آپ آف لائن ہیں
پیر12؍شعبان المعظم 1441ھ 6؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

یہ بات اب سب پر واضح ہوتی جا رہی ہے کہ ملک کی معیشت کو سنبھالا دینا موجودہ حکومت کے بس کی بات نہیں رہی۔ حالات روز بہ روز دگرگوں ہو رہے ہیں۔ اشیائے صرف کی قیمتوں میں خوفناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ ڈالر کی قیمت کسی طور کم نہیں ہو رہی، پٹرول کی قیمت میں آئے روز اضافہ ہو رہا، بےروزگاری پہلے سے کہیں بڑھ گئی، کاروبار ٹھپ ہو رہے ہیں، آٹے اور چینی کی قیمت نے عوام کا جینا دو بھر کر دیا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں پر ہونے والے تمام اخراجات روک دیے گئے ہیں۔ تعلیم اور صحت پر اخراجات منجمد کر دیے گئے ہیں۔ بجلی اور گیس کے نرخوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے۔ اسٹاک مارکیٹ میں اربوں ڈوب رہے ہیں۔ معیشت کا پہیہ جام ہو چکا اور ملک کی متوقع شرح ترقی دو فیصد رہ گئی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اس وقت افغانستان اور بنگلا دیش ہم سے زیادہ بہتر شرح نمو رکھتے ہیں۔ کوئی دن آتا ہے کہ ہم خبر سنیں گے کہ فلاں فلاں سرکاری ادارے اپنے ملازمین کی تنخواہ نہیں دے سکے۔

عمران خان کے سیاسی دوست جو انہیں اقتدار میں لانے کا سبب بنے اب خان صاحب سے ناخوش ہو رہے ہیں۔ اب انہیں خان صاحب کا لا ابالی پن کھلنے لگا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب سیاسی قیدیوں کی ضمانتیں اسی رفتار سے ہو رہی ہیں جس رفتار سے کبھی گرفتاریاں ہوا کرتی تھیں۔ دوسری جانب لندن میں ملاقاتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ بات چیت سے ایسا حل نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ جس سے سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ سازشی کہانی ساز آپ کو مارچ ، اپریل میں ان ہائوس تبدیلی اور سال کے اواخر میں الیکشن کی نوید سنا رہا ہے۔ پنجاب میں تحریک انصاف کے حامی اور مرکز میں اتحادی خان صاحب کو آنکھیں دکھا رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ کوئی دن آئے گا اور تحریک انصاف کی حکومت کا یہ مصنوعی طور پر بنایا ہوا ریت کا محل بکھر جائے گا۔

حکومتوں کے عروج و زوال کا کھیل دیکھنے والے آج کل دو سوالوں کا جواب تلاش کر رہے ہیں۔ عمران خان کو جتنی کم عددی برتری حاصل ہے اس کے نتیجے میں چند مہرے ادھر ادھر کرکے انکی حکومت گرانا ایک نہایت آسان کام ہے۔ اپوزیشن اسی لمحے کی تاک میں ہے لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان کو گرا کر کیا حاصل ہو گا؟ اگر مقصد صرف وزیر اعظم کے نام کی تبدیلی ہے تو یہ مقصد نہایت ناکافی ہے۔ اگر مقصد عمران خان کو وقتی شکست دینا ہے تو بھی یہ کوئی صائب بات نہیں۔ بند دروازوں کے پیچھے ہونے والی ملاقاتوں کے نتیجے میں حکومت تو چلی جائے گی مگر آنے والی حکومت بھی اسی خوف اور خدشے میں اپنا دور حکومت بسر کرے گی۔ عمران خان کی حکومت ختم ہو جائے گی مگر عمران خان کے لئے اس سے زیادہ مبارک بات کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔ معیشت کو جس بحران میں ڈال دیا گیا ہے اسکو درست کرنے کے بجائے اس سے جان چھڑا لی جائے تو بہتر ہے۔ اس طرح کے اقدام سے عمران خان سیاسی شہید بن جائیں گے۔

اس بات کو یوں سمجھئے کہ پیپلز پارٹی پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت تھی۔ انہوں نے دو ہزار آٹھ سے دو ہزار تیرہ تک حکومت کی۔ اس دور کو گورننس کے حوالے سے بدترین کہا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد عوام نے پیپلز پارٹی کو ایک صوبے کی دیہی آبادی کی جماعت بنا دیا۔ اس کا سبب یہی ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنے پانچ سال پورے کئے۔ خان صاحب کی حکومت جیسی بھی ہے اسکو بھی پانچ سال پورے کرنے چاہئیں تاکہ اگلے انتخابات میں عوام ان کا احتساب ووٹ کے ذریعے کر سکیں۔ اگر ایسا نہ ہوا اور ماضی کے ہتھکنڈوں کے ذریعے یہ حکومت ختم کی گئی تو سمجھ لیجئے کہ انیس سو اٹھاسی سے انیس سو ننانوے والا دور واپس آ جائے گا۔ پارٹیوں کی باریاں لگیں گی اور آخر میں کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔

دوسرا سوال جو پریشان کن ہے کہ موجودہ دور میں مضبوط معیشت اور سیاسی استحکام کسی بھی ملک کا پہلا دفاع ہوتا ہے۔ جس نہج پر حکومت معیشت کو لے آئی ہے اب اس سے استحکام پر بھی زد آ سکتی ہے۔ کمزور معیشتیں طاقتوروں کے لئےتر نوالہ ثابت ہوتی ہیں۔ اس بات پر بھی سوچنا چاہئے کہ اگر عمران خان کے پانچ سال پورے ہو گئے تو یہ نہ ہو کہ ملک کو کوئی ایسا نقصان پہنچ جائے جس کی تلافی نہ ہو سکے۔ اس لئے اب اپنی غلطیوں پر پشیمان حلقے کچھ جلدی میں ہیں۔ ایک نئی حکومت سے انکی غلطیوں کی پردہ پوشی ہو سکتی ہے۔ لیکن انائوں کا کھیل اب بھی جاری ہے۔ مسلم لیگ ن اب بالکل قابلِ قبول ہو چکی ہے۔ لیکن نواز شریف اور مریم نواز سے بغض اب بھی جاری ہے۔

سیاسی مسائل کا حل سیاست میں ہی پوشیدہ ہوتا ہے۔ جس مشکل میں اب ملک دھنس چکا ہے اس مشکل سے نکلنے کی واحد صورت یہ رہ گئی ہے کہ نئے الیکشن کروائے جائیں۔ لیکن نئے الیکشن تک پہنچنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ موجودہ اسمبلیاں توڑی جائیں۔ یہ اسمبلیاں کسی دبائو کی خاطر نہ توڑی جائیں بلکہ ملکی مفاد کو مدِنظر رکھ کر یہ فیصلہ کیا جائے۔ نئے الیکشن ہی مسئلے کا حل ہیں مگر ان الیکشن تک پہنچنے کا رستہ اگر جمہوری نہیں ہو گا تو اس سے ناقابلِ تلافی نقصان ہو گا۔ اس نازک موقع پر سیاسی جماعتوں یا غیر سیاسی حلقوں کی جانب سے کسی بھی غیرجمہوری طرزِ عمل سے مسئلہ سلجھے گا نہیں بلکہ مزید الجھے گا اور پھر یہاں ہر روز ہیرو ، ولن بنے گا اور ولن ، ہیرو بنتا رہے گا۔ سمجھ لیجئے کہ یہ تماشا چہرے بدل کر چلتا رہے گا۔

تازہ ترین