آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل30؍ جمادی الثانی 1441ھ 25؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پوسٹ بریگزٹ برطانیہ پر ایک نظر

روز آشنائی … تنویرزمان خان، لندن
برطانیہ میں 31جنوری سے یورپی یونین چھوڑنے کے بعد بڑی بڑی تبدیلیاں رونما ہونے کو ہیں۔ تجارتی مارکیٹ میں ایک خاموش طوفان پک رہا ہے۔ کیا ٹریڈ ہوگی، کون سےنئے ٹیکس عائد ہوںگے۔ کسٹم ڈیوٹی اور دیگر سرچارج کس طرح کے ہوںگے۔ ہر چیز میں تھرتھراہت ہی نہیں بھونچال کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ امیگریشن کے قوانین اب کیا ہوجائیں گے۔ اس پر برطانیہ میںقیام یا برطانیہ آنے والے سیاح یا کاروباری حضرات اور ملازمت پیشہ لوگ دنیا بھر میں نئے امیگریشن قوانین اور پالیسی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ادھر آئر لینڈ والے سہمے ہوئے ہیں کہ ان کا دونوں آئر لینڈز کے درمیان نہ جانے کیا رشتہ بندھنے جارہا ہے لیکن ایک بات ضرور ہے اس سارے کھیل میں بڑے سرمایہ دار کے لئے نہ تو پریشانی والی کوئی بات ہے نہ فکر والی لیکن جس طرح سرمایہ دار کا کوئی ملک نہیںہوتا بلکہ اسے جہاں زیادہ منافع نظر آتے وہیں ڈیرے ڈال لیتا ہے اسی طرح نہ ہی اس کا کوئی کلچر ہے اس کی ہر چیز اس کے منافع اور دولت کی ملکیت کے ساتھ جڑی ہوئی ہوتی ہے۔ چلیں ان تینوں پوسٹ بریگزٹ رونما ہونے والی تبدیلیوں کا ذرا تفصیل سے جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس وقت میں جون 2016 کے بریگزٹ پر ریفرنڈم سے لیکر 31 جنوری کو ای یو سے نکلنے تک کے ساڑھے تین سال کے عرصے میں جو

کچھ ہوا۔ اس کا تو جائزہ نہیں لینا چاہتا۔ البتہ آج صرف آئندہ کچھ رونما ہونے کی توقع ہے۔ اس پر ذرا مختصر سی بات کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہم روز اول سے کہتے چلے آرہے ہیں کہ بریگزٹ کے بعد برطانیہ ایک غیر یقینی صورتحال میں داخل ہوجائے گا۔ آج امیگریشن کے حوالے سے یہی صورتحال ہےکہ کوئی واضح پالیسی نظر نہیں آرہی جب بریگزٹ کا عوامی فیصلہ ہوا تھا تو اس وقت ای یو سے نکلنے کیلئے بنیادی وجہ امیگریشن کو ہی بنایا گیا تھا اور اپنے بارڈر پر برٹش کنٹرول کو بڑھانے کی باتیں ہورہی تھیں جس کی وجہ سے نہ صرف برطانیہ میںنسل پرست کافی بے باک ہوگئے تھے۔ بلکہ برطانیہ میںنسل پرستوں کے حملوں میں اضافہ بھی ہوگیا تھا۔ اب بریگزٹ کے بعد برطانیہ سے لاکھوں یورپی تو اپنے ملکوں میںواپس چلے گئے ہیں جس کی وجہ سے برطانیہ کی لیبر مارکیٹ میں خاص لیبر فورس کی کمی محسوس کی جارہی ہے۔ اب برطانیہ میں بورس جانسن امیگریشن پالیسی میں آسٹریلین ماڈل کو اپنانے کی تجویز پیش کررہا ہے۔ جس کے تحت پوائنٹ سسٹم کا اطلاق کیا جائے گا یعنی زبان پر عبور، ہنر، تجربہ اور عمر کے حوالے سے کسی بھی برطانیہ آنے کے خواہشمند کو پوائنٹ دیئےجائیںگے اور درخواست دینے والوں کی فیسوں میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا جائے گا۔ برطانوی حکومتیں اور یہاں کی ایلیٹ ELITE سمجھتی یا عوام میں تاثر دینے کی کوشش کرتی رہتی ہے کہ مہاجر اور سیاسی پناہ والے ان کے طرز زندگی کے خلاف ہیں اور اس طرز زندگی کیلئے خطرہ ہیں۔ یہ ایک پاپولسٹ نعرہ ہے اور برطانوی اور یورپی معاشروں کو اصل خطرہ ہی ان Populistsسے ہےجو اپنی عارضی مقبولیت کو برقرار رکھنے کیلئے اینٹی سمٹ ازم، اسلامو فوبیا جسےنسل پرست نعرے لگوا کرسوسائٹی کو تنگ نظری اور عدم برداشت کی طرف دھکیلتے ہیں ۔اب ہم اگر تجارتی پالیسی کی طرف دیکھیں تو برطانیہ کے ہاتھ میں بریگزٹ کے بعد کوئی واضح پالیسی نہیں ہے۔ اس لئے کئی ترجیحات پر کام ہورہا ہے۔ سب سے پہلے تو ان کی کوشش ہے کہ ای یو کے ساتھ فری ٹریڈ ڈیل ہوجائے یعنی کوئی ٹیکس اور ٹیرف کا اطلاق نہ ہو اور برطانیہ اسی طرح اسی کے ساتھ ٹریڈ کرتا رہے جیسا کہ بریگزٹ سے پہلے تھا۔ جس کا حصول مشکل دکھائی دیتا ہے۔ یورپ والے اس حوالے سے برطانیہ پر غصہ بھی دکھائیں گے اور کوئی ایسی ڈیل نہیں کریں گے تاہم وقت کا انتظار کرنا چاہیے۔ دوسرا آپشن کینیڈین سٹائل ٹریڈ ڈیل ہے۔ یعنی ایسی ٹریڈ ڈیل جیسی اس وقت ای یو اور کینیڈا کے درمیان ہے یہ ایک فری ٹریڈ ڈیل نہیں ہے۔ اس میں پولٹری، گوشت اور انڈوں پر ٹیکس کا اطلاق ہے۔ اس میں بہت سی ایسی مصنوعات اور معاہدے ہیں جن میںصرف کینیڈین اور ای یو بھی آپس میں ڈیل کرسکتے ہیں۔ مثلا فرانس کی ریلوے کینیڈین بنائیں گے یہاں یہ بھی اعداد و شمار غور طلب ہیں کہ 2018 میںبرطانیہ نے ای یو کو اشیاء اور سروسز میں 291 بلین پونڈ کی برآمدات کیں جو کہ برطانیہ برآمدات کا 45فیصد ہے جبکہ 357 بلین پونڈ کی درآمدات کیں جو کل کا53فیصد ہے جبکہ انہی برسوں میں کینیڈا نے صرف 26بلین پونڈ کی اشیاء بر آمد کیں جوکہ اس کی کل برآمدات کا صرف 8فیصد ہے۔ جبکہصرف 10فیصد درآمدات کیں۔ اگر ای یو نے کینیڈین سٹائل تجارتی معاہدات نہ کئے تو پھر برطانیہ کسی قسم کی ڈیل سے باہر ہوجائے گا اور ساری دنیا سے نئے سرے سے معاہدات ہونگے جس سے لگتا ہے برطانیہ میں مہنگائی کا بڑا طوفان آئے گا۔ اسی طرح آئر لینڈ کا ایشو ہے۔ آئرش تو چاہتے ہیں کہ ان کے اور ریپبلک آف آئر لینڈ کے 400 میل کے بارڈرپرموجود سٹرکوں اور پلوں پر اسی طرح مہینے میں2 ملین کاریں آتی جاتی رہیں اور ان کی پرانی قربت برقرار رہے لیکن ای یو والے ایسے کہاں تک ہونے دیں اس کا علم 31دسمبر 2020 تک ہی ہوسکےگا۔ البتہ برطانیہ کو آئر لینڈ کو ساتھ رکھنے میں بڑی مشکل پیدا ہوجائے گی کیونکہ تاریخی طور پر شمالی آئر لینڈ کی اصل قربت برطانیہ کے ساتھ نہیں بلکہ ریپبلکن آئرلینڈ کے ساتھ ہے۔ یہی بورس جانسن کے امتحان کا وقت ہے۔

یورپ سے سے مزید