آپ آف لائن ہیں
اتوار11؍شعبان المعظم 1441ھ 5؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
  • کھیل ابھی ختم نہیں ہوا، ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں
  • سچ ہے کہ درویش کا رستہ عِلّت، قلّت اور ذلّت سے ہو کر گزرتا ہے
  • اِک دَربدر، خاک بسر… اور عشقِ مجازی سے عشقِ حقیقی تک کا سفرِ مسلسل

بھیڑ چَھٹی تو وہ ٹھیک میرے سامنے کھڑے تھے۔ ’’آگئے تم… اس بار بہت انتظار کروایا تم نے عبداللہ میاں…‘‘ وقاص نے اُن کی زبان سے میرے لیے عبداللہ کا لفظ سُنا، تو تڑپ کر میری طرف پلٹا ’’تم…‘‘ مگر میری نگاہیں تو اُسی شفیق سراپے میں گڑی ہوئی تھیں اور پھر یکایک میرے صبر کے سارے بند ایسے ٹوٹے کہ سب جل تھل ہوگیا۔ مَیں تڑپ کر اُن کے سینے سے جا لگا۔ رو رو کر میری ہچکیاں بندھ گئیں۔ سارے مجذوب، مجاور ہکّا بکّا سے کھڑے یہ سارا ماجرا دیکھ رہے تھے۔ وہ مجھے تسلّی دیتے رہے ’’چلو اب بس کرو رونا۔ سارے آنسو آج ہی بہا دو گے کیا؟ ابھی زندگی پڑی ہے، ان آنسوئوں کو آگے کے لیے سنبھال رکھو۔ 

کام آئیں گے تمہارے۔‘‘ وہ مجھے تھپکتے رہے۔ مَیں نے اُن کی طرف دیکھا۔ ’’آپ کہاں چلے گئے تھے مجھے چھوڑ کر حاکم بابا، سلطان بابا کے جانے کے بعد آپ نے پلٹ کر کبھی میری خبر ہی نہیں لی۔ مَیں کتنا تنہا ہوگیا تھا، اُن کے بغیر۔ آپ نے کبھی پوچھا تک نہیں…‘‘ سب خبر تھی مجھے تمہاری، بہت لمبا جوگ کاٹ کر آرہے ہو تم۔ بڑی تکلیف اٹھائی ہے تم نے… سات سال کا بن باس کم نہیں ہوتا، مگر تم نے نبھا ڈالا۔ اور میرا تمہارا یہیں ملنا طے تھا۔ وہ کیا کہتے تھے سلطان بابا ’’جب جب جو جو ہونا ہے، تب تب سو سو ہوتا ہے‘‘ اور تم سے زیادہ بھلا اس بات کو اور کون سمجھتا ہوگا، مگر یاد رکھو، کھیل ابھی ختم نہیں ہوا؎، ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔‘‘ مَیں نے حاکم بابا کو کتنے سال بعد دیکھاتھا، یہ اب مجھے خود بھی یاد نہیں تھا۔ مگر وہ ہُو بُہو سلطان بابا کی طرح دکھائی دینے لگے تھے۔

اسی لیے جب کمال صاحب نے نواب پور میں مجھے اُن کا حلیہ بتایا، تو میں یہی سمجھا کہ جیسے وہ سلطان بابا ہی ہوں گے۔ اور یہاں وقاص اور دیگر مجاور بھی انہیں سلطان بابا کے نام ہی سے پُکار رہے تھے۔ گویا سلطان بابا کے جانے کے بعد اُن کا عہدہ اب حاکم بابا نے سنبھال لیا تھا۔ عبداللہ، ناظم، حاکم اور سلطان… یہ سب اس متوازی دنیا کے عُہدے ہی تو تھے اور مجھ جیسے تو شاید اپنی پوری زندگی عبداللہ کے ابتدائی درجے کی رمز سمجھنے ہی میں بِتا دیتے ہیں، مگر پھر بھی ’’عبداللہ‘‘ نہیں بن پاتے۔ وقاص ابھی تک حیرت کے جھٹکے سے باہر نہیں نکلا تھا۔ حاکم بابا نے اُسے اور مجھے رات کے کھانے کے بعد حُجرے میں بلالیا۔ ’’بھئی اب تم دونوں بھی ایک دوسرے سے اپنا مکمل تعارف کروا ہی دو، ساحر اور وقاص کی پہچان سے باہر نکل آئو۔‘‘ پھر حاکم بابا نے خود وقاص کو میری کہانی مختصر سُنا دی اور وہ دَم سادھے بیٹھا سُنتا رہا۔ 

حاکم بابا نے اپنی بات ختم کی، تو کمرے میں بہت دیر تک سنّاٹا طاری رہا۔ پھر بابا ہی نے خاموشی توڑی اور وقاص سے کہا ’’مَیں نے تمہیں یہ آپ بیتی اس لیے سُنائی ہے کہ تمہیں اس رستے کی مشکلات اور خاردار راہوں کا اچھی طرح اندازہ ہوجائے۔ تمہارے پاس اب بھی وقت ہے۔ تم چاہو، تو واپس لوٹ جائو۔ آگے کا سفر اور بھی مشکل ہوگا۔‘‘ وقاص نے بابا کے ہاتھ پکڑ کر چُوم لیے ’’نہیں، سلطان بابا… عبداللہ کی آپ بیتی سُن کر میرے اندر کا یقین اور بھی پختہ ہوگیا ہے کہ یہی راستہ مجھے میری منزل تک لے جائے گا۔ آپ حُکم کریں، مجھے آگے کیا کرنا ہے…؟‘‘ حاکم بابا نے سامنے پڑی ایک بند پرچی اٹھائی اور وقاص کے ہاتھ میں تھمادی۔ ’’اس پرچی پر تمہاری نئی تعیناتی کی جگہ کا نام درج ہے۔ 

تم صبح وہاں کے لیے رختِ سفر باندھ لینا۔ یہاں بڑے عبداللہ کی تعیناتی ہوگئی ہے، یعنی ساحر میاں کی۔‘‘ مَیں نے چونک کر بابا کی طرف دیکھا۔ گویا مَیں یہاں آیا نہیں تھا، بلایا گیا تھا۔ اور یہ بلاوا جیل سے فرار کے وقت ظہیر کی زبانی مجھ تک پہنچا تھا۔ یا شاید کرمے کی بیرک میں بند ہوتے وقت… یا شاید اُس سے بھی پہلے جب سَنی کے قتل کے الزام میں مجھے اس جیل میں ڈالا گیا۔ سب کچھ پہلے سے طےتھایا بقول حاکم بابا یہ سارا سفر ایک آزمائش تھی، جس سے مجھے ہر حال میں گزرنا ہی تھا۔ اور انہی کے بقول ابھی میرا امتحان ختم نہیں ہوا تھا۔

اگلی صبح وقاص ہم سب سے رخصت ہو کر اپنی نئی منزل کی طرف کُوچ کرگیا اور اس کے حصّے کی خدمت میرے ذمّے آگئی۔ تبھی بڑی سرکار کا نمائندہ منشی ایک لمبی سی فہرست لیے میرے پاس چلا آیا ’’وہ سائیں جی… بڑی سرکار نے یہ لسٹ بھیجی ہے، آپ دیکھ لیں ذرا۔ کوئی کمی بیشی ہو، سامان میں تو ابھی بتادیں تاکہ میں شام تک وہ بھی بھجوادوں۔‘‘ ’’ٹھیک ہے، مَیں دیکھ کر بتاتا ہوں۔‘‘ مَیں یہ کہہ کر مُڑنے لگا، تبھی حاکم بابا بڑی سرکار کے دوسرے منشی سے باتیں کرتے دکھائی دئیے۔ ’’اچھا ٹھیک ہے، تم اپنی مالکن کو تسلّی دینا اور یہ بھی کہہ دینا کہ دُعا کے لیے کسی مقام تک پہنچنا ضروری نہیں ہوتا۔ میرا رب بڑا کریم ہے۔ 

دل سے مانگی دُعا ہزاروں میل دُور سے بھی اثر کرتی ہے، مگر اُن کی یہی ضد ہے، تو مَیں آجائوں گا کسی دن۔ برسی کب ہے تمہارے چھوٹے مالک اور اُن کےچھوٹے بیٹے کی…؟‘‘ منشی نے سر جھکا کر ادب سے جواب دیا ’’اس ہفتے، جمعرات کے دن بڑے سائیں جی۔‘‘ حاکم بابا کے اطمینان دلانے پر بڑی حویلی کے ملازم سلام کرکے پلٹ گئے۔ مَیں جانے کس سوچ میں وہیں کھڑا غور سے حاکم بابا کی طرف دیکھتا رہا۔ تبھی ان کی نظر مجھ پر پڑی، تو مَیں ہڑبڑا سا گیا۔ وہ میری چوری پکڑے جانے پر مُسکرا دئیے، ’’کیا سوچ رہے ہو، یہی ناں کہ مَیں حاکم سے سلطان ہوگیا اور تم وہی نِرے عبداللہ ہی رہے۔ 

بڑے نالائق نکلے، ہے ناں…‘‘ مجھے بھی ہنسی آگئی۔ ’’نہیں… نہ آپ کے سلطان بننے پر شک ہے، اور نہ ہی اپنے عبداللہ رہنے پر کوئی اعتراض… بس، مجھے آپ کو دیکھ کر سلطان بابا کی بہت یاد آرہی ہے، بار بار ذہن بھٹک جاتا ہے۔‘‘ وہ میرے قریب آئے اور میرے شانے پر اپنا ہاتھ رکھ دیا ’’مَیں جانتا ہوں تمہاری ہر الجھن کو… واقعی، میرے اور تمہارے سلطان تو بس وہی ایک تھے۔ اور تم اپنے ذہن کو اتنا نہ الجھایا کرو، تمہارے لیے میں آج بھی وہی حاکم بابا ہوں اور تم مجھے اُسی نام سے پکارا کرو۔‘‘ وہ پلٹ کر جانے لگے، مگر پھر کچھ سوچ کر رُک گئے ’’اور ہاں… یاد رکھو، یہ دنیاوی رُتبے، عُہدے اور اعزاز بس اِسی دنیا تک محدود ہیں۔ اوپر والے کا ترازو تو صرف اُس پلڑے کی طرف جُھکتا ہے، جہاں تقویٰ زیادہ ہو اور کون جانے اُس کے نزدیک باہر دروازے پر بیٹھا وہ فقیر یا تپتی دوپہر میں سڑک کے پتھر کُوٹتا کوئی مزدور زیادہ متقّی ہو۔ دُعا کرو، وہ ہم سب کا پردہ رکھے۔‘‘

مزار پر عرس کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہوچُکی تھیں۔ رات تک تمام سجاوٹ کا سامان بھی ٹھیکے دار نے پچھلے احاطے میں اُتروا دیا۔ رات کو اچانک حاکم بابا کو جیسے کچھ خیال سا آیا۔ ’’سُنو عبداللہ میاں! صبح بڑی حویلی سے پانی بھیجا تھا اُن کی مالکن نے دَم کے لیے۔ مَیں رات کو پڑھ کر پھونک دوں گا۔ تم صبح کسی مجاور کے ساتھ جاکر دے آنا۔ میرا نکلنا کچھ مشکل ہے۔ پہلے یہ کام وقاص میاں کے ذمّے تھا۔ اب کچھ عرصہ یہ ڈیوٹی تمہیں انجام دینی ہوگی۔‘‘ ’’جی بہتر… میں فجر کے بعد لے جائوں گا۔‘‘ مَیں حجرے سے باہر صحن میں نکل آیا۔ آسمان پر کچھ شریر بادلوں کے ٹکڑے چاند کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہے تھے، پر وہ لاکھ چاند سے چُھپتے، چاند کہیں نہ کہیں سے انہیں ڈھونڈ کر چُھو ہی لیتا۔ پھر چاند کے چُھپنے کی باری آتی۔ وہ کسی سنگی ساتھی بادل کے اوٹ میں جاکر چُھپ جاتا۔ مگر بھلا چاند اور چاندنی بھی کسی سے چُھپ پائے ہیں۔ 

بادل شور مچاتے ہوئے آتے اور چاند کو دبوچ لیتے۔ مَیں بہت دیر تک یہ کھیل دیکھتا رہا۔ ہر آہٹ پر مجھے یوں محسوس ہوتا کہ شاید سارنگا کا کوئی پیغام بَر ظہیر یا کندن کی کچھ خبر لے کر آیا ہوگا۔ یونہی سوتے جاگتے صبح ہوگئی اور فجر کی نماز کے بعد حاکم بابا نے پڑھا ہوا پانی دے کر دو فقیر میرے ساتھ بڑی حویلی تک رہنمائی کے لیے روانہ کردئیے۔ ہم تینوں جب شہر کی فصیل سے اندر داخل ہوئے، تو دھوپ کی پہلی کرنیں منڈیروں کو چُوم رہی تھیں۔ بڑی سرکار کی حویلی بازار سے کچھ پرے اور رہائشی علاقوں سے ہٹ کر ایک بڑے عظیم الشّان قلعے کی مانند وسیع و عریض میدان میں تنہا کھڑی تھی۔ 

اونچی فصیلیں، چمکیلے برج، دیوہیکل چوبی دروازے، ڈیوڑھیاں اور غلام گردشیں۔ بیرونی دیواروں میں بنے اونچے روشن دان اور اندر صحن کی چار دیواری میں چُنی بہت سی کھڑکیاں۔ ایک جانب چھوٹے صحن میں کچھ مور پَر پھیلائے کھڑےحیرت سے ہمیں دیکھ رہے تھے۔ مَیں دروازے ہی سے اُن کی امانت پکڑا کر واپس لوٹ جانا چاہتا تھا، مگر دربان کو جب پتا چلا کہ ہمیں حاکم بابا نے بھیجا ہے، تو وہ بِنا کچھ بات کیے ہی اندر بھاگ گیا اور کچھ ہی دیر میں ہمیں اندر آنے کا حکم مل گیا۔

بیرونی احاطے سے ہم اندرونی صحن میں داخل ہوئے، تو دائیں جانب ایک شان دار اصطبل دکھائی دیا، جہاں حویلی کے رکھوالے اور سائیس اعلیٰ نسل کے گھوڑوں کی نہلائی اور مالش میں مصروف تھے۔ صبح کی اُجلی دھوپ گھوڑوں کی چمکیلی جِلد سے ٹکرا کر مزید سنہری ہوئی جاتی تھی۔ اگلے ہی لمحے کچھ ٹرینر چند سدھائے ہوئے، مگر خون خوار شکاری کتّوں کی ایک ٹولی کو صبح کی ٹہلائی کے بعد واپس لاتے دکھائی دئیے۔ کتّوں کی لمبی زبانیں ہانپنے کی وجہ سے باہر لٹک رہی تھیں۔ وہ اجنبیوں کو دیکھ کر شدید غرّانے اور بھونکنے لگے اور ان کی رال ٹپکاتی تھوتھنیاں اور زہریلے لمبے دانت ہماری جِلد میں پیوست ہونے کے لیے مچلنے لگے۔ 

قیمتی شان دار گھوڑے، اعلیٰ نسل کے کتّے اور نئی امریکن شکاری جیپیں، اس احاطے کی ہر شے سے ’’شوقِ امارات‘‘ جھلک رہا تھا، اور نوکروں کی آپس میں بات چیت سے یہ بھی پتا چل رہا تھا کہ یہ سب ان کے سائیں سکندر کے مشاغل تھے۔ رئیس اور جاگیردار گُھڑ سواری نہ کریں اور دن بھر شکار نہ کھیلیں، تو پھر اور کیا کریں؟ وقت کاٹنے کے لیے بہرحال کچھ تو مشغلہ ضروری ہے۔ اور اُس سے زیادہ امیر بھلا اور کون ہوگا، جسے وقت کاٹنے کےلیےکسی مصروفیت یا دل پسند مشغلے کی ضرورت ہو اور وہ اُسے میسّر بھی ہو۔ مَیں انہی سوچوں میں گُم تھا کہ اندر سےبتیس پینتیس برس کاایک جوان شخص حویلی کےبیرونی احاطے میں عربی گھوڑے پر سوار آندھی طوفان کی طرح داخل ہوا۔ 

آس پاس خدمت گاروں کی فوج اور اسی طرح کے شکاری کتّوں کی ایک ٹولی اور ان کے راکھے بھی ساتھ ساتھ دوڑتے، دھول اُڑاتے آتے دکھائی دئیے۔ کسی نے پیچھے سے آواز لگائی۔ ’’ایک طرف ہوجائو جوگیو! سکندر سائیں آرہے ہیں۔‘‘ ہم تینوں ایک جانب ہوگئے۔ سکندر کے چہرے پر نوک دار مونچھیں بہت بھلی لگ رہی تھیں اور اُس نے لمبے بُوٹوں کے ساتھ کلف لگا روایتی لباس پہن رکھا تھا۔ گھوڑے سے اُترتے ہوئے اُس نے ایک نخوت بھری نگاہ ہم پر ڈالی۔ ’’یہ فقیر یہاں کھڑے کیا کررہے ہیں اتنی صبح… کچھ دے دلا کر رخصت کرو انہیں۔‘‘ منشی نے جلدی سے آگے بڑھ کر ادب سے کہا ’’شالا جیویں سائیں… وہ انہیں بڑی سرکار نے بلایا ہے۔ بڑی درگاہ سے آئے ہیں یہ جوگی سائیں۔‘‘ سکندر کا موڈ مزید خراب ہوگیا۔ ’’ایک تو یہ ماں جی بھی ناں… پتا نہیں کیوں اِن بھکاری، ملنگوں اور فقیروں کے چکّر میں الجھی رہتی ہیں ہر وقت۔ 

یہ اتنے پہنچے ہوئے ہوتےتو آج اس حال میں نہ ہوتے۔ ان کو جو چاہیے، یہیں سے دے کر فارغ کرو… اور دوبارہ میں انہیں یہاں نہ دیکھوں۔‘‘ منشی نے گڑبڑا کر ہماری طرف دیکھا۔ میرے ساتھ آیا ایک مجذوب یہ سُن کر جلال میں آگیا اور زور سے بولا۔ ’’سچ ہے کہ درویش کا راستہ عِلّت، قلّت اور ذلّت سے ہوکر گزرتا ہے… لڑکے! تمہارے پاس جو تھا، وہ تم نے بانٹا۔ جو ہمارا نصیب تھا، وہ ہمیں ملا۔‘‘ یہ کہہ کر فقیر ایک جھٹکے سے مُڑا اور مَیں نے بھی ان دونوں کی تقلید میں قدم بڑھا دئیے۔

سکندر کو شاید اپنی ہی جاگیر میں کسی مفلوک الحال فقیر سے ایسے جواب کی توقع نہیں تھی۔ وہ غصّے میں تڑپ کر پلٹا، مگر تب تک ہم احاطے سے باہر نکل چُکے تھے۔ مَیں نے واپسی پر دَم کیا ہوا پانی گیٹ کے دربان کو پکڑا دیا کہ وہ اسے اپنی مالکن تک پہنچا دے۔ مزار پہنچے تو حاکم بابا صحن ہی میں بیٹھے اپنے ہاتھ میں پکڑی لکڑی کی بڑی سی تسبیح پھیرتے نظر آئے۔ جلالی مجذوب کے تیور دیکھ کر اُن کے ہونٹوں پر مُسکراہٹ آگئی ’’بہت غصّے میں ہو رجب علی… اپنے اندر بھڑکتی اس دھونکنی کو کبھی سرد بھی پڑنے دیا کرو۔‘‘ رجب علی نامی فقیر نے ہاتھ جوڑ دئیے۔ ’’ابھی بہت کچّا ہوں مرشد سلطان… کوئی باہر سے کوئلہ ڈالے، تو تپ جاتا ہوں۔ آپ کو سب خبر ہے، لیکن پھر بھی چُپ چاپ پلٹ آیا ہوں۔‘‘ حاکم بابا پھر مُسکرائے۔ ’’جاکر ٹھنڈا پانی پی لو… تمہاری جلدبازی نے آج کسی سے، کسی کی ملاقات ٹال دی۔ چلو خیر، جو ہوا، سو ہوا۔ 

جائو جاکر آرام کرو۔‘‘ مَیں اُن دونوں کی اس مشکل گفتگو سے کچھ اخذ نہیں کرسکا۔ جانے حاکم بابا کس ملاقات کا ذکر کررہے تھے، کہیں وہ ظہیر کی مجھ سے ملاقات کا اشارہ تو نہیں دے رہے تھے۔ میرے ذہن میں گرہیں بڑھتی گئیں۔ مگر اس سے پہلے کہ میں حاکم بابا سے کچھ پوچھتا۔ بیرونی دروازے پر ہلچل سی مچ گئی۔ اور کچھ ہی دیر میں بڑی سرکار گھبرائی اور ہڑبڑائی سی اپنی کچھ خاص نوکرانیوں کے ساتھ اندر داخل ہوئیں۔ پریشانی اُن کے چہرے سے جھلکتی دُور سے دکھائی دے رہی تھی۔ انہوں نے آتے ہی حاکم بابا کے سامنے ہاتھ جوڑ دئیے ’’معاف کرنا سائیں جی۔ میرا بڑا بیٹا بہت اَتھرا، ضدی اور منہ پھٹ ہے۔ جیسے ہی مجھے پتا چلا کہ اس نے گھر آئےجوگی سائیوں کےساتھ زبان درازی اور بدتمیزی کی ہے، مَیں دوڑی چلی آئی۔ اِس ماں کی خاطر اِس کے بچّے کو معاف کردیں۔ 

بہت سمجھاتی ہوں مَیں اُسے۔ مگر اُسے ان سب معاملات پر یقین نہیں ہے۔ دُعا کریں کہ اُس کا دل بھی بدل جائے۔ تعظیم کا سلوک بھر جائے اُس کے اندر بھی…‘‘ حاکم بابا نے سراٹھا کر بڑی سرکار کی طرف دیکھا۔ ’’ٹھیک ہی تو کہتا ہے وہ۔ اگر یہ جوگی فقیر اتنے ہی کرامت والے ہوتے، تو خود اپنے حالات نہ بدل لیتے۔ یوں دَربدر نہ بھٹکتے پھرتے۔‘‘ بڑی سرکار کا رنگ پیلا سا پڑ گیا۔ ’’آپ کو ہمارے سب معاملات کا پتا ہے سائیں جی… اُس کی گستاخی معاف کردیں۔ بہت ڈانٹا ہے مَیں نے اُسے… ناراض ہوکر آئی ہوں اُس سے۔ اور جب تک وہ درگاہ کے فقیروں سے معافی نہیں مانگے گا، مَیں بھی اُسے معاف نہیں کروں گی۔‘‘ حاکم بابا مُسکرائے ’’ایک ماں اپنے بیٹے سے کبھی ناراض نہیں ہوسکتی، جانتا ہوں۔ تم بھی مجبور ہو… چلو جانے دو… بیٹے پر سختی نہ کرو۔ عزّت اور احترام دل سے ہوتا ہے، زبان سے نہیں۔ اور فقیر کبھی کسی سے ناراض نہیں ہوتے۔ یہ دنیا ہی فقیروں سے ناراض رہتی ہے۔‘‘ بڑی سرکار کچھ دیر پشیمان سی بیٹھی رہیں اور پھر واپس پلٹتے ہوئے دو لمحے کو رُکیں۔ ’’آتی جمعرات میرے چھوٹے بیٹے کی برسی ہے سائیں جی… سکندر کی بدتہذیبی کے بعد اب تو میں شرم کے مارے آپ کو گھر بلاوے کا پیغام بھی نہیں دے سکتی۔ مگر مَیں اپنی نوں (بہو) کو لے کر آئوں گی مزار پر نذر نیاز کے لیے… بڑی صبر والی اور شاکر بچّی ہے۔ وہ چاہتی تو عدّت کے بعد اپنے ماں باپ کے گھر واپس جاسکتی تھی۔ 

یہ حق بھی تھا اُس کا اور اختیار بھی، مگر صرف میری خدمت کے لیے وہ واپس نہیں پلٹی۔ اب تو میرے سکندر کے دونوں بچّے بھی اُس کے بغیر ایک پَل چین سے نہیں بیٹھتے۔ آپ دعا دو گے اُسے، تو میرا دل بھی ہلکا ہوجائے گا…‘‘ بڑی سرکار اپنی آنکھوں سے چھلکتے آنسو چُھپا کر وہاں سے آگے بڑھ گئیں۔ مَیں سارنگا کی طرف سے کسی پیغام کا انتظار ہی کرتا رہا اور جمعرات بھی آگئی۔

ایک عجیب سی بےچینی میرے رگوں میں یوں دوڑتی پِھر رہی تھی، جیسے کسی اَن ہونی کا ظہور بالکل سر پر ہو۔ عصر کے بعد بڑی سرکار کی حویلی سے شان دار کھانا اور دیگر نذر بھی پہنچ گئی۔ یوں لگتا تھا، جیسے آج بڑی حویلی والے اپنی تمام عُمر کی نذر اور نیاز ایک ہی دن میں لُٹا دیں گے۔ کچھ دیر میں بڑی سرکار کی آمد کی اطلاع بھی مل گئی۔ مَیں بھی دیگر فقیروں کے ساتھ حاکم بابا کی ہدایت کے مطابق ایک قطار میں سر جُھکائے بیٹھا رہا۔ مزار کے صحن میں دو قطاریں آمنے سامنے بنائی گئی تھیں، جن میں بیٹھے جوگی ملنگوں کو بڑی سرکار اور اُن کی بیوہ مگر باپردہ بہو کپڑے لتّے، راشن اور جانے کیا کیابانٹ رہی تھیں۔ 

دونوں کے ساتھ کچھ نوکرانیاں اور مُنشی بھی تھے، جو الگ الگ قطاروں میں تحائف تقسیم کررہے تھے۔ بڑی سرکار میری قطار کےمخالف بنی قطار میں جب کسی کو کچھ دیتیں، تو دُعا کی درخواست بھی کرتیں، جب کہ میری قطار اُن کی بہو کے حصّے میں تھی، جو چُپ چاپ یہی عمل جاری رکھے ہوئے تھی اور دھیرے دھیرے نذر نیاز کا عمل آگے بڑھ رہا تھا۔ اچانک تیز ہوا چلی اور مٹّی کے ایک بگولے نے صحن کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سامان بکھرنے سے بچانے کی کوشش میں افراتفری سی مچ گئی اور تبھی ایک بہت مانوس سی خوشبو نے میرے اندر بھی ایک طوفان سا برپا کردیا۔ مَیں نےگھبراکرسر اٹھایا۔ بڑی سرکار کی بہو سیاہ شال میں خود کو لپیٹے اور چہرہ چُھپائے مجھے کچھ بانٹنے کے لیے میرے قریب پہنچی، تو ہماری نظر ملی اور پَل بھر میں سب بھسم ہوگیا۔ مَیں حجاب سے جھانکتی وہ دو آنکھیں کیسے بھول سکتا تھا۔ میرے سامنے زہرا کھڑی تھی۔ (جاری ہے)

سنڈے میگزین سے مزید