آپ آف لائن ہیں
بدھ21؍ذی الحج1441ھ12؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مقصد پر توجہ مرکوز رکھیں، کامیابی قدم چومے گی

حمیرا مختار

ایک استاد نے اپنے شاگردوں کو ایک ایک غبارہ دیا اور کہا کہ اس میں ہوا بھرو ۔جب تمام شاگرد اپنا اپنا غبارہ پھلاچکے تواستاد نے انہیں ہدایت کی سب اپنا اپنا غبارہ ایک دوسرے سے بچائیں کہ کوئی کسی کا غبارا پھا ڑ نہ سکے ،یہ سنتے ہی تمام طالب علموں نے اپنا غبارہ بچانے کے لیے دوسرے کا غبارہ پھا ڑنا شروع کردیا ۔کچھ ہی دیر میں تمام بچوں کے غبارے پھٹ کر ختم ہوچکے تھے ۔اب استاد نے کہا میں نے آپ لوگوں کو صرف اپنا غبارہ بچانے کے لئے کہا تھا نہ کہ دوسرے کا غبارہ پھاڑنے کے لیے۔

استاد نے تمام بچوں کو غور سے دیکھا اور بولے ، بچوں اگر آپ سب اپنی پوری توجہ صرف اپنا غبارہ بچانے پر مرکوزرکھتے توکسی کا بھی غبارا نا پھٹتا ۔فی زمانہ یہ ایک عام رویہ بن چکا ہےکہ ہم خود ترقی کرنے اور کامیابی حاصل کرنے کے لیے دوسروں کو گرانے اور پیچھے دکھیلنے کوہی عقل مندی اور ہوشیاری سمجھتے ہیں ،جبکہ اصل عقل مند اور ہوشیار انسان وہ ہے جو دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر صرف اپنے کام پر اپنی پوری توجہ مرکوز رکھے اور کامیاب بھی وہی ہوتا ہے جو پوری ایمانداری اور دیانت داری کے ساتھ محنت کرتا ہے ۔کسی دانش ور کا قول ہے کہ ’’ محنت اتنی خاموشی سے کرو کہ تمہاری کامیابی شور مچا دے ‘‘یعنی اپنی توجہ اور پوری صلاحیت صرف اپنے کام پر رکھی جائے ۔

اس سلسلے میں ہمیں اپنا مقصد بنانا چاہیے اور مقصد پوری زندگی کا نہیں بلکہ ہر ایک دن ، ہفتے ، مہینے اور سال کا ہوتا ہے،یعنی آج کا دن ختم ہونے تک مجھے یہ کام مکمل کرنا ہے، ایک ہفتے میں اس کام کی تکمیل کرنی ہے ،اس کام کو ایک مہینےتک مکمل کرناہے یا اس سال میں یہ اہداف حاصل کرنے ہیں ۔خود کو کوئی ہدف دینے یا کسی کام کی تکمیل میں مصروف ہونے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان چست اور توانا رہتا ہے ۔اس کی دماغی صلاحیتیں بھی نکھرتی ہیں اور اس کی سوچ کا دائرہ بھی وسیع ہوتا ہے ، انسان محنت کرنے کا عادی بھی ہو جاتا ہے ۔اس لیے اپنے لئے ہر روز کوئی مقصد کوئی ٹارگٹ ضرور مختص کریں۔

یاد رکھیں کامیابی صرف اللہ کی مدد اور اپنی محنت سے حاصل ہوتی ہے ۔دھوکا دینے والا چیٹنگ کرنے والا کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا ہاں وقتی طور پراسے کامیابی ضرور مل جاتی ہے لیکن وہ کامیاب انسان نہیں بن سکتا، کیونکہ ’چیٹنگ‘ کرنے والے کو کام چوری کی عادت پڑ جاتی ہے اور کام چور انسان محنت تو کجا کسی کام کی پلاننگ بھی نہیں کرسکتا اور پھر کام چوری کے اور بھی نقصانات ہیں جیسے کام چوری سست اور بیمار کردیتی ہے، انسان کے سوچنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہےاور کام چور جلد مایوس ہو جاتا ہے، سستی و کاہلی کو اپنے قریب نہ آنے دیں اور محنت اور سخت محنت کو اپنی عادت بنائیں۔

معروف لیکچرار قاسم علی شاہ کہتے ہیں کہ محنت کرنا بذات خود اللہ کا انعام ہے ۔محنت کا دیوانہ کامیابی کی دلیل ہے اور محنت کرتے رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ ایک دن ضرور کامیاب ہوں گے ۔اپنی محنت سے حاصل کی کامیابی کا نشہ ،اس کےسرور کا لطف ہی الگ ہوتا ہے ۔دوسروں کے غبارے پھاڑنے کے بجائے اپنے حصے کا کام دلجمعی سے کرنا اصل محنت ہے ۔پھر اس محنت کے بعد اگر رزلٹ آپ کی توقع کے مطابق نہ آئے تو مایوس ہو دلبرداشتہ ہونے کے بجائے اس بات پر غور کریں کہ ہم نے کب کہاں کیا غلطی کی ؟ ہم کس وقت کس چیز میں کم زور ہے ؟ جو ہمیں وہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی جو ہم حاصل کرنا چاہتے تھے ۔

یاد رکھیں انسان کی زندگی میں دو کام ہوتے ہیں یا تو وہ جیت جاتا ہے یا پھر سیکھ جاتا ہے ۔ ہارنا شرمندگی کی بات نہیں بلکہ ہارنے کے بعد اٹھ کھڑے ہونا اور اپنی غلطیوں سے سیکھنااصل بات ہے۔ آگے کے لیے لائحہ عمل طے کرنے والا کبھی ناکام نہیں ہو سکتا اور نا ہی کبھی فیل گا۔

دوستو !یہ دنیا ایک بازار کی طرح ہے، اس میں سے چاہیے کیا یہ فیصلہ ہمیں کرنا ہے اگر کوئی انسان کچھ خریداری کے لیےلیکن راستے میں بازار کی رونقِ اور گہماگہمی دیکھ کر اسی میں الجھ جائے اور یہ بھول جائے کہ وہ کیا لینے آیا تھا، تو یقینا ًوہ اپنے لئے کچھ خریداری نہیں کرسکے گا ۔بالکل یہی حال ان نوجوانوں کا ہوتا ہے جو اپنا ٹارگٹ اور اپنا مقصد تو بنا لیتے ہیں لیکن پھر اپنے دماغ کو دیگر کاموں میں الجھا لیتے ہیں اور اپنے مقصد کو پورا ٹائم نہیں دے پاتے۔

اس لئے وہ مقصد کے لئے وہ محنت نہیں کر پاتے جو کرنی چاہیے تھی،کیونکہ ان کا دماغ ، سوچ اوران کے خیالات اس مقصد پر فوکس نہیں کر پا رہے ہوتے ،نتیجتاً کامیابی حاصل نہیں ہو پاتی ۔ایک دانش ور کا قول ہے آپ وہی بنتے ہیں جو سارا دن آپ سوچتے رہتے ہیں ۔اس لیے اپنے مقصدکو اپنے اندر دہراتے رہیں ۔اس کے بارے میں جذباتی حد تک سوچیں،لیکن عصر حاضر کے نوجوانوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے اندر کی نہیں سنتے ،اپنی خواہشات اور ترجیحات کو سمجھ نہیں پاتے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ زندگی میں کچھ نہیں کر پاتے ،آخری بات، اگر آپ دنیا میں کچھ کرکے جانا چاہتے ہیں، تو وہ فصل بوئیں جو آپ کل کاٹنا چاہتے ہیں ۔دیانت داری ایمان داری کے ساتھ اپنا کام کرتے رہیں۔