہوئے ہو سکتے ہیں۔ آپ ہمیشہ وہ مخمل چنیں جو لچکدار اور قدرتی کپڑے کے مرکب سے تیار کیا گیا ہو۔ آئیں جانتے ہیںکہ مخمل کس طرح سے آپ کے گھر کی آرائش میں اضافہ کرسکتا ہے ۔

آرائش

مخمل چونکہ ایک موٹا اور بھاری کپڑا ہے، اگر یہ زمین پر بچھے تو جھلمل کرتے تالاب کی طرح نظر آتاہے۔ صوفے پر لگا ہو تو جھلملاتی تہیں سامنے لاتاہے۔ ہاتھ پھیریں تو جس طرف آپ کا ہاتھ جائے گا، اس کاشیڈ تبدیل ہوتا چلاجائے گا۔ اس کا گدازپن اور ہموار پن اسے بہترین انتخاب بناتاہے ۔

کچھ منفرد سوچیں

مخمل، حواس پر اچھا اثر ڈالتا اور زندگی میں بھرپور رنگت لاتا ہے۔ مخمل کے بارے میں سوچیں گے تواس کی کشش اور کثیرالجہت رنگت آپ کو اپنی جانب راغب کرے گی۔ مخمل شام کے وقت اور اندھیرے میں بھی بھلا لگتاہے۔ مخمل خود پر پڑنے والی روشنی کو90ڈگری کے ملٹی پل زاویوں پرگھما دیتا ہے اور عجیب سی نفاست یا شان پیدا کرتا ہے، اس قسم کے اسٹائل کے لیے شوخ مخمل (Bright Valvet) مشہور ہے۔

نیلا رنگ

فنکارانہ یا نقاشی والے پھولوں سےبنا وال پیپر ایک گہرے نیلے رنگ کے خوبصورت مخملی صوفے کو ایک دل آویز پس منظر فراہم کرسکتا ہے۔ اس میں مزید دلکشی پیدا کرنےکے لیے متضاد رنگ کا مخملی کشن ساتھ رکھ دیں۔ آپ ا س ماحول سے خوب لطف اٹھا ئیں گے۔

گلیمرس ٹچ

اگر آپ اپنے ڈرائنگ روم کی کرسیوں کی پشت یعنی بیک سیٹ کو امبرویلویٹ یعنی زرد رنگ کے مخملی کورز سے ڈھانپ دیں تو یہ ڈرائنگ روم کے اچھوتے اور دلکش انداز کو سامنے لائیں گے، ساتھ ہی سونے جیسے مخملی کشن سونے پر سہاگہ ثابت ہو ںگے۔

لگژری اسکیم

لگژری لُک کے لیے دیواروں اور فرنیچر پر ایک ہی رنگ کا شیڈ استعمال کریں جو نیلا یا سرمئی ہوسکتاہے۔ مخملی کپڑوں سے سجی کرسیاں اور پالش شدہ پیتل کی اشیا ایک خوبصورت اسکیم سامنےلاتی ہیں، جنہیں دیکھ کر نہ صرف سب چونک جائیں گے بلکہ آپ کے ذوق کی بھی داد دیں گے۔ اس اسکیم کو بیلنس کرنے کے لیےاگر آپ درج بالا ڈائننگ روم کی تھیم شامل کرلیںتو آپ کے گھر کو چار چاند لگ سکتے ہیں۔

پُرکشش لیئرز

آپ کے بیڈروم میں رکھے بیڈ پر اگر زردی مائل مخمل چڑھا دیا جائے تو اس سے آپ کو نرمی اور گرمی کا احساس ہوگا۔ ویسے بھی دو متضاد رنگ خود کو تو ایک دوسرے سے جُدا رکھتے ہیں، لیکن دلکش امتزا ج بناتے ہوئے گھر یا کمرے کی خوبصورتی کو یکجان کردیتے ہیں۔ کمرے میں بچھا قالین بھی اگر بیڈ کور جیسا ہو تو پھر آپ ایک پرفیکٹ بیڈ روم میں بھرپور لطف اٹھاسکتے ہیں۔ زردی مائل رنگ کے وال پیپرز اور کشنز اس تھیم میں اور بھی گرم جوشی پیدا کرسکتے ہیں۔